تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مُتَشَابِهًا وَّ غَيْرَ مُتَشَابِهٍ:} اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت (۹۹) کا حاشیہ۔
➌ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے زمین سے پیدا ہونے والی ہر کھیتی، پھل، سبزی اور درخت کا ذکر فرما کر حکم دیا ہے کہ کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو، اس لیے زمین سے پیدا ہونے والے ہر پھل اور کھیتی میں سے اﷲ کا حق ادا کرنا ضروری ہے، خواہ وہ {”مَعْرُوْشٰتٍ “ } ہوں، یعنی جن کی بیلیں چھتوں پر چڑھائی جاتی ہیں، مثلاً انگور، توری وغیرہ، یا ایسے باغات ہوں جن کی بیلیں زمین پر پھیلتی ہیں، مثلاً خربوزہ، تربوز، گرما وغیرہ، یا ایسے پھل دار درخت ہوں جو اپنے تنے پر قائم ہوں، مثلاً کھجور، زیتون اور انار وغیرہ، یا کوئی بھی کھیتی ہو، زمین سے پیدا ہونے والے ہر پھل اور کھیتی میں سے اﷲ تعالیٰ کا حق نکالنا فرض ہے اور مال میں اﷲ کا سب سے بڑا حق زکوٰۃ و عشر ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق بارش، چشموں اور نہروں سے سیراب ہونے والی ہر فصل میں عشر، یعنی دس من میں سے ایک من اور پانی کھینچ کر سیراب کی جانے والی ہر فصل میں نصف العشر، یعنی بیس من میں سے ایک من ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کسی فصل کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ مفصل احکام کتب احادیث میں ملاحظہ فرمائیں۔
بعض علماء فرماتے ہیں کہ سبزیوں میں اور ان پھلوں میں عشر نہیں ہے جن کا ذخیرہ نہ ہو سکتا ہو، مثلاً مالٹا، انار وغیرہ، دلیل کے طور پر ترمذی کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ سبزیوں میں صدقہ نہیں ہے، مگر خود امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور نہ اس مطلب کی کوئی اور حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس آیت میں ہر کھیتی، زیتون اور انار کا ذکر ہے، حالانکہ انار کا ذخیرہ نہیں ہوتا۔ دورِ رسالت کے عمل کو دیکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت ایسی چیزوں کے عشر لینے کا اہتمام کرے جن کا ذخیرہ کر سکے، باقی باغوں اور کھیتوں والے اﷲ کا حق خود مستحقین میں تقسیم کر دیں۔ فتاویٰ علمائے حدیث کی ساتویں جلد میں متعدد جلیل القدر علماء کے مقالات میں ہر پھل اور کھیتی میں سے عشر کی بات نہایت مفصل اور مدلل بیان کی گئی ہے۔
➍ {” وَ لَا تُسْرِفُوْا “} سے مراد ناجائز جگہ خرچ کرنا بھی ہے اور اعتدال سے بڑھ کر خرچ کرنا بھی، اسی طرح کھانے میں زیادتی بھی منع ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا» [الأعراف: ۳۱] ”اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو۔“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے مطابق یہ آخری معنی یہاں زیادہ موزوں ہے، اس لیے بھی کہ یہ جسم اور عقل دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اتنا صدقہ کرنا بھی اسراف ہے کہ اس کے بعد آدمی خود محتاج ہو کر مانگنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ حکم حکمرانوں کے لیے بھی ہے کہ جتنا کسی کے ذمے بنتا ہے اس سے زیادہ وصول نہ کریں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[151] اس میں درختوں، پھلوں اور کھیتی کے متعلق جو کچھ ذکر ہوا ہے ان میں سے ایک ایک بات پر غور کیا جائے تو ان سے اللہ کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے۔ اور ایسے حقائق بیان کیے جا رہے ہیں جنہیں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔
(1)
