تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ:} یعنی اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور پوشیدہ سے پوشیدہ چیز لوح محفوظ میں درج ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کسی عراف (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھے اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔“ [مسلم۔ باب السلام۔ باب تحريم الكهانة و اتيان الكهان]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کسی کاہن کے پاس جا کر اس سے کچھ دریافت کرے، پھر اس کی تصدیق کرے تو اس نے اس چیز سے کفر کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔“ [ابو داؤد باب الكهانت والتفسير۔ باب النهي عن اتيان الكهان]
3۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادوگر کافر ہے“ [بخاري كتاب المناقب۔ باب ايام الجاهلية]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ ہی جانتا ہے (یعنی) قیامت کب آئے گی؟ وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام میں کیا کچھ (تغیر و تبدل) ہوتا رہتا ہے۔ نیز کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کرے گا اور نہ ہی وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کس جگہ مرے گا۔ اللہ ہی ان باتوں کو جاننے والا اور باخبر ہے۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الآية العظيمة من أعظم الآيات تفصيلاً لعلمه المحيط، وأنَّه شامل للغيوب كلِّها، التي يُطْلِعُ منها ما شاء من خلقه، وكثير منها طوى علمَهُ عن الملائكة المقرَّبين والأنبياء المرسلين فضلاً عن غيرهم من العالمين، وأنَّه يعلم ما في البراري والقفار من الحيوانات والأشجار والرمال والحصى والتراب، وما في البحار من حيواناتها ومعادنها وصيدها وغير ذلك مما تحتويه أرجاؤها ويشتمل عليه ماؤها. {وما تسقُطُ من ورقةٍ}: من أشجار البر والبحر والبلدان والقفر والدنيا والآخرة إلاَّ يعلمها، {ولا حبةٍ في ظلمات الأرض}: من حبوب الثمار والزُّروع وحبوب البذور التي يبذرها الخلقُ وبذور النوابت البريَّة التي ينشأ منها أصناف النباتات، {ولا رطبٍ ولا يابس}: هذا عموم بعد خصوص {إلَّا في كتابٍ مبينٍ}: وهو اللوحُ المحفوظُ؛ قد حواها واشتمل عليها، وبعضُ هذا المذكور يبهر عقول العقلاء، ويذهِلُ أفئدة النبلاء، فدلَّ هذا على عظمة الربِّ العظيم وسعته في أوصافه كلِّها، وأنَّ الخلق من أولهم إلى آخرهم لو اجتمعوا على أن يحيطوا ببعض صفاته؛ لم يكنْ لهم قدرةٌ ولا وسعٌ في ذلك، فتبارك الربُّ العظيم الواسع العليم الحميد المجيد الشهيد المحيط، وجلَّ مِن إلهٍ لا يُحْصي أحدٌ ثناءً عليه، بل هو كما أثنى على نفسِهِ وفوق ما يثني عليه عباده. فهذه الآية دلَّت على علمه المحيط بجميع الأشياء وكتابه المحيط بجميع الحوادث.