ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 145

قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطۡعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّہٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۵﴾
کہہ دے میں اس وحی میں، جو میری طرف کی گئی ہے، کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کہ بیشک وہ گندگی ہے، یا نافرمانی (کا باعث) ہو، جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، پھر جو مجبور کردیا جائے، اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو بیشک تیرا رب بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
En
آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وه مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وه بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیراللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہوجائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے واﻻ ہو تو واقعی آپ کا رب غفور و رحیم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 145) ➊ {قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ ……:} مردہ سے مراد ہر وہ حلال جانور ہے جو بغیر ذبح کیے طبعی طور پر یا حادثے سے (جس کی تفصیل مائدہ کی آیت ۳ میں ہے) مر جائے یا شرعی طریقے کے خلاف ذبح کیا گیا ہو، مثلاً جان بوجھ کر تیز دھار آلے کی ایک ہی ضرب سے گردن جدا کر دی جائے، یا سخت گرم پانی میں ڈبو کر مار دیا جائے، یا کرنٹ وغیرہ کے ذریعے سے غرض شرعی ذبیحہ یا شکار کے علاوہ سب مردار ہیں اور حرام ہیں۔ خون جو بہایا جائے، زندہ کا یا ذبیحہ کا، حرام ہے، البتہ جسم کے ساتھ لگا رہ جانے والا خون یا کلیجی اور تلی بہایا ہوا خون نہ ہونے کی وجہ سے حلال ہیں۔ خنزیر کا گوشت کہ وہ گندگی ہے، یعنی صحت کے لحاظ سے بے شمار بیماریوں کا باعث ہونے اور بے غیرتی میں بد ترین جانور ہونے کی وجہ سے کھانے والوں میں اس کی تاثیر کی بنا پر معنوی طور پر سراسر گندگی ہے۔ { اَوْ فِسْقًا } اس کا عطف { لَحْمَ خِنْزِيْرٍ } پر ہے، یعنی یہ بھی اسی طرح حرام ہے۔ { فِسْقًا } کا معنی اﷲ کی فرماں برداری سے نکل جانا ہے۔ اﷲ کا حکم ہے کہ جانور اﷲ کے نام پر ذبح کیا جائے، اس لیے وہ جانور جس پر ذبح کرتے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا جائے، حرام ہے۔{ اُهِلَّ } کا معنی آواز بلند کرنا ہے، کسی جانور پر اگر کسی غیر اﷲ کانام مشہور کر دیا جائے کہ یہ داتا کا بکرا ہے، یا بری امام کی گائے ہے، یا فلاں پیر یا امام کی نذر و نیاز ہے، اس سے مقصود چونکہ غیر اﷲ کو راضی کرنا ہے کہ وہ راضی ہو کر ہمارے کام سنوار دیں گے، اس لیے ایسے جانور کو ان کی رضا کے لیے ذبح کرتے وقت اس پر بسم اﷲ بھی پڑھی جائے تو بھی حرام ہے، کیونکہ اعتبار نیت کا ہے اور نیت کا اظہار خود ان کی زبانی ہو چکا ہے اور عرس اور قبر کا ماحول بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔
➋ { فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ ……: } یعنی جو شخص مجبوری کی بنا پر ان حرام چیزوں کو کھا لے بشرطیکہ نہ انھیں حلال سمجھے اور نہ ضرورت سے آگے بڑھے تو تیرا رب نہایت بخشنے والا بے حد رحم والا ہے۔ سورۂ بقرہ میں صراحت ہے: «فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۷۳] اس پر کوئی گناہ نہیں۔
➌ اس آیت پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ حرام چیزیں تو ان کے علاوہ بھی ہیں، پھر یہ فرمانے کا کیا مطلب کہ میں اپنی طرف کی ہوئی وحی میں ان کے علاوہ کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا؟ اس کا جواب سورۂ بقرہ کی آیت(۱۷۳) کی تفسیر میں گزر چکا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ دراصل اس زمانے کے مشرکین کے لحاظ سے بات ہو رہی ہے کہ انھوں نے بحیرہ، سائبہ وغیرہ کو حرام کر رکھا تھا اور مذکورہ بالا چاروں چیزیں وہ حلال سمجھتے اور کھاتے تھے، اس لیے فرمایا کہ میری وحی میں تو تمھاری حرام کردہ چیزیں حرام نہیں، صرف یہ چار چیزیں، جو تم بے دریغ کھاتے ہو، حرام ہیں۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ان آیات کے اترنے تک یہی چیزیں حرام تھیں، بعد میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کئی چیزیں حرام فرمائیں، جیسے قرآن مجید میں وہ رشتے مذکور ہیں جن سے نکاح حرام ہے، باقی سب کو حلال فرمایا، مگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں ان دو عورتوں کو جو آپس میں خالہ اور بھانجی یا پھوپھی اور بھتیجی ہوں، ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث میں مزید کئی جانوروں کو حرام قرار دینا ثابت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۳) کے حواشی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

145۔ 1 اس آیت میں جن چار محرمات کا ذکر ہے، اس کی ضروری تفصیل سورة بقرہ 173 کے حاشیہ میں گزر چکی ہے یہاں یہ نکتہ مزید قابل وضاحت ہے کہ ان چار محرمات کا ذکر کلمہ حصر سے کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چار قسموں کے علاوہ اور جانور بھی شریعت میں حرام ہیں، پھر یہاں حصر کیوں کیا گیا؟ بات دراصل یہ ہے کہ اس سے قبل مشرکین جاہلانہ طریقوں اور ان کے بیان چلا رہا ہے۔ ان ہی میں بعض جانوروں کا بھی ذکر آیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر حرام کر رکھے تھے۔ امام شوکانی نے اس کی توجیہ اس طرح کی ہے اگر یہ آیت مکی نہ ہوتی تو پھر یقینا محرمات کا حصر قابل تسلیم تھا لیکن چونکہ اس کے بعد خود قرآن نے المائدہ میں بعض محرمات کا ذکر کیا ہے اور نبی نے بھی کچھ محرمات بیان فرمائیں ہیں، تو اب وہ بھی ان میں شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پرندوں اور درندوں کے حلت وحرمت معلوم کرنے کے لیے دو اصول بیان فرمادئیے ہیں جن کی وضاحت بھی مذکورہ محولہ حاشیہ میں موجود ہے۔ او فسقا کا عطف لحم خنزیر پر ہے۔ اس لیے منصوب ہے، معنی ہی ای ذبح علی الاصنام، وہ جانور جو بتوں کے نام پر یا ان کے تھانوں پر ان کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کیے جائیں۔ یعنی ایسے جانوروں پر گو عند الذبح اللہ کا نام لیا جئے تب بھی حرام ہوں گے کیونکہ ان سے اللہ کا تقرب نہیں۔ غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنا مقصود ہے۔ فسق رب کی اطاعت سے خروج کا نام ہے۔ رب نے حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر جانور ذبح کیا جائے اور سارا اسی کے تقرب ونیاز کے لیے کیا جائے اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو یہی فسق اور شرک ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

145۔ آپ ان سے کہئے کہ: جو وحی میری طرف آئی ہے اس میں میں تو کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام کی گئی ہو الا یہ کہ وہ مردار ہو یا [157] بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ وہ چیز اللہ کے سوا کسی اور کے نام سے مشہور کر دی گئی ہو۔ ہاں جو شخص لاچار ہو جائے درآنحالیکہ وہ نہ تو (اللہ کے قانون کا) باغی ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ کھانے والا [158] ہو (تو وہ اسے معاف ہے) کیونکہ آپ کا پروردگار بخش دینے والا اور رحم کرنے والا ہے
[157] بنیادی طور پر کونسی اشیاء حرام ہیں؟ یہی مضمون سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 173 اور سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 3 میں گزر چکا ہے۔ ان سب مقامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر چار ہی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔
(1) مردار (2) خون (3) خنزیر کا گوشت اور (4) ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر مشہور کر دی جائے۔ اس آیت میں یہ وضاحت مزید ہے کہ خون سے مراد وہ خون ہے جو ذبح کرتے وقت جانور کے جسم سے نکل جاتا ہے اور اگر کچھ تھوڑا بہت جسم میں رہ جائے تو وہ حرام نہیں اور سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 3 میں مردار کی بھی بعض صورتیں بیان ہوئی ہیں یعنی خواہ وہ مردار گلا گھٹ کر مرا ہو یا چھڑی کی ضرب سے یا بلندی سے گر کر یا سینگ کی ضرب سے مرا ہو۔ کچھ جانوروں اور پرندوں کی حرمت سنت نبوی سے ثابت ہے۔ [تفصيل محوله بالا آيات ميں ديكهئے]
