اس آیت کی تفسیر آیت 162 میں تا آیت 164 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
163۔ 1 توحید الوہیت کی یہ دعوت تمام انبیاء نے دی، جس طرح یہاں آخری پیغمبر کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا کہ ' مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔ ' دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء بھیجے، سب کو یہ وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری ہی عبادت کرو ' (انبیا۔ 25) چناچہ حضرت نوح ؑ کے بارے میں آتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ اسلم تو انہوں نے فرمایا اسلمت لرب العالمین۔ حضرت ابراہیم ؑ و یعقوب ؑ نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ تمہیں موت اسلام پر آنی چاہیے۔ حضرت یوسف ؑ نے دعا فرمائی کہ مجھے اسلام کی حالت میں دنیا سے اٹھانا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا اگر تم ملسمان ہو تو اسی اللہ پر بھروسہ کرو۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے حواریوں نے کہا واشھد باننا مسلمون اسی طرح اور بھی تمام انبیاء اور ان کے مخلص پیروکاروں نے اسی اسلام کو اپنایا جس میں توحید الوہیت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ گو بعض بعض شرع احکام ایک دوسرے سے مختلف تھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
163۔ جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں سب سے پہلے اللہ کا فرمانبردار [186] بنتا ہوں
[186] ہر نبی پر یہ فرض ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اپنی نبوت پر خود ایمان لائے اور وحی کی اتباع کرے اسی لحاظ سے رسول اللہ اپنی امت میں اول المسلمین ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