(2) کھیتی اگر چشمہ یا بارانی پانی سے سیراب ہو تو اس میں عشر یا دسواں حصہ زکوٰۃ ہے اور اگر پانی مصنوعی طریقوں یعنی کنوئیں یا ٹیوب ویل یا نہروں سے دیا جا رہا ہو۔ جس پر محنت بھی ہو اور خرچ بھی تو اس میں نصف عشر یا بیسواں حصہ زکوٰۃ ہے۔ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة باب العشر فيما يسقي من ماء السماء و الماء الجاري]
(3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گندم، جو، منقیٰ (خشک انگور) اور کھجور سے زکوٰۃ لی جاتی تھی۔ مگر ہمارے یہاں اور بھی کئی اجناس بکثرت پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے چاول، چنے، جوار، باجرہ، مکئی وغیرہ ان سب پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔
(4) غلہ کی پیداوار اگر پانچ وسق یا 948 کلو گرام سے کم پیدا ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہو گی، یہی غلہ کا نصاب ہے۔ اور اس قدر زکوٰۃ کو کاشتکار یا زمیندار کے گھر کا سالانہ خرچہ ہی تصور کیا جائے گا۔ ہاں اگر اس سے تھوڑی سے بھی زائد ہو تو ساری مقدار پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”پانچ وسق کھجور سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ چاندی (ساڑھے باون تولہ) سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔“ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة۔ باب ليس فى مادون خمس ذود صدقة]
(5) عرب میں خشک پھلوں میں سے منقیٰ اور کھجور کا ذکر آیا ہے جبکہ ہمارے ہاں اور بھی بہت سے خشک پھل کثیر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے اخروٹ، بادام، خوبانی، مونگ پھلی، کشمش وغیرہ۔ یہ سب چیزیں جب حد نصاب کو پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ عرب میں گھوڑے بہت کم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا۔ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة۔ باب ليس على المسلم فى فرسه صدقة] مگر دور فاروقی میں جب ایران فتح ہوا جہاں گھوڑے بکثرت پائے جاتے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گھوڑوں پر زکوٰۃ عائد کر دی اور انہیں گائے کے مثل قرار دیا۔
(6) ایسی سبزیاں اور ترکاریاں جو جلد خراب نہیں ہوتیں مثلاً آلو، لہسن، ادرک، پیٹھا وغیرہ ان پر زرعی زکوٰۃ واجب ہو گی اور جو جلد خراب ہو جانے والی ہیں مثلاً کدو، ٹینڈا، کریلے، توریاں وغیرہ ان پر زرعی زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی بلکہ سال کے بعد ان کے منافع پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہو گی یعنی اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ۔
(7) حد نصاب پانچ وسق یا 948 کلو گرام کا اطلاق صرف اس غلہ پر ہو گا جو عموماً اس ملک میں روزمرہ خوراک کا حصہ ہو اور کثیر مقدار میں پیدا کیا جاتا ہو۔ جیسے ہمارے ملک میں چاول، گندم اور چنے وغیرہ اور جو غلہ اس ملک کی خوراک کا حصہ نہ ہو اور کم پیدا ہوتا ہو یا کیا جاتا ہو۔ جیسے ہمارے ہاں جوار، باجرہ اور مکئی وغیرہ۔ ان میں حد نصاب شرط نہیں۔ جیسے دور نبوی میں کھجور اور منقیٰ بطور خوراک استعمال ہوتے تھے تو آپ نے ان چیزوں کو محل نصاب قرار دیا مگر ہمارے یہاں کوئی بھی پھل بطور خوراک استعمال نہیں ہوتا لہٰذا ان پر حد نصاب شرط نہ ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمان صادر فرمایا تھا کہ { جس کی کھجوریں دس وسق سے زیادہ ہوں وہ چند خوشے مسجد میں لا کر لٹکا دے تاکہ مساکین کھالیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1662،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ بھی مراد ہے کہ زکوٰۃ کے سوا اور کچھ سلوک بھی اپنی کھیتیوں باڑیوں اور باغات کے پھلوں سے اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے رہو-
