ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 159

اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر لیا اور کئی گروہ بن گئے، تو کسی چیز میں بھی ان سے نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ ہی کے حوالے ہے، پھر وہ انھیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ En
جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا
En
بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 159){اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ ……:} یعنی اصل دین شروع سے ایک ہی ہے جس کی بنیاد اﷲ کی توحید، یوم آخرت اور انبیاء پر ایمان اور ان کی اطاعت پر ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۵۲، ۵۳)، سورۂ یونس (۱۹)، سورۂ انعام (۱۵۳) اور سورۂ بقرہ (۲۱۳)۔ اپنے اپنے زمانے کے مطابق احکام میں کچھ فرق ہو سکتا ہے مگر اصل سب کا ایک اسلام ہی ہے۔ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر اﷲ تعالیٰ نے قیامت تک ہر شخص کے لیے آپ پر ایمان لانا اور آپ کے طریقے پر چلنا لازم قرار دے دیا۔ اب جو شخص بھی اپنا کوئی جدا راستہ اختیار کر کے الگ گروہ بنائے، خواہ وہ دہریہ ہو یا مشرک یا یہودی یا نصرانی، اﷲ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ ان سے بری ہیں اور آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح آپ کی امت میں سے اسلام قبول کرنے کے بعد جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول کے احکام، یعنی قرآن و سنت کے علاوہ کوئی نیا طریقہ یعنی بدعت اختیار کر کے اپنا الگ گروہ بنا لیں، آپ ان سے بری ہیں، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود ۷۱ یا ۷۲ فرقوں میں اور نصاریٰ بھی اتنے ہی فرقوں میں جدا جدا ہو گئے اور میری امت تہتر(۷۳) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ [أبو داوٗد، السنۃ، باب شرح السنۃ: ۴۵۹۶۔ ترمذی: ۲۶۴۰۔ ابن ماجہ: ۳۹۹۲۔ ابن حبان: ۶۷۳۱] معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: یاد رکھو، تم سے پہلے اہل کتاب ۷۲ ملتوں میں فرقہ فرقہ ہو گئے اور یہ ملت ۷۳ ملتوں میں فرقہ فرقہ ہو جائے گی، ۷۲ آگ میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور وہ جماعۃ ہے۔ [أبو داوٗد، السنۃ، باب شرح السنۃ: ۴۵۹۷۔ أحمد: 102/4، ح: ۱۶۹۴۰] عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے: وہ سب آگ میں ہوں گے مگر ایک ملت۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اﷲ! وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا أَنَا عَلَيْهِ وَ أَصْحَابِيْ] جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ [ترمذی، الإیمان، باب ما جاء فی افتراق ھٰذہ الأمۃ: ۲۶۴۱] اس حدیث کے مزید حوالوں اور صحت کے لیے دیکھیے [السلسلة الصحيحة: 402/1 تا ۴۱۴، ح: ۲۰۳، ۲۰۴]
یاد رہے کہ سوچ اور اجتہاد کا اختلاف یا علم نہ ہو سکنے کی وجہ سے اختلاف تو صحابہ اور تابعین میں بھی پایا جاتا تھا، مگر وہ سب ایک ہی جماعت تھے، انھوں نے کسی شخصیت کی تقلید کی خاطر فرقے نہیں بنائے تھے۔ مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنا اپنا الگ پیشوا بنا کر اس کی ہر صحیح اور غلط بات کو دین قرار دے کر الگ فرقہ بنا لیا۔ یہ چیز مسلمانوں کے تین بہترین زمانوں میں نہیں تھی، پہلے انبیاء کی امتوں کو اسی چیز نے برباد کیا اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بگاڑ کا باعث بھی یہی بات بنی کہ قرآن و حدیث کا واضح حکم آنے کے بعد بھی کچھ لوگ اپنے دھڑے کی وجہ سے اپنے امام یا مرشد کی غلط باتوں پر اڑ کر الگ الگ ہو گئے اور مسلمانوں کا شخصیتوں کی بنیاد پر بنے ہوئے فرقوں کو چھوڑ کر کتاب و سنت پر جمع ہونا ایک خواب ہی رہ گیا جس کی تعبیر کسی زبردست خلیفہ یا مہدی یا مسیح علیہ السلام ہی کے ذریعے سے پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

159۔ 1 اس سے بعض لوگ یہود و نصاریٰ مراد لیتے ہیں جو مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ بعض مشرکین مراد لیتے ہیں کہ کچھ مشرک ملائکہ کی، کچھ ستاروں کی، کچھ مختلف بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن یہ آیت عام ہے کہ کفار و مشرکین سمیت وہ سب لوگ اس میں داخل ہیں۔ جو اللہ کے دین کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے دین یا دوسرے طریقے کو اختیار کر کے تفرق وتخرب کا راستہ اپناتے ہیں۔ شیعا کے معنی فرقے اور گروہ اور یہ بات ہر اس قوم پر صادق آتی ہے جو دین کے معاملے میں مجتمع تھی لیکن پھر ان کے مختلف افراد نے اپنے کسی بڑے کی رائے کو ہی مستند اور حرف آخر قرار دے کر اپنا راستہ الگ کرلیا، چاہے وہ رائے حق وصواب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

