وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡہُ رُسُلُنَا وَ ہُمۡ لَا یُفَرِّطُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر کئی محافظ بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تمھارے کسی ایک کو موت آتی ہے اسے ہمارے بھیجے ہوئے قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔
En
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے
En
اور وہی اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور تم پر نگہداشت رکھنے والے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچتی ہے، اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کرلیتے ہیں اور وه ذرا کوتاہی نہیں کرتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 61) ➊ {وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ:} {” هُوَ “} اس جملے میں مبتدا ہے، {” الْقَاهِرُ “} خبر پر الف لام آنے کی وجہ سے ترجمہ ”وہی“ کیا ہے۔ {” الْقَاهِرُ “} کے معنی غالب ہیں اور یہ {” اَلْقَادِرُ “} سے زائد صفت ہے، یعنی خود قادر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو مراد حاصل کرنے سے روک دینے والا بھی ہے۔ (بغوی) اللہ تعالیٰ کی صفت قہاریت یہ ہے کہ وہ کائنات کو عدم سے وجود میں لایا، پھر وجود پر فنا اور خرابی طاری کرتا رہتا ہے، تو کائنات میں جس قدر بھی پیدا کرنے اور فنا کرنے کا کام ہو رہا ہے سب اللہ تعالیٰ کی قہاریت کا مظہر ہے۔ سورۂ آل عمران کی آیات (۲۶، ۲۷) اس صفت کی پوری تشریح کر رہی ہیں۔
➋ {وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً:} حفاظت کرنے والے کچھ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی آفات سے حفاظت کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» [الرعد: ۱۱] ”اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“ اور کچھ وہ ہیں جو انسان کا عمل لکھتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ(10)كِرَامًا كَاتِبِيْنَ(11)يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ» [الانفطار: ۱۰ تا ۱۲] ”حالانکہ بلاشبہ تم پر یقینا نگہبان (مقرر) ہیں۔ جو بہت عزت والے لکھنے والے ہیں۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔“
➌ {حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ …:} فوت کرنے والے فرشتے کا نام عزرائیل مشہور ہے، لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ نے ایسی تمام روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ [أحکام الجنائز، باب بدع الجنائز، حاشیہ بدعۃ، رقم: ۹۲] قرآن مجید میں اسے ملک الموت کہا گیا ہے، فرمایا: «قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ» [السجدۃ: ۱۱] ”کہہ دے تمھیں موت کا فرشتہ قبض کر لے گا۔“
{” تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا “} سے معلوم ہوتا ہے کہ موت والے کئی فرشتے ہیں اور کئی آیات میں اللہ تعالیٰ کے روح قبض کرنے کا ذکر ہے، جیسے فرمایا: «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا» [الزمر: ۴۲] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔“ ان تمام آیات کو مد نظر رکھیں تو صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، جس کے حکم سے سب کچھ ہوتا ہے، پھر ملک الموت ہے، جو اکثر علماء کے نزدیک ایک ہی ہے، البتہ اس کے معاون رحمت اور عذاب کے فرشتے کئی ہیں، جیسا کہ زیر تفسیر آیت اور براء بن عازب رضی اللہ عنھما کی حدیث میں آیا ہے کہ ملک الموت کے ساتھ رحمت اور عذاب کے فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
➍ {وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ:} یعنی جس کی جان قبض کرتے ہیں اللہ کے حکم سے اس کے مقررہ وقت پر کرتے ہیں، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
➋ {وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً:} حفاظت کرنے والے کچھ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی آفات سے حفاظت کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» [الرعد: ۱۱] ”اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“ اور کچھ وہ ہیں جو انسان کا عمل لکھتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ(10)كِرَامًا كَاتِبِيْنَ(11)يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ» [الانفطار: ۱۰ تا ۱۲] ”حالانکہ بلاشبہ تم پر یقینا نگہبان (مقرر) ہیں۔ جو بہت عزت والے لکھنے والے ہیں۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔“
➌ {حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ …:} فوت کرنے والے فرشتے کا نام عزرائیل مشہور ہے، لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ نے ایسی تمام روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ [أحکام الجنائز، باب بدع الجنائز، حاشیہ بدعۃ، رقم: ۹۲] قرآن مجید میں اسے ملک الموت کہا گیا ہے، فرمایا: «قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ» [السجدۃ: ۱۱] ”کہہ دے تمھیں موت کا فرشتہ قبض کر لے گا۔“
{” تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا “} سے معلوم ہوتا ہے کہ موت والے کئی فرشتے ہیں اور کئی آیات میں اللہ تعالیٰ کے روح قبض کرنے کا ذکر ہے، جیسے فرمایا: «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا» [الزمر: ۴۲] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔“ ان تمام آیات کو مد نظر رکھیں تو صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، جس کے حکم سے سب کچھ ہوتا ہے، پھر ملک الموت ہے، جو اکثر علماء کے نزدیک ایک ہی ہے، البتہ اس کے معاون رحمت اور عذاب کے فرشتے کئی ہیں، جیسا کہ زیر تفسیر آیت اور براء بن عازب رضی اللہ عنھما کی حدیث میں آیا ہے کہ ملک الموت کے ساتھ رحمت اور عذاب کے فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
