ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 69

وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکۡرٰی لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾
اور ان لوگوں کے ذمے جو بچتے ہیں، ان کے حساب میں سے کوئی چیز نہیں اور لیکن یاد دہانی ہے، تاکہ وہ بچ جائیں۔ En
اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں
En
اور جو لوگ پرہیزگار ہیں ان پر ان کی باز پرس کا کوئی اﺛر نہ پہنچے گا اور لیکن ان کے ذمہ نصیحت کردینا ہے شاید وه تقویٰ اختیار کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69) {وَ مَا عَلَى الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ …:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی اگر کوئی متقی شخص چاہے کہ ایسے جاہلوں کے پاس نصیحت کے لیے بھی نہ بیٹھے تو اس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ نہ بیٹھے تو اس پر ان کے گمراہ رہنے کا کوئی گناہ نہیں، البتہ انھیں نصیحت کرے تو بہتر ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ڈر جائیں تو اسے نصیحت کرنے کا ثواب مل جائے۔(موضح) اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پرہیز گار لوگ اگر ان کی مجلس میں نصیحت کے لیے بیٹھ جائیں تو کچھ حرج نہیں ہے، لیکن ہم نے جو کنارہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس نصیحت کے پیش نظر کہ شاید تمھارے کنارہ کرنے کی وجہ سے وہ اس قسم کی بے ہودگی سے باز آ جائیں۔ واللہ اعلم! (ابن کثیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

69۔ 1 مِنْ حِسَابِھِمْ کا تعلق آیات الٰہی کا استہزاد (جھٹلانے) کرنے والوں سے ہے۔ یعنی وہ لوگ جو ایسی مجالس سے اجتناب کریں گے کہ اللہ کا جو گناہ استہزاد کرنے والوں کو ملے گا وہ اس گناہ سے محفوظ رہیں گے۔ 69۔ 2 یعنی اجتناب و علیحدگی کے باوجود وعظ و نصیحت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ حتی المقدر ادا کرتے رہیں۔ شاید وہ بھی اپنی اس حرکت سے باز آجائیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ ان ظالموں کے حساب میں کسی چیز کی ذمہ داری [76] ان لوگوں پر نہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ مگر نصیحت کرنا ان پر فرض ہے تاکہ وہ غلط کاموں سے بچیں
[76] کفار مکہ کی مجالس استہزاء میں بیٹھنے کی ممانعت اور استثنائی صورت:۔
ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جو لوگ مجلسوں میں بیٹھ کر اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے گناہوں کا بار انہی پر ہے اور جو لوگ ایسی مجلسوں میں شامل ہونے یا بیٹھنے سے گریز کرتے ہیں ان پر نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص اس غرض سے ایسی مجلسوں میں جائے کہ انہیں جا کر سمجھائے اور نصیحت کرے تو یہ جائز بلکہ ضروری ہے۔ ممکن ہے وہ اس نصیحت سے متاثر ہو کر اپنی کرتوتوں سے باز آجائیں۔ تاہم یہ حکم صرف مجالس سے ہی مخصوص نہیں بلکہ عام ہے۔ ظالموں کے گناہوں کا بار انہیں پر ہے جو لوگ ان سے اجتناب کرتے ہیں اور ان سے کسی قسم کا تعاون نہیں کرتے۔ ان پر نہیں بلکہ نھی عن المنکر کا فریضہ ہر شخص پر اور ہر ضرورت کے وقت واجب ہے اور اس سے بعض لوگوں کو فی الواقع ہدایت نصیب ہو ہی جاتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّلٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اور پرہیز گاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن ان کے ذمے نصیحت کرنی ہے تاکہ وہ ڈریں یعنی صرف اس لیے وہ ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائیں۔
اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وعظ و نصیحت کرنے والا ایسا اسلوب کلام استعمال کرے جو مقصود تقویٰ کے حصول میں زیادہ ممد اور کارگر ہو اور اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر وعظ و نصیحت سے برائی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہو تو وعظ و نصیحت ترک کرنا واجب ہے کیونکہ جو وعظ و نصیحت مطلوب و مقصود کے مخالف ہو تو اس کو ترک کرنا بھی مقصود ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما على الذين يتَّقون من حسابِهم من شيءٍ ولكن ذِكْرى لعلَّهم يتَّقون}؛ أي: ولكن لِيذكِّرَهم ويَعِظَهم لعلَّهم يتَّقون الله تعالى. وفي هذا دليلٌ على أنه ينبغي أن يستعملَ المذكِّر من الكلام ما يكون أقربَ إلى حصول مقصود التقوى، وفيه دليلٌ على أنه إذا كان التذكير والوعظ مما يزيد الموعوظَ شرًّا إلى شرِّه؛ كان تركُهُ هو الواجب ؛ لأنَّه إذا ناقض المقصود؛ كان تركُهُ مقصوداً.