[158] دیکھئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 173 کا حاشیہ۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں سے جو اللہ کے حلال کو اپنی طرف سے حرام کرتے ہیں فرمادیں کہ جو وحی الٰہی میرے پاس آئی ہے اس میں تو حرام صرف ان چیزوں کو کیا گیا ہے، جو میں تمہیں سناتا ہوں، اس میں وہ چیزیں حرمت والی نہیں، جن کی حرمت کو تم رائج کر رہے ہو ‘ -کسی کھانے والے پر حیوانوں میں سے سوا ان جانوروں کے جو بیان ہوئے ہیں کوئی بھی حرام نہیں -
اس آیت کے مفہوم کا رفع کرنے والی سورۃ المائدہ کی آئندہ آیتیں اور دوسری حدیثیں ہیں جن میں حرمت کا بیان ہے وہ بیان کی جائیں گی۔ بعض لوگ اسے نسخ کہتے ہیں اور اکثر متأخرین اسے نسخ نہیں کہتے کیونکہ اس میں تو اصلی مباح کو اٹھا دینا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
خون وہ حرام ہے جو بوقت ذبح بہہ جاتا ہے، رگوں میں اور گوشت میں جو خون مخلوط ہو وہ حرام نہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گدھوں اور درندوں کا گوشت اور ہنڈیا کے اوپر جو خون کی سرخی آ جائے، اس میں کوئی حرج نہیں جانتی تھیں۔
عمرو بن دینار نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھوں کا کھانا حرام کر دیا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہاں حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کرتے ہیں لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کا انکار کرتے ہیں اور آیت «قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145]‏‏‏‏ تلاوت کرتے ہیں۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح بخاری:5529]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ اہل جاہلیت بعض چیزیں کھاتے تھے بعض کو بوجہ طبعی کراہیت کے چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اپنی کتاب اتاری، حلال حرام کی تفصیل کر دی، پس جسے حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کر دیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموش رہے وہ معاف ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت «قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145]‏‏‏‏ کی تلاوت کی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3800،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
{ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی بکری مرگئی، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ } جواب دیا کہ کیا مردہ بکری کی کھال اتار لینی جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرما کر فرمایا کہ { اس کا صرف کھانا حرام ہے، لیکن تم اسے دباغت دے کر نفع حاصل کر سکتے ہو }۔ چنانچہ انہوں نے آدمی بھیج کر کھال اتروالی اور اس کی مشک بنوائی جو ان کے پاس مدتوں رہی اور کام آئی }۔ رضی اللہ عنہ [صحیح بخاری:6686]‏‏‏‏
{ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے قنفد (‏‏‏‏یعنی خار پشت جسے اردو میں ساہی بھی کہتے ہیں) کے کھانے کی نسبت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی اس پر ایک بزرگ نے فرمایا میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ { ایک مرتبہ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ خبیثوں میں سے ایک خبیث ہے } اسے سن کر ابن عمر نے فرمایا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے تو وہ یقیناً ویسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما دیا } -۱؎ [سنن ابوداود:3799،قال الشيخ الألباني:ضعیف الاسناد]‏‏‏‏
پھر فرمایا ’ جو شخص ان حرام چیزوں کو کھانے پر مجبور ہو جائے لیکن وہ باغی اور ہد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اسے اس کا کھا لینا جائز ہے اللہ اسے بخش دے گا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے ‘ -
