ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 62

ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ ؕ اَلَا لَہُ الۡحُکۡمُ ۟ وَ ہُوَ اَسۡرَعُ الۡحٰسِبِیۡنَ ﴿۶۲﴾
پھر وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے، جو ان کا سچا مالک ہے، سن لو! اسی کا حکم ہے اور وہی سب حساب لینے والوں سے زیادہ جلد (حساب لینے والا) ہے۔ En
پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے
En
پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس ﻻئے جائیں گے۔ خوب سن لو فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا اور وه بہت جلد حساب لے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) {ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ:} پھر اللہ تعالیٰ جو ان کا سچا مالک ہے، جس نے اپنے حکم سے انھیں دنیا میں بھیجا تھا، اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 آیت میں ردوا (لوٹائے جائیں گے) کا مرجع بعض نے فرشتوں کو قرار دیا ہے۔ یعنی قبض روح کے بعد فرشتے اللہ کی بارگاہ لوٹ جاتے ہیں۔ اور بعض نے اس کا مرجع تمام لوگوں کو بنایا ہے۔ یعنی سب لوگ حشر کے بعد اللہ کی بارگاہ میں لوٹائے جائیں گے (پیش کئے جائیں گے) پھر وہ سب کا فیصلہ فرمائے گا۔ آیت میں روح قبض کرنے والے فرشتوں کو رسل (جمع کے صیغے کے ساتھ) بیان کیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والا فرشتہ ایک نہیں متعدد ہیں۔ اس کی تشریح بعض مفسرین نے اسطرح کی ہے کہ قرآن مجید میں روح قبض کرنے کی نسبت اللہ کی طرف بھی ہے۔ (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا) 39:42 اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے " اور اس کی نسبت ایک فرشتے (ملک الموت) کی طرف بھی کی گئی ہے (ـ قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ) 32:11 ' کہہ دو تمہاری روحیں وہ فرشتہ موت قبض کرتا ہے جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے ' اور اس کی نسبت متعدد فرشتوں کی طرف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ اس مقام پر ہے اور اسی طرح سورة نساء آیت 97 اور الانعام آیت 93 میں بھی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت اس لحاظ سے ہے کہ وہی اصل امر (حکم دینے والا) بلکہ فاعل حقیقی ہے۔ متعدد فرشتوں کی طرف نسبت اس لحاظ سے ہے کہ وہ ملک الموت کے مددگار ہیں وہ رگوں شریانوں پٹھوں سے روح نکالنے اور اس کا تعلق ان تمام چیزوں سے کاٹنے کا کام کرتے ہیں اور ملک الموت کی طرف نسبت کے معنی یہ ہیں کہ پھر آخر میں وہ روح قبض کر کے آسمانوں کی طرف لے جاتا ہے (تفسیر روح المعانی جلد 5) حافظ ابن کثیر امام شوکانی اور جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ملک الموت ایک ہی ہے جیسا کہ سورة الم السجدہ کی آیت سے اور مسند احمد میں حضرت براء بن عازب ؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے اور جہاں جمع کے صیغے میں ان کا ذکر ہے تو وہ اس کے اعوان و انصار ہیں اور بعض آثار میں ملک الموت کا نام عزرائیل بتلایا گیا ہے تفسیر ابن کثیر واللہ اعلم

