تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ:} اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۲) کی تفسیر۔
➌ {اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ …:} جہالت کے ساتھ گناہ کا مطلب اس کے برے انجام کو نہ سمجھنا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۷) پہلے انذار (ڈرانا) تھا، اب تبشیر (خوش خبری) ہے، یعنی یہ اس کی رحمت کا اثر ہے کہ وہ اعمال سیئہ کو چھوڑ کر اعمال حسنہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ اصلاح کاروں سے مجرموں کا راستہ ممتاز اور خوب واضح ہو جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[58] 1۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب لکھی (جس میں یہ لکھا کہ) میری رحمت میرے غضب سے آگے نکل گئی۔ اور یہ بات اس کے پاس عرش پر لکھی ہوئی ہے۔“ [بخاري كتاب التوحيد۔ باب قول الله تعالىٰ:﴿ بل هو قرآن مجيد فى لوح محفوظ﴾]
2۔
3۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کا ذکر کیا۔ اللہ نے اس کو مال اور اولاد دی تھی۔ جب وہ مرنے لگا تو اپنے بیٹوں سے پوچھا: میں تمہارا کیسا باپ تھا؟ وہ کہنے لگے۔ اچھا باپ تھا۔ باپ نے کہا: دیکھو! میں نے کوئی نیکی اللہ کے ہاں جمع نہیں کی اور اگر میں اللہ کے ہاں پہنچ گیا تو وہ ضرور مجھے سزا دے گا۔ لہٰذا تم ایسا کرنا کہ میں جب مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو باریک پیس کر اس کے ذرات تیز آندھی میں بکھیر دینا۔ اس نے اپنی اولاد سے قسم دے کر یہ عہد لیا۔ چنانچہ اس کی اولاد نے اس کے مرنے کے بعد ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کن کہا تو وہ شخص اللہ کے حضور کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: میرے بندے! جو کچھ تو نے کیا ہے کونسی بات اس کی محرک بنی تھی؟ وہ کہنے لگا: فقط تیرے ڈر سے میں نے ایسا کیا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ڈرنے کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرما دیا (بخش دیا)۔ [بخاري۔ كتاب الرقاق۔ باب الخوف من الله]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قوم نوح نے کہا تھا «وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ» [11۔ ھود:27] یعنی ’ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے ‘۔
{ شاہ روم ہرقل نے جب ابوسفیان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے؟ یا ضعیف لوگوں نے؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7]
الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مذاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آ جائے اور ہم یونہی رہ جائیں؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت «لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ» [46۔ الاحقاف:11] ’ اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَيُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا» ۱؎ [19۔ مریم:73] ’ جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے؟ ‘
اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت «وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا» ۱؎ [19۔ مریم:74] یعنی ’ ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں ‘۔
چنانچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ ’ شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564]
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں { ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہٰ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابوطالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کر لیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہو گی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آ جائے اور ہم بھی مان لیں۔
ابوطالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟ اللہ عزوجل نے «وَأَنْذِرْ» سے «بِالشَّاكِرِينَ» تک آیتیں اتاریں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13264/11:مرسل و ضعیف]
یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات رضی اللہ عنہم اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» [6۔الأنعام:53] بھی نازل ہوئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت «وَاِذَا جَاءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [6۔الأنعام:54] نازل ہوئی۔
آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ’ ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رحم و کرم واجب کر لیا ہے ‘۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں”دنیا ساری جہالت ہے۔“
غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔
ابن مردویہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ ”میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں“ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں }۔
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لیے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے }۔ یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں، آیت «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ» ۱؎ [7۔ الأعراف:156] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے پوچھا { جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں }۔ پھر فرمایا: { جانتے ہو بندے جب یہ کر لیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7373] مسند احمد میں یہ حدیث بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما نهى الله رسوله عن طردِ المؤمنين القانتين؛ أمره بمقابلتِهِم بالإكرام والإعظام والتبجيل والاحترام، فقال: {وإذا جاءَكَ الذين يؤمنونَ بآياتِنا فَقُلْ سلامٌ عليكم}؛ أي: وإذا جاءك المؤمنون؛ فحيِّهم، ورحِّبْ بهم، ولقِّهم منك تحيةً وسلاماً، وبشِّرهم بما ينشِّط عزائمهم وهممهم من رحمة الله وسعة جوده وإحسانه، وحُثَّهم على كل سبب وطريق يوصِلُ لذلك، ورهِّبْهم من الإقامة على الذُّنوب، وأمُرْهم بالتوبة من المعاصي لينالوا مغفرةَ ربِّهم وجوده، ولهذا قال: {كَتَبَ ربُّكم على نفسِهِ الرحمةَ أنَّه من عَمِلَ منكم سوءاً بجهالةٍ ثمَّ تاب من بعدِهِ وأصلحَ}؛ أي: فلا بدَّ مع ترك الذُّنوب والإقلاع والندم عليها من إصلاح العمل وأداء ما أوجبَ الله وإصلاح ما فَسَدَ من الأعمال الظاهرة والباطنة؛ فإذا وُجِدَ ذلك كله؛ {فإنَّه غفورٌ رحيمٌ}؛ أي: صبَّ عليهم من مغفرتِهِ ورحمتِهِ بحسب ما قاموا به مما أمرهم به.