➍ {وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ:} یعنی جس کی جان قبض کرتے ہیں اللہ کے حکم سے اس کے مقررہ وقت پر کرتے ہیں، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
61۔ 1 یعنی اپنے اس مفوضہ کام میں اور روح کی حفاظت میں بلکہ وہ فرشتہ، مرنے والا اگر نیک ہوتا ہے تو اس کی روح عِلِّیِّیْنَ میں اور اگر بد ہے تو سِجِّیْنَ میں بھیج دیتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
61۔ وہ اپنے بندوں پر پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگران [66] (فرشتے) بھیجتا ہے۔ حتیٰ کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ (اپنے کام میں) ذرہ بھر کوتاہی [67] نہیں کرتے
[66] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں دن اور رات کے فرشتے ایک دوسرے کے بعد باری باری آتے رہتے ہیں۔ عصر اور فجر کی نماز کے وقت وہ جمع ہو جاتے ہیں پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے پاس رہے تھے اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ ”تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟“ حالانکہ وہ تم سے خوب واقف ہوتا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں ”ہم نے جب انہیں چھوڑا وہ نماز پڑھ رہے تھے۔“ اور ”جب ان کے پاس گئے تو بھی نماز پڑھ رہے تھے۔“ [بخاری۔ کتاب مواقیت الصلٰوۃ۔ باب فضل صلٰوۃ العصر۔ بخاری کتاب التوحید۔ باب قول اللہ تعرج الملئکۃ والروح الیہ]
حفاظت کرنے والے اور اعمال لکھنے والے فرشتے:۔
اس حدیث میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو انسان کا نامہ اعمال مرتب کرتے ہیں۔ رات کے فرشتے الگ ہیں اور دن کے الگ۔ ان کے علاوہ کچھ فرشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس کی جان کی حفاظت کرتے ہیں۔ بسا اوقات ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں جب انسان اپنی موت اپنے سامنے کھڑی دیکھ لیتا ہے۔ لیکن حالات کا رخ ایسا پلٹا کھاتا ہے کہ اس کی جان بچ جاتی ہے اور وہ خود یہ اعتراف کرتا ہے کہ ”اس وقت اللہ ہی تھا جس نے اس کی جان بچا لی۔“ یا یہ کہ ”ابھی زندگی باقی تھی ورنہ بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔“ اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ ابھی اس انسان کی موت کا معین وقت آیا نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان فرمایا: ﴿قُلْ مَنْ يَّكْلَؤُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ﴾ انسانی زندگی اور موت کے سب مراحل اضطراری ہیں۔ اس آیت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ﴾ یعنی تمام مخلوقات اور انسان اللہ تعالیٰ کے طبعی قوانین کے سامنے بالکل بے کس اور مجبور محض ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ہر شخص کی شکل و صورت جیسے خود چاہی ویسی ہی بنا دی۔ اس میں اس کا اپنا کچھ عمل دخل نہ تھا۔ پھر جب پیدا ہوا اور ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو اس وقت بھی اس کی اپنی مرضی کو کچھ عمل دخل نہ تھا۔ پھر پیدا ہو کر وہ کھانے پینے پر مجبور ہے تاکہ اس کی تربیت اور پرورش ہو۔ اسی طرح وہ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل طے کرنے پر بھی مجبور ہے اور جنسی ملآپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی مجبور ہے لیکن اولاد پیدا کرنے میں اس کا کچھ عمل دخل نہیں۔ چاہے تو کسی نادار کو کثیرالاولاد بنادے اور چاہے تو کسی امیر کبیر کو اولاد سے محروم کر دے۔ پھر وہ اپنے مرنے پر بھی مجبور ہے اور زندگی کے دن پورے کرنے پر بھی جب تک اس کی موت کا متعین وقت نہ آئے خواہ وہ کیسے ہی حوادث سے دو چار ہو فرشتے اس کی جان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اور جب وہ معین وقت آجاتا ہے کوئی حکیم، کوئی ڈاکٹر یا اس کا مال و دولت اور اس کے نہایت قریبی رشتہ دار اسے موت کے منہ سے بچا نہیں سکتے۔ پھر رزق کے حصول میں بھی بہت حد تک مجبور ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ امیر کبیر بن جائے لیکن اسے رزق ملتا اتنا ہی ہے جو اس کے مقدر میں ہوتا ہے اور جو مقدر میں ہوتا ہے وہ مل کے رہتا ہے۔ بعینہ انسان موت کے بعد کی منازل یعنی دوبارہ زندہ ہو جانے، اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اللہ کے حضور پیش ہو جانے اور ان اعمال کی جزا و سزا پانے پر مجبور ہے اور کوئی چیز اسے ان نتائج سے نہ بچا سکتی ہے، نہ آڑے آ سکتی ہے اور ان تمام معاملات میں اس کی اپنی مرضی کو کچھ بھی عمل دخل نہیں ہو گا اور یہی اس جملہ کا مطلب ہے۔ [67] یعنی وہ اپنی ڈیوٹی میں کسی طرح کی غفلت نہیں کرتے۔ انسان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا فعل یا عمل یا قول ایسا نہیں ہوتا جسے فرشتے اس کے نامہ اعمال میں لکھ نہ لیتے ہوں۔ یا جس شخص کی ابھی موت نہ آئی ہو اس کی حفاظت نہ کریں اور وہ معینہ وقت سے پہلے مر جائے۔ یا کسی کا معینہ وقت آ چکا ہو لیکن اس کی روح کو قبض نہ کریں۔ یا موت تو زید کی معین ہو اور وہ اس کے بجائے بکر کی روح قبض کر لیں۔ ان میں سے کوئی صورت بھی ممکن نہیں ہوتی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے حکم میں کسی طرح کی کمی بیشی کر ہی نہیں سکتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نیند موت کی چھوٹی بہن ٭٭
