تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ ……: } یعنی جو شخص مجبوری کی بنا پر ان حرام چیزوں کو کھا لے بشرطیکہ نہ انھیں حلال سمجھے اور نہ ضرورت سے آگے بڑھے تو تیرا رب نہایت بخشنے والا بے حد رحم والا ہے۔ سورۂ بقرہ میں صراحت ہے: «فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ» [البقرۃ: ۱۷۳] ”اس پر کوئی گناہ نہیں۔ “
➌ اس آیت پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ حرام چیزیں تو ان کے علاوہ بھی ہیں، پھر یہ فرمانے کا کیا مطلب کہ میں اپنی طرف کی ہوئی وحی میں ان کے علاوہ کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا؟ اس کا جواب سورۂ بقرہ کی آیت(۱۷۳) کی تفسیر میں گزر چکا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ دراصل اس زمانے کے مشرکین کے لحاظ سے بات ہو رہی ہے کہ انھوں نے بحیرہ، سائبہ وغیرہ کو حرام کر رکھا تھا اور مذکورہ بالا چاروں چیزیں وہ حلال سمجھتے اور کھاتے تھے، اس لیے فرمایا کہ میری وحی میں تو تمھاری حرام کردہ چیزیں حرام نہیں، صرف یہ چار چیزیں، جو تم بے دریغ کھاتے ہو، حرام ہیں۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ان آیات کے اترنے تک یہی چیزیں حرام تھیں، بعد میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کئی چیزیں حرام فرمائیں، جیسے قرآن مجید میں وہ رشتے مذکور ہیں جن سے نکاح حرام ہے، باقی سب کو حلال فرمایا، مگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں ان دو عورتوں کو جو آپس میں خالہ اور بھانجی یا پھوپھی اور بھتیجی ہوں، ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث میں مزید کئی جانوروں کو حرام قرار دینا ثابت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۳) کے حواشی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) مردار (2) خون (3) خنزیر کا گوشت اور (4) ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر مشہور کر دی جائے۔ اس آیت میں یہ وضاحت مزید ہے کہ خون سے مراد وہ خون ہے جو ذبح کرتے وقت جانور کے جسم سے نکل جاتا ہے اور اگر کچھ تھوڑا بہت جسم میں رہ جائے تو وہ حرام نہیں اور سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 3 میں مردار کی بھی بعض صورتیں بیان ہوئی ہیں یعنی خواہ وہ مردار گلا گھٹ کر مرا ہو یا چھڑی کی ضرب سے یا بلندی سے گر کر یا سینگ کی ضرب سے مرا ہو۔ کچھ جانوروں اور پرندوں کی حرمت سنت نبوی سے ثابت ہے۔ [تفصيل محوله بالا آيات ميں ديكهئے]
[158] دیکھئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 173 کا حاشیہ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کے مفہوم کا رفع کرنے والی سورۃ المائدہ کی آئندہ آیتیں اور دوسری حدیثیں ہیں جن میں حرمت کا بیان ہے وہ بیان کی جائیں گی۔ بعض لوگ اسے نسخ کہتے ہیں اور اکثر متأخرین اسے نسخ نہیں کہتے کیونکہ اس میں تو اصلی مباح کو اٹھا دینا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
خون وہ حرام ہے جو بوقت ذبح بہہ جاتا ہے، رگوں میں اور گوشت میں جو خون مخلوط ہو وہ حرام نہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گدھوں اور درندوں کا گوشت اور ہنڈیا کے اوپر جو خون کی سرخی آ جائے، اس میں کوئی حرج نہیں جانتی تھیں۔
عمرو بن دینار نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھوں کا کھانا حرام کر دیا ہے“، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ہاں حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کرتے ہیں لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کا انکار کرتے ہیں اور آیت «قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145] تلاوت کرتے ہیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:5529]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”اہل جاہلیت بعض چیزیں کھاتے تھے بعض کو بوجہ طبعی کراہیت کے چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اپنی کتاب اتاری، حلال حرام کی تفصیل کر دی، پس جسے حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کر دیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموش رہے وہ معاف ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت «قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145] کی تلاوت کی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3800،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی بکری مرگئی، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ } جواب دیا کہ کیا مردہ بکری کی کھال اتار لینی جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرما کر فرمایا کہ { اس کا صرف کھانا حرام ہے، لیکن تم اسے دباغت دے کر نفع حاصل کر سکتے ہو }۔ چنانچہ انہوں نے آدمی بھیج کر کھال اتروالی اور اس کی مشک بنوائی جو ان کے پاس مدتوں رہی اور کام آئی }۔ رضی اللہ عنہ [صحیح بخاری:6686]
اس کی کامل تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے یہاں تو مشرکوں کے اس فعل کی تردید منظور ہے جو انہوں نے اللہ کے حلال کو حرام کر دیا تھا اب بتا دیا گیا کہ یہ چیزیں تم پر حرام ہیں اس کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔ اگر اللہ کی طرف سے وہ بھی حرام ہوتیں تو ان کا ذکر بھی آ جاتا۔ پھر تم اپنی طرف سے حلال کیوں مقرر کرتے ہو؟
اس بنا پر پھر اور چیزوں کی حرمت باقی رہتی جیسے کہ گھروں کے پالتو گدھوں کی ممانعت اور درندوں کے گوشت کی اور جنگل والے پرندوں کی جیسے کہ علماء کا مشہور مذہب ہے (یہ یاد رہے کہ ان کی حرمت قطعی ہے کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور قرآن نے حدیث کا ماننا بھی فرض کیا ہے۔ مترجم)
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى ذمَّ المشركين على ما حرَّموا من الحلال ونسبوه إلى الله وأبطل قولهم؛ أمر تعالى رسولَه أن يبيِّن للناس ما حرَّمه الله عليهم؛ ليعلموا أنَّ ما عدا ذلك حلالٌ؛ مَنْ نسب تحريمه إلى الله فهو كاذب مبطل؛ لأنَّ التحريم لا يكون إلا من عند الله على لسان رسوله، وقد قال لرسوله: {قل لا أجِدُ فيما أوحي إليَّ محرَّماً على طاعم}؛ أي: محرَّماً أكله؛ بقطع النظر عن تحريم الانتفاع بغير الأكل وعدمه، {إلاَّ أن يكون ميتةً}: والميتة ما مات بغير ذكاةٍ شرعيةٍ؛ فإنَّ ذلك لا يحلُّ؛ كما قال تعالى: {حُرِّمَتْ عليكمُ الميتةُ والدَّمُ ولحمُ الخنزيرِ}، {أو دماً مَسْفوحاً}: وهو الدمُ الذي يخرج من الذبيحة عند ذكاتها؛ فإنه الدَّمُ الذي يضرُّ احتباسه في البدن؛ فإذا خرج من البدن؛ زال الضرر بأكل اللحم.
