وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۸﴾
اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہی کمال حکمت والا، ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔
En
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے
En
اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور وہی بڑی حکمت واﻻ اور پوری خبر رکھنے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) {وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ …: } یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کسی کو ولی نہیں بنانا چاہیے۔(رازی) مطلب یہ ہے کہ سب لوگ، خواہ بڑے سے بڑے جابر ہوں، اس کے سامنے بے بس ہیں، تمام گردنیں اس کے آگے جھکی ہوئی ہیں، وہ ہر ایک پر غالب ہے اور ساری کائنات اس کی مطیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دو صفات کمال قدرت اور علم میں سے پہلے جملے «وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ» میں کمال قدرت کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے جملے «وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» سے کمال علم ثابت ہوتا ہے، یعنی وہ اپنے احکام میں کمال حکمت والا اور اپنے بندوں کے معاملات کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔ (رازی) اس لیے غلبہ و تسلط کے باوجود اپنی مخلوق کے معاملے میں حکمت اور آگاہی کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یعنی تمام گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں، بڑے بڑے جابر لوگ اس کے سامنے بےبس ہیں، وہ ہر چیز پر غالب ہے اور تمام کائنات اس کی مطیع ہے وہ اپنے ہر کام میں حکیم ہے اور ہر چیز سے باخبر ہے، پس اسے معلوم ہے کہ اس کے احسان و عطا کا کون مستحق ہے اور کون غیر مستحق۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ وہ اپنے بندوں پر پورا اختیار [19] رکھتا ہے اور وہ دانا اور خبر رکھنے والا ہے
[19] یعنی کوئی شخص غلبہ و اقتدار کے پنجے سے نکل نہیں سکتا، نہ کہیں بھاگ کر جا سکتا ہے۔ لہذا بندوں کے لئے بہتر روش یہی ہے کہ اسکے آگے سر تسلیم خم کر دیں۔ وہ بندوں کے حالات سے پوری طرح آگاہ ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ ان کے لئے کونسی کارروائی مناسب ہو گی۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن کریم کا باغی جہنم کا ایندھن ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ ’ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا ‘۔
اسی آیت جیسی آیت «مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [35۔فاطر:2] ہے یعنی ’ اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ‘۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» { اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:844]
اس کے بعد فرماتا ہے ’ وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے ‘۔
اسی آیت جیسی آیت «مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [35۔فاطر:2] ہے یعنی ’ اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ‘۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» { اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:844]
اس کے بعد فرماتا ہے ’ وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟ جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ» ۱؎ [11۔ھود:17] یعنی ’ دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے ‘۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف]
ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔“
’ مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا ‘ جیسے اور آیت میں ہے «فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [6۔الأنعام:150] ’ یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن ‘۔
یہاں فرمایا ’ تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ» ۱؎ [11۔ھود:17] یعنی ’ دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے ‘۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف]
ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔“
’ مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا ‘ جیسے اور آیت میں ہے «فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [6۔الأنعام:150] ’ یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن ‘۔
یہاں فرمایا ’ تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں ‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