ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 23

ثُمَّ لَمۡ تَکُنۡ فِتۡنَتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۲۳﴾
پھر ان کا فریب اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے اللہ کی قسم! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔ En
تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے
En
پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوگا کہ وه یوں کہیں گے کہ قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی ہم مشرک نہ تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 22 میں تا آیت 24 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 فتنہ کے ایک معنی حجت اور ایک معنی معذرت کے کئے گئے ہیں، بالآخر یہ حجت یا معذرت پیش کر کے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہم تو مشرک ہی نہ تھے۔ اور امام ابن جریر نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں۔ ثم لم یکن قیلھم عند فتنتنا ایاھم اعتذارا مما سلف منھم من الشرک باللہ۔ (جب ہم انھیں سوال کی بھٹی میں جھونکیں گے تو دنیا میں جو انہوں نے شرک کیا، اس کی معذرت کے لئے یہ کہے بغیر ان کے لئے کوئی چارا نہ ہوگا کہ ہم تو مشرک ہی نہ تھے) یہاں یہ اشکال پیش نہ آئے کہ وہاں تو انسانوں کے ہاتھ پیر گواہی دیں گے اور زبانوں پر تو مہریں لگا دی جائیں گی پھر یہ انکار کس طرح کریں گے؟ اس کا جواب حضرت ابن عباس ؓ نے یہ دیا ہے کہ جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل توحید مسلمان جنت میں جا رہے ہیں تو یہ باہم مشورہ کر کے اپنے شرک کرنے سے انکار کردیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگادے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا اس کی گواہی دیں گے اور یہ اللہ سے کوئی بات چھپانے پر قادر نہ ہو سکیں گے (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ پھر انہیں کوئی بہانہ میسر نہ آئے گا الا یہ کہ یہ کہہ دیں: ”اے اللہ ہمارے پروردگار! تیری ذات کی قسم [26] ہم تو مشرک ہی نہ تھے۔“
[26] مشرکین مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی بھی اور ہماری بازپرس بھی ہوئی تو ہمارے یہ لات و عزیٰ ہمیں بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن تو دہشت ہی اس قدر ہو گی کہ نہ عابد اپنے معبود کو پہچان سکے گا اور نہ معبود عابد کو، حالانکہ عابد و معبود سب وہاں حاضر ہوں گے۔ اس وقت جب اللہ مشرکوں سے پوچھے گا کہ بتاؤ تمہارے معبود کدھر ہیں۔ جنہیں تم میرا شریک بنایا کرتے تھے؟ اس وقت وہ اپنے شرکیہ اعمال سے صاف مکر جائیں گے اور قسمیں اٹھا کر کہہ دیں گے کہ ہم نے تو کبھی کسی کو تیرا شریک بنایا ہی نہ تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت کے دن مشرکوں کا حشر ٭٭
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ’ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ ‘ سورۃ قصص کی آیت «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:62]‏‏‏‏ میں بھی یہ موجود ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ «فِتْنَتُهُمْ» ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔‏‏‏‏ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔
یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔‏‏‏‏
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» ۱؎ [58-المجادلة:18]‏‏‏‏ ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟
چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ «ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا» ۱؎ [40-غافر:73،74]‏‏‏‏ ’ جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے «ضَلُّوا عَنَّا» وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:23]‏‏‏‏ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔
اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ’ یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے ‘۔
جیسے کہ ابوطالب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