کھیتی کاٹتے وقت اور پھل اتارتے وقت صدقہ نہ دینے والوں کی اللہ تعالیٰ نے مذمت بیان فرمائی سورۃ القلم، میں ان کا قصہ بیان فرمایا کہ «إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ وَلَا يَسْتَثْنُونَ فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ عَسَىٰ رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا رَاغِبُونَ كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ» [68-القلم:17-33]
ان باغ والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہی آج کے پھل ہم اتار لیں گے اس پر انہوں نے ان شاءاللہ بھی نہ کہا۔ یہ ابھی رات کو بے خبری کی نیند میں ہی تھے وہاں آفت ناگہانی آ گئی اور سارا باع ایسا ہو گیا گویا پھل توڑ لیا گیا ہے بلکہ جلا کر خاکستر کر دیا گیا ہے یہ صبح کو اٹھ کر ایک دوسرے کو جگا کر پوشیدہ طور سے چپ چاپ چلے کہ ایسا نہ ہو حسب عادت فقیر مسکین جمع ہو جائیں اور انہیں کچھ دینا پڑے یہ اپنے دلوں میں یہی سوچتے ہوئے کہ ابھی پھل توڑ لائیں گے بڑے اہتمام کے ساتھ صبح سویرے ہی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سارا باغ تو خاک بنا ہوا ہے اولاً تو کہنے لگے بھئی ہم راستہ بھول گئے کسی اور جگہ آ گئے ہمارا باغ تو شام تک لہلہا رہا تھا۔
یہاں اس آیت میں صدقہ دینے کا حکم فرما کر خاتمے پر فرمایا کہ ’ فضول خرچی سے بچو فضول خرچ اللہ کا دوست نہیں۔ اپنی اوقات سے زیادہ نہ لٹا فخر دریا کے طور پر اپنا مال برباد نہ کرو ‘۔
ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے کھجوروں کے باغ سے کھجوریں اتاریں اور عہد کر لیا کہ آج جو لینے آئے گا میں اسے دوں گا لوگ ٹوٹ پڑے شام کو ان کے پاس ایک کھجور بھی نہ رہی۔ اس پر یہ فرمان اترا۔ ہر چیز میں اسراف منع ہے، اللہ کے حکم سے تجاوز کر جانے کا نام اسراف ہے خواہ وہ کسی بارے میں ہو۔ اپنا سارا ہی مال لٹا کر فقیر ہو کر دوسروں پر اپنا انبار ڈال دینا بھی اسراف ہے اور منع ہے، یہ بھی مطلب ہے کہ صدقہ نہ روکو جس سے اللہ کے نافرمان بن جاؤ یہ بھی اسراف ہے گویہ مطلب اس آیت کے ہیں لیکن بظاہر الفاظ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کھانے کا ذکر ہے تو اسراف اپنے کھانے پینے میں کرنے کی ممانعت یہاں ہے کیونکہ اس سے عقل میں اور بدن میں ضرر پہنچا ہے۔
قرآن کی اور آیت میں ہے «وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:31] ’ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو ‘۔ صحیح بخاری میں ہے { کھاؤ پیو پہنو اوڑھو لیکن اسراف اور کبر سے بچو }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3605،قال الشيخ الألباني:حسن] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
خود قرآن کی سورۃ یاسین میں موجود ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ» ۱؎ [36-یس:71-72] ’ کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی؟ کہ ہم نے ان کے لیے چوپائے پیدا کر دیئے ہیں جو ہمارے ہی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں ہم نے ہی تو انہیں ان کے بس میں کر دیا ہے کہ بعض سوریاں کر رہے ہیں اور بعض کو یہ کھانے کے کام میں لاتے ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:66] مطلب یہ ہے کہ ’ ہم تمہیں ان چوپایوں کا دودھ پلاتے ہیں اور ان کے بال اون وغیرہ سے تمہارے اوڑھنے بچھونے اور طرح طرح کے فائدے اٹھانے کی چیزیں بناتے ہیں ‘۔