اس کی کامل تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے یہاں تو مشرکوں کے اس فعل کی تردید منظور ہے جو انہوں نے اللہ کے حلال کو حرام کر دیا تھا اب بتا دیا گیا کہ یہ چیزیں تم پر حرام ہیں اس کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔ اگر اللہ کی طرف سے وہ بھی حرام ہوتیں تو ان کا ذکر بھی آ جاتا۔ پھر تم اپنی طرف سے حلال کیوں مقرر کرتے ہو؟
اس بنا پر پھر اور چیزوں کی حرمت باقی رہتی جیسے کہ گھروں کے پالتو گدھوں کی ممانعت اور درندوں کے گوشت کی اور جنگل والے پرندوں کی جیسے کہ علماء کا مشہور مذہب ہے (‏‏‏‏یہ یاد رہے کہ ان کی حرمت قطعی ہے کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور قرآن نے حدیث کا ماننا بھی فرض کیا ہے۔ مترجم)

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر پر مشرکین کی مذمت کی کہ انھوں نے حلال کو حرام ٹھہرایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا اور ان کے اس قول کا ابطال کیا تو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح کر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز ان پر حرام ٹھہرائی ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حلال ہے اور جو کوئی اس کی تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ جھوٹا اور باطل پرست ہے۔ کیونکہ تحریم صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے توسط سے ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام کھانے والے پر جو اس کو کھائے یعنی اس کو کھانے کے علاوہ اس سے دیگر فوائد حاصل کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر، میں کوئی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا حرام ہو۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو مردار وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر گیا ہو۔ یہ مرا ہوا جانور حلال نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْ٘زِیْرِ (المائدہ: 5؍3) حرام کر دیا گیا تم پر مردار، خون اور خنزیر کا گوشت۔
﴿ اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا یا بہتا ہوا خون یہ وہ خون ہے جو ذبیحہ کو ذبح کرتے وقت اس میں سے خارج ہوتا ہے کیونکہ اس خون کا ذبیحہ کے بدن میں رہنا ضرر رساں ہے۔ جب یہ خون بدن سے نکل جاتا ہے تو گوشت کا ضرر زائل ہو جاتا ہے۔ لفظ کے مفہوم مخالف سے مستفاد ہوتا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں بچ جاتا ہے وہ حلال اور پاک ہے۔ ﴿ اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے یعنی مذکورہ تینوں اشیا گندی ہیں یعنی ناپاک اور مضر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تم پر لطف و کرم کرتے ہوئے اور تمھیں خبائث کے قریب جانے سے بچانے کے لیے ان گندی اشیا کو حرام قرار دے دیا ہے۔ ﴿ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ یا ذبیحہ کو اللہ کے سوابتوں اور ان معبودوں کے لیے ذبح کیا گیا ہو جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں۔ یہ فسق ہے اور فسق سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر اس کی معصیت میں داخل ہو جانا۔ ﴿ فَ٘مَنِ اضْطُرَّ پس اگر کوئی مجبور ہوجائے۔ یعنی بایں ہمہ اگر کوئی ان حرام اشیا کو استعمال کرنے پر مجبور ہے حاجت اور ضرورت نے اسے ان اشیا کو کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں اور بھوک کے باعث اس کو اپنی جان کا خوف ہے ﴿ غَیْرَ بَ٘اغٍ نافرمانی کرنے والا نہ ہو۔ یعنی بغیر کسی اضطراری حالت کے اس کو کھانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو ﴿ وَّلَا عَادٍ اور نہ زیادتی کرنے والا ہو (عاد) سے مراد ہے، ضرورت سے زائد کھا کر حد سے تجاوز کرنے والا ﴿ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌؔ رَّحِیْمٌ تو بلاشبہ تمھارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ یعنی جو شخص اس حالت کو پہنچ جائے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نرمی کی ہے۔