159۔ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ [182] ڈالا اور کئی فرقے بن گئے، ان سے آپ کو کچھ سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ پھر وہ خود ہی انہیں بتلا دے گا کہ وہ کن کاموں میں لگے ہوئے تھے
[182] تفرقہ بازی کی بنیاد حب جاہ و مال ہوتی ہے:۔
فرقہ بازی ایسی لعنت ہے کہ ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیتی ہے اور ایسی قوم کی ساکھ اور وقار دنیا کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی کو عذاب ہی کی ایک قسم بتایا ہے اور دوسرے مقام پر فرقہ بازوں کو مشرکین کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے وجہ یہ ہے کہ کسی بھی مذہبی فرقہ کا آغاز کسی بدعی عقیدہ سے یا عمل سے ہوتا ہے۔ مثلاً کسی نبی یا رسول یا بزرگ اور ولی کو اس کے اصل مقام سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک بنا دینا یا کسی کی شان کو بڑھا کر بیان کرنا یا کسی سے بغض و عناد رکھنا وغیرہ۔ یہی وہ غلو فی الدین ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے شدت سے منع فرمایا اور بدعی اعمال کا زیادہ تر تعلق سنت رسول سے ہوتا ہے۔ کسی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ترک کر دینا یا کسی نئے کام کا ثواب کی نیت سے دین میں اضافہ کر دینا وغیرہ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دین میں اس کام کی پہلے کمی رہ گئی تھی جو اب پوری کی جا رہی ہے۔ پھر یہ فرقہ بازیاں عموماً دو ہی قسم و کی ہوتی ہیں ایک مذہبی جیسے کسی مخصوص امام کی تقلید میں انتہا پسندی۔ یا کسی معمولی قسم کے اختلاف کو اہم اور اہم اختلاف کو معمولی بنا دینا۔ اور دوسرے سیاسی۔ جیسے علاقائی، قومی، لسانی اور لونی بنیادوں پر فرقہ بنانا۔ غرض جتنے بھی فرقے بنائے جاتے ہیں ان کی تہہ میں آپ کو دو ہی باتیں کارفرما نظر آئیں گی ایک حب مال اور دوسرے حب جاہ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بھیڑوں کے کسی ریوڑ میں دو بھوکے بھیڑیئے اتنی تباہی نہیں مچاتے جتنا حب مال یا حب جاہ کسی کے ایمان کو برباد کرتے ہیں۔ “ [ترمذي بحواله مشكوٰة۔ كتاب الرقاق الفصل الثاني]
نیز حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جماعت المسلمین اور ان کے امام سے چمٹے رہنا۔“ میں نے عرض کیا کہ ”اگر جماعت نہ ہو اور امام بھی نہ ہو تو کیا کروں؟“ فرمایا ”تو پھر ان تمام فرقوں سے الگ رہنا خواہ تمہیں درختوں کی جڑیں ہی کیوں نہ چبانی پڑیں۔ یہاں تک کہ تمہیں اسی حالت میں موت آ جائے۔“ [بخاري۔ كتاب الفتن۔ باب كيف الا مر اذا لم تكن جماعة مسلم۔ كتاب الامارة باب وجوب ملازمة المسلمين عند ظهور الفتن]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ نجات پائے گا باقی سب جہنمی ہوں گے۔“ صحابہ نے پوچھا: وہ نجات پانے والا فرقہ کونسا ہو گا؟ فرمایا ”جو اس راہ پر چلے گا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔“ [ترمذي۔ كتاب الايمان۔ باب افتراق هذه الامة]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اہل بدعت گمراہ ہیں ٭٭
کہتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری ہے۔ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے سخت اختلافات میں تھے جن کی خبر یہاں دی جا رہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14257:]‏‏‏‏
ایک حدیث میں ہے { «شَيْءٍ» تک اس آیت کی تلاوت فرما کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ بھی تجھ سے کوئی میل نہیں رکھتے۔ اس امت کے اہل بدعت شک شبہ والے اور گمراہی والے ہیں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14271]‏‏‏‏ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ یعنی ممکن ہے یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہو۔
ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے مراد خارجی ہیں۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:8150/6:ضعیف]‏‏‏‏ یہ بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔
ایک اور غریب حدیث میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { مراد اس سے اہل بدعت ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی صغیر:203/1:ضعیف]‏‏‏‏ اس کا بھی مرفوع ہونا صحیح نہیں۔
بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جو بھی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرے اور اس میں پھوٹ اور افتراق پیدا کرے گمراہی کی اور خواہش پرستی کی پیروی کرے، نیا دین اختیار کرے، نیا مذہب قبول کرے وہی وعید میں داخل ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس حق کو لے کر آئے ہیں وہ ایک ہی ہے کئی ایک نہیں۔ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرقہ بندی سے بچایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بھی اس لعنت سے محفوظ رکھا ہے۔
اسی مضمون کی دوسری آیت «شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ» ۱؎ [42-الشورى:13]‏‏‏‏ ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں۔ ہم سب کا دین ایک ہی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443]‏‏‏‏
پس صراط مستقیم اور دین پسندیدہ اللہ کی توحید اور رسولوں کی اتباع ہے اس کے خلاف جو ہو ضلالت جہالت رائے خواہش اور بددینی ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیزار ہیں ان کا معاملہ سپرد رب ہے وہی انہیں ان کے کرتوت سے آگاہ کرے گا۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَىٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّـهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» ۱؎ [22-الحج:17]‏‏‏‏ ’ مومنوں، یہودیوں، صابیوں اور نصرانیوں میں مجوسیوں میں مشرکوں میں اللہ خود قیامت کے دن فیصلے کر دے گا ‘ اس کے بعد اپنے احسان حکم اور عدل کا بیان فرماتا ہے۔