«وفاۃ صغریٰ» یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے «اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ» [3-آل عمران:55] یعنی ’ جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں ‘۔
اور جیسے اس آیت میں ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:42] یعنی ’ اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لیے پھر بھیج دیتا ہے ‘۔
اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں، وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» ۱؎ [6۔ الأنعام:60] جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13۔ الرعد:10] یعنی ’ چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:73] یعنی ’ یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا ‘۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا» ۱؎ [78۔النبأ:11۔10] ’ رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا ‘۔
یہاں فرمایا ’ رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے ‘۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ’ وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے ‘ لیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں۔
اور جیسے اس آیت میں ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:42] یعنی ’ اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لیے پھر بھیج دیتا ہے ‘۔
اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں، وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» ۱؎ [6۔ الأنعام:60] جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13۔ الرعد:10] یعنی ’ چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:73] یعنی ’ یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا ‘۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا» ۱؎ [78۔النبأ:11۔10] ’ رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا ‘۔
یہاں فرمایا ’ رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے ‘۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ’ وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے ‘ لیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ { ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الٰہی لوٹا دیتا ہے }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:29/3:ضعیف]
یہی معنی اس آیت کے جملے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ» ۱؎ [6۔ الأنعام:60] کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں۔
جیسے فرمان عالیشان ہے آیت «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» ۱؎ [13۔الرعد:11] پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الٰہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [82-الانفطار:12-10] ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت «اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» ۱؎ [50-ق:17] میں ہے۔
یہی معنی اس آیت کے جملے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ» ۱؎ [6۔ الأنعام:60] کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں۔
جیسے فرمان عالیشان ہے آیت «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» ۱؎ [13۔الرعد:11] پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الٰہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [82-الانفطار:12-10] ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت «اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» ۱؎ [50-ق:17] میں ہے۔
پھر فرمایا ’ یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ملک الموت کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں۔“
اس کا مفصل بیان آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ملک الموت کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں۔“
اس کا مفصل بیان آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرمایا ’ وہ کوئی کمی نہیں کرتے ‘ یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولٰی کی طرف بلا لیے جائیں گے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے)۔
اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لیے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:364/2:صحیح] جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے)۔
اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لیے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:364/2:صحیح] جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔
’ پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ‘، اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ’ کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے ‘۔
اور آیت میں ہے آیت «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے ‘۔
یہاں بھی فرمایا کہ «مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ’ اپنے سچے مولٰی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا ‘۔
اور آیت میں ہے آیت «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے ‘۔
یہاں بھی فرمایا کہ «مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62] ’ اپنے سچے مولٰی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا ‘۔