اہل علم نے اس آیت کریمہ میں مذکورہ محرمات پر حصر کے بارے میں مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ بھی محرمات موجود ہیں جن کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا، مثلاً: (کچلیوں والے) درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے تمام پرندے، وغیرہ چنانچہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان زائد چیزوں کی تحریم سے قبل نازل ہوئی ہے، اس لیے یہ حصر مذکور ان اشیا میں تحریم متاخر کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں اس وقت اس زمرے میں نہیں آتی تھیں جس وقت مذکورہ حرمت کی وحی آپ کی طرف بھیجی گئی تھی۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ تمام محرمات کی تحریم پر مشتمل ہے، البتہ بعض کی تحریم کی تصریح کر دی گئی ہے اور بعض کی تحریم اس کے معنی اور حرمت کی عمومی حرمت سے اخذ کی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیت کریمہ کے اواخر میں مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی تحریم کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ وہ ناپاک ہے اور یہ ایسا وصف ہے جو تمام محرمات کو شامل ہے۔ کیونکہ تمام محرمات (رِجْس) یعنی گندگی اور ناپاک ہیں۔ اور یہ محرمات سب سے زیادہ ناپاک ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گندگی اور ناپاکی سے بچانے کے لیے ان کو حرام قرار دیا ہے۔
ناپاک اور محرمات کی تفاصیل سنت نبوی سے اخذ کی جاتی ہیں کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر کر کے اس کے مقاصد کو بیان کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کھانے والے کے لیے صرف اسی چیز کو حرام قرار دیا جس کا اس نے ذکر فرمایا۔ اور تحریم کا مصدر صرف اللہ تعالیٰ کی شریعت ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشرکین اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کے رزق کو حرام قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور اس کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہیں جو اس نے نہیں کہی۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خنزیر کی حرمت کا ذکر نہ کیا ہوتا تو اس کا قوی احتمال تھا کہ آیت کریمہ کا سیاق مشرکین کے مذکورہ بالا ان اقوال کی تردید میں ہے جس میں انھوں نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا اور اپنے نفس کی فریب دہی کے مطابق اس میں مشغول ہو گئے۔ اور یہ خاص طور پر چوپایوں کے بارے میں ہے۔ اور ان چوپایوں میں کچھ بھی حرام نہیں سوائے ان اشیا کے جن کا ذکر آیت کریمہ میں کر دیا گیا ہے۔ مردار اور غیر اللہ کے نام پر پکاری گئی چیز اور ان کے سوا دیگر تمام اشیا حلال ہیں۔ اس احتمال کی بنا پر، خنزیر کا یہاں ذکر شاید اس مناسبت سے کیا گیا ہو کہ بعض جہال خنزیر کو (بَھِیْمَہُ اَلْاَنْعَام) میں داخل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خنزیر بھیڑ بکری کی نوع میں سے ہے۔ اس قسم کا توہم نصاریٰ میں سے جہلاء اور ان جیسے بعض دیگر لوگوں کو لاحق ہوا ہے۔ وہ خنزیر کو اسی طرح پالتے ہیں جیسے مویشیوں کو پالا جاتا ہے اور اس کو حلال سمجھتے ہیں۔ اور وہ اس کے اور دیگر مویشیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى ذمَّ المشركين على ما حرَّموا من الحلال ونسبوه إلى الله وأبطل قولهم؛ أمر تعالى رسولَه أن يبيِّن للناس ما حرَّمه الله عليهم؛ ليعلموا أنَّ ما عدا ذلك حلالٌ؛ مَنْ نسب تحريمه إلى الله فهو كاذب مبطل؛ لأنَّ التحريم لا يكون إلا من عند الله على لسان رسوله، وقد قال لرسوله: {قل لا أجِدُ فيما أوحي إليَّ محرَّماً على طاعم}؛ أي: محرَّماً أكله؛ بقطع النظر عن تحريم الانتفاع بغير الأكل وعدمه، {إلاَّ أن يكون ميتةً}: والميتة ما مات بغير ذكاةٍ شرعيةٍ؛ فإنَّ ذلك لا يحلُّ؛ كما قال تعالى: {حُرِّمَتْ عليكمُ الميتةُ والدَّمُ ولحمُ الخنزيرِ}، {أو دماً مَسْفوحاً}: وهو الدمُ الذي يخرج من الذبيحة عند ذكاتها؛ فإنه الدَّمُ الذي يضرُّ احتباسه في البدن؛ فإذا خرج من البدن؛ زال الضرر بأكل اللحم.

