ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 57

قُلۡ اِنِّیۡ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ کَذَّبۡتُمۡ بِہٖ ؕ مَا عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ یَقُصُّ الۡحَقَّ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡفٰصِلِیۡنَ ﴿۵۷﴾
کہہ دے بے شک میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، میرے پاس وہ چیز نہیں ہے جسے تم جلدی مانگ رہے ہو، فیصلہ اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں، وہ حق بیان کرتا ہے اور وہی فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ En
کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم الله ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
En
آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو ایک دلیل ہے میرے رب کی طرف سے اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو، جس چیز کی تم جلدبازی کر رہے ہو وه میرے پاس نہیں۔ حکم کسی کا نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اللہ تعالیٰ واقعی بات کو بتلا دیتا ہے اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے واﻻ وہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 57) ➊ {قُلْ اِنِّيْ عَلٰى بَيِّنَةٍ …:} کہہ دیجیے کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلیل، یعنی وحی الٰہی موجود ہے، جس کا اصل الاصول توحید ہے، اسے تم نے جھٹلایا۔ اب جس عذاب کے جلدی لانے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں۔ عذاب لانے یا نہ لانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔
➋ {اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ:} معلوم ہوا کہ انبیاء کو معجزات پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، یہ اختیار صرف اللہ عزوجل کے پاس ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

57۔ 1 مراد وہ شریعت ہے جو وحی کے ذریعے سے آپ پر نازل کی گئی، جس میں توحید کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ ان اللہ لا ینظر الی صورکم ولا الی اموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم (صحیح مسلم) 57۔ 2 تمام کائنات پر اللہ ہی کا حکم چلتا ہے اور تمام معاملات اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لئے تم جو چاہتے ہو کہ جلدی اللہ کا عذاب تم پر آجائے تاکہ تمہیں میری صداقت کا پتہ چل جائے، تو یہ بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے، وہ اگر چاہے تو تمہاری خواہش کے مطابق جلدی عذاب بھیج کر تمہیں متنبہ کر دے اور چاہے تو اس وقت تک مہلت دے دے جب تک اس کی حکمت اس کی متقضی ہو۔ 57۔ 3 یَقُصُّ قَصَصْ سے ہے یعنی یَقُصُّ قَصَصَ الْحَق حق باتیں بیان کرتا یا بتلاتا ہے یا قص اثرہ (کسی کے پیچھے پیروی کرنا) سے ہے یعنی یتبع الحق فیما یحکم بہ اپنے فیصلوں میں وہ حق کی پیروی کرتا ہے یعنی حق کے مطابق فیصلے کرتا ہے (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ آپ ان سے کہئے کہ ”میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل (قرآن) پر قائم ہوں جسے تم نے جھٹلا دیا ہے اور جس چیز کی تم جلدی [61] کر رہے ہو (عذاب کی) وہ میرے پاس نہیں۔ حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے جو حق ہی بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
[61] اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا؟ اس آیت میں ایسے مجرموں یا ہٹ دھرموں کی ایک اور صفت بیان کی گئی ہے۔ کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ اگر تم سچے نبی ہوتے تو تم اور تمہارے ساتھی ایسی بے بسی اور درماندگی کی حالت میں کیوں ہوتے؟ اور جس طرح ہم تم لوگوں پر سختیاں کر رہے ہیں اگر تم سچے ہوتے تو اب تک ہم پر وہ عذاب آجانا چاہیے تھا جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ مجرموں کی اسی بات کا جواب اللہ نے یہ دیا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میرے اپنے اطمینان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ ٹھیک ٹھیک اس راہ راست پر جا رہا ہوں جو اللہ نے میری طرف وحی کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ تم پر وہ عذاب اب تک کیوں نہیں آچکا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا عذاب لے آنا میرے اختیار میں نہیں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے۔ جب وہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنا چاہے گا تمہیں ایسے عذاب سے دوچار کر دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہی وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں۔ ﴿ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ میں تو آپ رب کی دلیل روشن پر ہوں۔ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوا کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جس ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔
﴿وَ مگر اے مشرکو! ﴿ؔكَذَّبْتُمْ بِهٖ تم نے اس کی تکذیب کی اور یہ تمھاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لامحالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔
اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں ﴿ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ حکم صرف اللہ کا ہے جس طرح اس نے اوامر و نواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسی طرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض در خور اعتنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کر دیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کر دیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہو گئی۔ تاکہ جو ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ ﴿وَهُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْ٘نَ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرتا ہے جس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ بھی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور متعین کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما ما أنا عليه من توحيد الله وإخلاص العمل له؛ فإنه هو الحقُّ الذي تقوم عليه البراهين والأدلة القاطعة، وأنا {على بيِّنة من ربي}؛ أي: على يقين مبينٍ بصحته وبطلان ما عداه. وهذه شهادةٌ من الرسول جازمةٌ لا تقبل التردُّد، وهو أعدل الشهود [من الخلق] على الإطلاق، فصدَّق بها المؤمنون، وتبيَّن لهم من صحَّتها وصدقها بحسب ما مَنَّ الله به عليهم، ولكنكم أيها المشركون {كذبتم به}، وهو لا يستحقُّ هذا منكم، ولا يَليقُ به إلاَّ التصديق، وإذا استمررتُم على تكذيبكم؛ فاعلموا أنَّ العذابَ واقعٌ بكم لا محالةَ، وهو عند الله، هو الذي ينزله عليكم إذا شاء وكيف شاء، وإن استعجلتم به؛ فليس بيدي من الأمر شيء، {إن الحُكْمُ إلا للهِ}؛ فكما أنه هو الذي حكم بالحكم الشرعيِّ فأمر ونهى؛ فإنه سيحكم بالحكم الجزائيِّ فيثيب ويعاقب بحسب ما تقتضيه حكمته؛ فالاعتراض على حكمه مطلقاً مدفوع، وقد أوضح السبيل وقصَّ على عباده الحقَّ قصًّا قَطَعَ به معاذيرَهم وانقطعتْ له حُجَّتُهم؛ ليهلِك مَن هَلَكَ عن بيِّنة ويحيا من حيَّ عن بيِّنة. {وهو خيرُ الفاصلينَ}: بين عبادِهِ في الدُّنيا والآخرة، فيفصل بينهم فصلاً يحمدُه عليه حتى من قضى عليه ووجَّه الحق نحوه.