ومفهوم هذا اللفظ أنَّ الدَّمَ الذي يبقى في اللحم والعروق بعد الذبح أنه حلالٌ طاهرٌ، {أو لحم خنزيرٍ فإنه رجسٌ}؛ أي: فإن هذه الأشياء الثلاثة رجسٌ؛ أي: خبث نجس مضرٌّ حرمه الله لطفاً بكم ونزاهة لكم عن مقاربة الخبائث {أو}: إلا أن يكونَ {فسقاً أهِلَّ لغيرِ الله به}؛ أي: إلا أن تكون الذبيحةُ مذبوحةً لغير الله من الأوثان والآلهة التي يعبُدها المشركون؛ فإن هذا من الفسق الذي هو الخروج عن طاعة الله إلى معصيته. ومع هذا؛ فهذه الأشياء المحرَّمات؛ مَن اضْطُرَّ إليها؛ أي: حملته الحاجة والضرورة إلى أكل شيء منها بأن لم يكن عنده شيء وخاف على نفسه التلف، {غيرَ باغٍ ولا عادٍ}؛ أي: {غير باغٍ}؛ أي: مريد لأكلها من غير اضطرار، ولا متعدًّ؛ أي: متجاوز للحدِّ؛ بأن يأكل زيادة عن حاجته، {فمَنِ اضطُرَّ غير باغٍ ولا عادٍ فإنَّ ربَّك غفور رحيم}؛ أي: فالله قد سامح من كان بهذه الحال.
واختلف العلماء رحمهم الله في هذا الحصر المذكور في هذه الآية مع أن ثَمَّ محرماتٌ لم تُذْكَر فيها كالسباع وكل ذي مخلب من الطير ونحو ذلك: فقال بعضهم: إن هذه الآية نازلة قبل تحريم ما زاد على ما ذُكِرَ فيها؛ فلا ينافي هذا الحصر المذكور فيها التحريمَ المتأخِّرَ بعد ذلك؛ لأنه لم يجده فيما أوحي إليه في ذلك الوقت.
وقال بعضهم: إن هذه الآية مشتملة على سائرِ المحرَّمات، بعضها صريحاً وبعضها يُؤْخَذ من المعنى وعموم العلة؛ فإنَّ قوله تعالى في تعليل الميتة والدم ولحم الخنزير أو الأخير منها فقط: {فإنَّه رِجْسٌ}: وصفٌ شاملٌ لكلِّ محرَّم؛ فإنَّ المحرمات كلَّها رجسٌ وخبثٌ، وهي من الخبائث المستقذرة التي حرَّمها الله على عبادِهِ صيانةً لهم وتكرمةً عن مباشرة الخبيث الرجس، ويؤخذ تفاصيل الرجس المحرَّم من السُّنَّةِ؛ فإنها تفسِّرُ القرآنَ وتبيِّنُ المقصودَ منه.
فإذا كان الله تعالى لم يحرِّم من المطاعم إلا ما ذُكِرَ، والتحريمُ لا يكونُ مصدرُهُ إلا شرعَ الله؛ دلَّ ذلك على أن المشركين الذين حَرَّموا ما رزقهم اللهُ مفترون على الله، متقوِّلون عليه ما لم يقلْ.
وفي هذه الآية احتمالٌ قويٌّ لولا أن الله ذكر فيها الخنزير، وهو أن السياق في نقض أقوال المشركين المتقدِّمة في تحريمهم لما أحلَّه الله وخوضهم بذلك بحسب ما سوَّلت لهم أنفسهم، وذلك في بهيمة الأنعام خاصة، وليس منها محرم إلاَّ ما ذكر في الآية؛ الميتة منها وما أهِلَّ لغير الله به، وما سوى ذلك؛ فحلال. ولعل مناسبة ذكر الخنزير هنا على هذا الاحتمال أنَّ بعض الجهَّال قد يُدْخِلُهُ في بهيمة الأنعام، وأنه نوعٌ من أنواع الغنم؛ كما قد يتوهَّمه جهلة النصارى وأشباههم، فينمونها كما ينمون المواشي، ويستحلُّونها، ولا يفرِّقون بينها وبين الأنعام.