ومفهوم هذا اللفظ أنَّ الدَّمَ الذي يبقى في اللحم والعروق بعد الذبح أنه حلالٌ طاهرٌ، {أو لحم خنزيرٍ فإنه رجسٌ}؛ أي: فإن هذه الأشياء الثلاثة رجسٌ؛ أي: خبث نجس مضرٌّ حرمه الله لطفاً بكم ونزاهة لكم عن مقاربة الخبائث {أو}: إلا أن يكونَ {فسقاً أهِلَّ لغيرِ الله به}؛ أي: إلا أن تكون الذبيحةُ مذبوحةً لغير الله من الأوثان والآلهة التي يعبُدها المشركون؛ فإن هذا من الفسق الذي هو الخروج عن طاعة الله إلى معصيته. ومع هذا؛ فهذه الأشياء المحرَّمات؛ مَن اضْطُرَّ إليها؛ أي: حملته الحاجة والضرورة إلى أكل شيء منها بأن لم يكن عنده شيء وخاف على نفسه التلف، {غيرَ باغٍ ولا عادٍ}؛ أي: {غير باغٍ}؛ أي: مريد لأكلها من غير اضطرار، ولا متعدًّ؛ أي: متجاوز للحدِّ؛ بأن يأكل زيادة عن حاجته، {فمَنِ اضطُرَّ غير باغٍ ولا عادٍ فإنَّ ربَّك غفور رحيم}؛ أي: فالله قد سامح من كان بهذه الحال.

واختلف العلماء رحمهم الله في هذا الحصر المذكور في هذه الآية مع أن ثَمَّ محرماتٌ لم تُذْكَر فيها كالسباع وكل ذي مخلب من الطير ونحو ذلك: فقال بعضهم: إن هذه الآية نازلة قبل تحريم ما زاد على ما ذُكِرَ فيها؛ فلا ينافي هذا الحصر المذكور فيها التحريمَ المتأخِّرَ بعد ذلك؛ لأنه لم يجده فيما أوحي إليه في ذلك الوقت.

وقال بعضهم: إن هذه الآية مشتملة على سائرِ المحرَّمات، بعضها صريحاً وبعضها يُؤْخَذ من المعنى وعموم العلة؛ فإنَّ قوله تعالى في تعليل الميتة والدم ولحم الخنزير أو الأخير منها فقط: {فإنَّه رِجْسٌ}: وصفٌ شاملٌ لكلِّ محرَّم؛ فإنَّ المحرمات كلَّها رجسٌ وخبثٌ، وهي من الخبائث المستقذرة التي حرَّمها الله على عبادِهِ صيانةً لهم وتكرمةً عن مباشرة الخبيث الرجس، ويؤخذ تفاصيل الرجس المحرَّم من السُّنَّةِ؛ فإنها تفسِّرُ القرآنَ وتبيِّنُ المقصودَ منه.

فإذا كان الله تعالى لم يحرِّم من المطاعم إلا ما ذُكِرَ، والتحريمُ لا يكونُ مصدرُهُ إلا شرعَ الله؛ دلَّ ذلك على أن المشركين الذين حَرَّموا ما رزقهم اللهُ مفترون على الله، متقوِّلون عليه ما لم يقلْ.

وفي هذه الآية احتمالٌ قويٌّ لولا أن الله ذكر فيها الخنزير، وهو أن السياق في نقض أقوال المشركين المتقدِّمة في تحريمهم لما أحلَّه الله وخوضهم بذلك بحسب ما سوَّلت لهم أنفسهم، وذلك في بهيمة الأنعام خاصة، وليس منها محرم إلاَّ ما ذكر في الآية؛ الميتة منها وما أهِلَّ لغير الله به، وما سوى ذلك؛ فحلال. ولعل مناسبة ذكر الخنزير هنا على هذا الاحتمال أنَّ بعض الجهَّال قد يُدْخِلُهُ في بهيمة الأنعام، وأنه نوعٌ من أنواع الغنم؛ كما قد يتوهَّمه جهلة النصارى وأشباههم، فينمونها كما ينمون المواشي، ويستحلُّونها، ولا يفرِّقون بينها وبين الأنعام.