تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {تَمَامًا عَلَى الَّذِيْۤ اَحْسَنَ ……: ” تَمَامًا “} یہاں {” اِتْمَامًا “} (پورا کرنے) کے معنی میں ہے، یعنی ہم نے تورات ہر اس شخص پر نعمت پوری کرنے کے لیے جو نیکی کرے اور ہر چیز کی تفصیل، رہنمائی اور رحمت کے لیے نازل فرمائی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ یعنی بنی اسرائیل اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ فرمان ہے آیت «وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً وَهَـٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا» ۱؎ [46-الأحقاف:12] یعنی ’ اس سے پہلے توراۃ امام رحمت تھی اور اب یہ قرآن عربی تصدیق کرنے والا ہے ‘۔ اسی سورت کے اول میں ہے آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ» ۱؎ [6-الأنعام:91]، اس آیت میں بھی تورات کے بیان کے بعد «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ» ۱؎ [6-الانعام:92] اس قرآن کے نزول کا بیان ہے۔
جنوں کا قول بیان ہوا ہے کہ «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [46-الأحقاف:30] ’ انہوں نے اپنی قوم سے کہا ہم نے وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتری ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کو سچا کہتی ہیں اور راہ حق کی ہدایت کرتی ہیں ‘۔ «وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ» ۱؎ [7-الأعراف:145] ’ وہ کتاب جامع اور کامل تھی ‘۔
شریعت کی جن باتوں کی اس وقت ضرورت تھی سب اس میں موجود تھیں یہ احسان تھا نیک کاروں کی نیکیوں کے بدلے کا۔ جیسے فرمان ہے ’ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ‘۔
اور جیسے فرمان ہے کہ «وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ» [32-السجدہ:24] ’ بنی اسرائیلیوں کو ہم نے ان کا امام بنا دیا جبکہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین رکھا ‘۔ غرض یہ بھی اللہ کا فضل تھا اور «هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60] ’ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے ‘۔
احسان کرنے والوں پر اللہ بھی احسان پورا کرتا ہے یہاں اور وہاں بھی۔ امام ابن جریر «الَّذِي» کو مصدریہ مانتے ہیں جیسے آیت «وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا» ۱؎ [9-التوبة:69] میں۔
ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا شعر ہے «وَثَبَّتَ اللَّه مَا آتَاك مِنْ حُسْن» «فِي الْمُرْسَلِينَ وَنَصْرًا كَاَلَّذِي نُصِرُوا» اللہ تیری اچھائیاں بڑھائے اور اگلے نبیوں کی طرح تیری بھی مدد فرمائے۔
پس مومنوں اور نیک لوگوں پر اللہ کا یہ احسان ہے اور پورا احسان ہے۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے انبیاء علیہم السلام اور عام مومن ہیں۔ یعنی ان سب پر ہم نے اس کی فضیلت ظاہر کی۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ» ۱؎ [7-الأعراف:144]، یعنی ’ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی ‘۔
ہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اس بزرگی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام جو خلیل اللہ ہیں مستثنیٰ ہیں بہ سبب ان دلائل کے جو وارد ہو چکے ہیں۔ یحییٰ بن یعمر «أَحْسَنُ هُوَ» کو مخذوف مان کر «أَحْسَنُ» پڑھتے تھے، ہو سکتا ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس قرأت کو جائز نہیں رکھوں گا اگرچہ عربیت کی بنا پر اس میں نقصان نہیں۔
آیت کے اس جملے کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پر احسان رب کو تمام کرنے کیلئے یہ اللہ کی کتاب ان پر نازل ہوئی، ان دونوں کے مطلب میں کوئی تفاوت نہیں۔
پھر تورات کی تعریف بیان فرمائی کہ اس میں ہر حکم بہ تفصیل ہے اور وہ ہدایت و رحمت ہے تاکہ لوگ قیامت کے دن اپنے رب سے ملنے کا یقین کر لیں۔
پھر قرآن کریم کی اتباع کی رغبت دلاتا ہے اس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیتا ہے برکت سے اس کا وصف بیان فرماتا ہے کہ جو بھی اس پر کار بند ہو جائے وہ دونوں جہان کی برکتیں حاصل کرے گا اس لیے کہ یہ اللہ کی طرف مضبوط رسی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم} في هذا الموضع ليس المراد منها الترتيب الزماني؛ فإن زمن موسى عليه السلام متقدِّم على تلاوة الرسول محمد - صلى الله عليه وسلم - هذا الكتاب، وإنما المراد الترتيب الإخباري،. فأخبر أنه آتى {موسى الكتاب}: وهو التوراة {تماماً}: لنعمته وكمالاً لإحسانه، {على الذي أحسن}: من أمة موسى؛ فإنَّ الله أنعم على المحسِنين منهم بنعم لا تُحصى من جُملتها وتمامها إنزال التوراة عليهم، فتمت عليهم نعمةُ الله ووَجَبَ عليهم القيام بشكرها، {وتفصيلاً لكلِّ شيء}: يحتاجون إلى تفصيله من الحلال والحرام والأمر والنهي والعقائد ونحوها، {وهدىً ورحمةً}؛ أي: يهديهم إلى الخير ويعرِّفهم بالشرِّ في الأصول والفروع، {ورحمة}: يحصُلُ به لهم السعادة والرحمة والخير الكثير، {لعلَّهم}: بسبب إنزالنا الكتاب والبيِّنات عليهم {بلقاءِ ربِّهم يؤمنونَ}؛ فإنه اشتمل من الأدلَّة القاطعة على البعث والجزاء بالأعمال، [ما] يوجب لهم الإيمان بلقاء ربِّهم والاستعداد له.