تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قُلْ ءٰٓالذَّكَرَيْنِ۠ حَرَّمَ ……: } جب مشرکین نے اونٹوں، گائیوں اور بھیڑ بکریوں میں سے بعض مخصوص جانوروں کو حرام اور ان کے پیٹ کے بچوں میں سے زندہ بچوں کو عورتوں کے لیے حرام اور مردہ کو سب کے لیے حلال قرار دیا تو اﷲ تعالیٰ اب ان سے اس کی دلیل کا مطالبہ فرما رہے ہیں کہ اگر وہ دلیل عقلی ہے تو بتاؤ کہ حرام ہونے کی وجہ ان دونوں کا نر ہونا ہے، اگر یہ وجہ ہے تو پھر ان میں سے کئی نر تم کیوں کھاتے ہو؟ یا مادہ ہونا ہے تو پھر تم ان میں سے کئی مادہ جانور حلال کیوں سمجھتے ہو؟ یا پیٹ کا بچہ ہونا ہے تو تم کئی پیٹ کے بچے خود کیوں کھاتے ہو اور اگر دلیل نقلی ہے تو اﷲ تعالیٰ کا کوئی حکم لاؤ جس میں اس نے ان جانوروں کے کسی نر یا مادہ یا رحم میں موجود بچے کو تمھارے کہنے کے مطابق حلال یا حرام کہا ہو، یا تم خود اس وقت موجود تھے جب اﷲ تعالیٰ نے حلال یا حرام کرنے کا یہ حکم جاری فرمایا؟ پھر بتاؤ اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے نہ خود سنا، نہ کسی رسول کے واسطے سے سنا بلکہ اپنی طرف سے اﷲ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عمرو بن لُحَیّ کو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا، سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور (بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی) اسی نے چھوڑے تھے۔“[بخاری، التفسیر، باب: «ما جعل اﷲ من بحيرة ولا سائبة……» : ۴۶۲۳]
مقصود مشرکین کے خود ساختہ حرام کیے ہوئے جانوروں کی حرمت کی تردید ہے کہ بحیرہ اور سائبہ وغیرہ جانوروں کو انھوں نے اپنی طرف سے حرام کر رکھا ہے، ورنہ اﷲ تعالیٰ نے یہ جانور حلال کیے ہیں۔
➌ { وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَيْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ:} ہرن بکری کی جنس میں داخل ہے اور بھینس، نیل گائے اور گورخر (جنگلی گدھا) یہ گائے اور بیل کی جنس ہیں۔ یہ جانور عرب میں اتنے نہیں ہوتے۔ چوپاؤں کی مشہور چار قسمیں وہی ہیں جو یہاں مذکور ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں ‘، پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں ’ بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لیے پیدا کی ہیں ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ» ۱؎ [39-الزمر:6] ’ اس نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں ‘۔ بچوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کر دیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کرکے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہو جاؤ گے۔
سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء علیہم السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4624]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذه الأنعام التي امتنَّ الله بها على عباده، وجعلها كلَّها حلالاً طيباً، فصَّلها بأنها: {ثمانيةُ أزواجٍ من الضأن اثنين}: ذكر وأنثى، {ومن المعز اثنين}: كذلك؛ فهذه أربعةٌ، كلُّها داخلةٌ فيما أحلَّ الله، لا فرق بين شيءٍ منها؛ فقلْ لهؤلاء المتكلِّفين الذين يحرمون منها شيئاً دون شيء أو يحرمون بعضها على الإناث دون الذكور ملزماً لهم بعدم وجود الفرق بين ما أباحوا منها وحرموا: {آلذَّكَرَيْنِ}: من الضأن والمعز {حرَّمَ}: الله فلستم تقولون بذلك وتطردونه، {أم الأُنثيين}: حرم الله من الضأن والمعز؛ فليس هذا قولكم؛ لا تحريم الذكور الخُلَّص، ولا الإناث الخُلَّص من الصنفين، بقي إذا كان الرحم مشتملاً على ذكر وأنثى أو على مجهول، فقال: {أم}: تحرمون {ما اشتملت عليه أرحام الأنثيين}؛ أي: أنثى الضأن وأنثى المعز من غير فرق بين ذكر وأنثى؛ فلستُم تقولون أيضاً بهذا القول؛ فإذا كنتم لا تقولون بأحدِ هذه الأقوال الثلاثة التي حصرت الأقسام الممكنة في ذلك؛ فإلى أي شيء تذهبون؟ {نبِّئوني بعلم إن كنتُم صادقينَ}: في قولِكم ودعواكم.
ومن المعلوم أنهم لا يمكنهم أن يقولوا قولاً سائغاً في العقل إلا واحداً من هذه الثلاثة، وهم لا يقولون بشيء منها، إنما يقولون: إن بعضَ الأنعام التي يصطَلِحون عليها اصطلاحاتٍ من عند أنفسهم حرامٌ على الإناثِ دون الذكور، أو محرَّمة في وقت من الأوقات، أو نحو ذلك من الأقوال التي يعلم علماً لا شكَّ فيه أنَّ مصدرها من الجهل المركب والعقول المختلة المنحرفة والآراء الفاسدة، وأنَّ الله ما أنزل بما قالوه من سلطان، ولا لهم عليه حجة ولا برهان.