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ پھر ان روحوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ [68] جو ان کا حقیقی مالک ہے۔ سن لو! فیصلہ کے جملہ اختیارات اسی کے پاس ہیں اور اسے حساب [69] لینے میں کچھ دیر نہیں لگتی
[68] موت کے بعد کے احوال اور قبر میں سوال و جواب:۔
اس بارے میں بہت سی احادیث وارد ہیں۔ مختصراً یہ کہ جب فرشتے انسان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو فرشتوں کے رویہ سے ہی مرنے والے کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اہل جنت سے ہے یا اہل دوزخ سے۔ جنتی کی روح کو ریشم کے کپڑوں میں لپیٹ کر آسمان کی طرف جاتے ہیں تو اس روح کی خاصی پذیرائی ہوتی ہے اور آسمان کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے پھر اسے عزت و اکرام سے واپس بھیج دیا جاتا ہے اور یہ روح اپنی میت کے ساتھ ساتھ رہتی ہے اور پکارتی رہتی ہے کہ مجھے جلدی جلدی تدفین کے لیے لے چلو۔ پھر تدفین کے بعد قبر میں جب سوال و جواب ہو چکتے ہیں تو اسے مقام علیین پہنچا دیا جاتا ہے اور دوزخی کی روح کو فرشتے بدبو دار کپڑوں میں لپیٹ کر آسمان کی طرف لے جاتے ہیں تو اس کے لیے دروازہ ہی نہیں کھلتا پھر اسے وہاں سے اپنی میت کی طرف پھینک دیا جاتا ہے اور وہ پکار پکار کر کہتی ہے کہ مجھے تدفین کے لئے نہ لے جاؤ۔ پھر جب تدفین کے بعد قبر میں سوال و جواب ہوتے ہیں اور وہ اس امتحان میں ناکام رہتا ہے تو مقام سجین میں قیامت تک کے لیے قید کر دیا جاتا ہے۔
[69] یعنی عذاب و ثواب کا سلسلہ مرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے پھر قبر میں جنتی کے لیے جنت کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور وہ قیامت تک ایسے اکرام اور مسرت کی نیند سوتا ہے جیسے کوئی دلہن سوتی ہے اور دوزخی کے لیے دوزخ کی طرف کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے طرح طرح کا عذاب شروع ہو جاتا ہے اور یہ عذاب و ثواب قیامت کے بعد کے عذاب و ثواب کی نسبت بہت ہلکے ہوتے ہیں۔ قیامت کو حساب و کتاب کے بعد دوزخی کو جو عذاب ہو گا وہ اس سے شدید تر ہو گا۔ اسی طرح جنتی پر جو انعامات ہوں گے وہ قبر کے انعام سے بہت زیادہ ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ پھر موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے ﴿ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰ٘ىهُمُ الْحَقِّ پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے، پھر وہ امرونہی اور حکم شرعی کے ذریعے سے ان کا والی ہے، اس نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتابیں نازل کیں پھر ان کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا وہ ان میں اپنا حکم جزائی نافذ کرے گا اور ان کو ان کے اچھے اعمال کا ثواب عطا کرے گا اور ان کی بدیوں اور برائیوں کی پاداش میں انھیں عذاب دے گا۔ ﴿ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ سن رکھو! حکم اسی کا ہے وہ اکیلا جس کا کوئی شریک نہیں، فیصلے کا مالک ہے ﴿ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰؔسِبِیْنَ اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے اور اس نے ان کے اعمال کو بھی محفوظ کیا ہوا ہے، پہلے اس نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کیا، پھر فرشتوں نے اپنی اس کتاب میں ثبت کیا جو ان کے ہاتھوں میں ہے۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، وہ اپنے بندوں کو ان کے تمام احوال میں درخور اعتنا سمجھتا ہے، وہی حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کا مالک ہے، پھر مشرکین کیوں کر اس ہستی سے روگردانی کر کے جو ان صفات کی مالک ہے ایسی ہستیوں کی بندگی اختیار کرتے ہیں جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں جو ذرہ بھر نفع کی مالک نہیں اور ان میں کوئی قدرت اور ارادہ نہیں؟
ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کھلے عام کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت پر بہتان کی جرأت کرتے ہیں اور وہ ان کو معاف کر دیتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے اللہ کی قسم! اگر انھیں یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کتنا حلیم ہے اور اس کا عفو اور اس کی رحمت ان پر سایہ کناں ہے تو ان کے داعیے اس کی معرفت کی طرف خود بخود کھنچے چلے آئیں اور ان کی عقل اس کی محبت میں (دیگر ہر شے سے) غافل ہو جائے اور وہ خود اپنے آپ پر سخت ناراض ہوں کیونکہ انھوں نے شیطان کے داعی کی اطاعت کی جو رسوائی اور خسارے کا موجب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے عاری ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم}: بعد الموت والحياة البرزخيَّة وما فيها من الخير والشر، {رُدُّوا إلى الله مولاهم الحقِّ}؛ أي: الذي تولاَّهم بحكمه القدري فنفذ فيهم ما شاء من أنواع التدبير، ثم تولاَّهم بأمره ونهيه وأرسل إليهم الرسل وأنزل عليهم الكتب، ثم رُدُّوا إليه ليتولَّى الحكم فيهم بالجزاء. ويثيبَهم على ما عملوا من الخيرات ويعاقِبَهم على الشرور والسيئات، ولهذا قال: {ألا له الحكمُ}: وحدَه لا شريك له، {وهو أسرعُ الحاسبينَ}: لكمال علمِهِ وحفظِهِ لأعمالهم بما أثبته في اللوح المحفوظ ثم أثبتته ملائكته في الكتاب الذي بأيديهم.

فإذا كان تعالى هو المنفرد بالخلق والتدبير، وهو القاهر فوق عباده، وقد اعتنى بهم كل الاعتناء في جميع أحوالهم، وهو الذي له الحكم القدري والحكم الشرعي والحكم الجزائي؛ فأين للمشركين العدول عن مَن هذا وصفه ونعته إلى عبادة من ليس له من الأمر شيء ولا عنده مثقال ذرةٍ من النفع ولا له قدرة وإرادة، أما والله؛ لو علموا حلم الله عليهم، وعفوه ورحمته بهم، وهم يبارزونه بالشرك والكفران، ويتجرؤون على عظمته بالإفك والبهتان، وهو يعافيهم ويرزقهم؛ لانجذبت دواعيهم إلى معرفته، وذهلت عقولهم في حبِّه، ولمقتوا أنفسهم أشدَّ المقت حيث انقادوا لداعي الشيطان، الموجب للخزي والخسران، ولكنهم قومٌ لا يعقلون.