اور جگہ ہے «وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ» ۱؎ [16-النحل:5] ’ اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوا عَلَيْهَا حَاجَةً فِي صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَأَيَّ آيَاتِ اللَّـهِ تُنكِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:79-81] ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے جانور پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواریاں کرو انہیں کھاؤ اور بھی فائدے اٹھاؤ ان پر اپنے سفر طے کر کے اپنے کام پورے کرو اسی نے تمہاری سواری کیلئے کشتیاں بنا دیں وہ تمہیں اپنی بےشمار نشانیاں دکھا رہا ہے بتاؤ تو کس کس نشانی کا انکار کرو گے؟ ‘
«يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا» ۱؎ [7-الأعراف:27] ’ دیکھو کہیں اس کے بہکانے میں نہ آ جانا اسی نے تمہارے باپ آدم کو جنت سے باہر نکلوایا، اس کھلے دشمن کو بھولے سے بھی اپنا دوست نہ سمجھو ‘۔
«أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا» [18-الكهف:50] ’ اس کی ذریت سے اور اس کے یاروں سے بھی بچو، یاد رکھو ظالموں کو برا بدلہ ملے گا ‘۔ اس مضمون کی اور بھی آیتیں کلام اللہ شریف میں بہت سی ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى تصرُّفَ المشركين في كثير مما أحلَّه الله لهم من الحروث والأنعام؛ ذكر تبارك وتعالى نعمتَه عليهم بذلك ووظيفَتَهم اللازمة عليهم في الحروثِ والأنعام، فقال: {وهو الذي أنشأ جناتٍ}؛ أي: بساتين فيها أنواع الأشجار المتنوعة والنباتات المختلفة، {معروشاتٍ وغير معروشاتٍ}؛ أي: بعض تلك الجنات مجعولٌ لها عريشٌ تنتشر عليه الأشجار ويعاونها في النهوض عن الأرض، وبعضها خالٍ من العروش تنبُتُ على ساقٍ أو تنفرش في الأرض. وفي هذا تنبيهٌ على كَثرة منافعها وخيراتها، وأنه تعالى علَّم العباد كيف يعرشونها وينمونها. {و}: أنشأ تعالى {النخل والزرع مختلفاً أُكُلُه}؛ أي: كله في محل واحد، ويشرب من ماء واحد، ويفضل الله بعضه على بعض في الأكل، وخص تعالى النخل والزرع على اختلاف أنواعه لكثرة منافعها ولكونها هي القوتُ لأكثر الخلق. {و} أنشأ تعالى {الزيتونَ والرُّمانَ متشابهاً}: في شجره، {وغير متشابهٍ}: في ثمره وطعمه، كأنه قيل: لأي شيء أنشأ الله هذه الجنات؟ وما عطف عليها؟ فأخبر أنه أنشأها لمنافع العباد، فقال: {كلوا من ثمرِهِ}؛ أي: النخل والزرع، {إذا أثمر وآتوا حَقَّه يومَ حصادِهِ}؛ أي: أعطوا حقَّ الزرع، وهو الزكاة ذات الأنصباء المقدَّرة في الشرع؛ أمرهم أن يعطوها يوم حصادها، وذلك لأنَّ حصادَ الزرع بمنزلة حَوَلان الحول؛ لأنه الوقت الذي تتشوَّف إليه نفوس الفقراء، ويسهُلُ حينئذٍ إخراجُه على أهل الزرع، ويكون الأمر فيها ظاهراً لمن أخرجها حتى يتميَّز المخرِج ممَّن لا يخرج.
وقوله: {ولا تسرفوا}؛ يعمُّ النهي عن الإسراف في الأكل، وهو مجاوزة الحدِّ والعادة. وأن يأكلَ صاحبُ الزرعِ أكلاً يضرُّ بالزكاة، والإسراف في إخراج حقِّ الزرع بحيث يخرِجُ فوقَ الواجبِ عليه أو يضرُّ نفسه أو عائلتَه أو غرماءَه؛ فكلُّ هذا من الإسراف الذي نهى الله عنه الذي لا يحبُّه الله بل يبغِضُه، ويمقتُ عليه.
وفي هذه الآية دليلٌ على وجوب الزكاة في الثمار، وأنه لا حَوْلَ لها، بل حولُها حصادُها في الزروع وجذاذ النخيل، وأنه لا تتكرَّر فيها الزكاة لو مكثت عند العبد أحوالاً كثيرةً إذا كانت لغير التجارة؛ لأنَّ الله لم يأمر بالإخراج منه إلاَّ وقتَ حصادِهِ، وأنَّه لو أصابها آفةٌ قبل ذلك بغير تفريط من صاحب الزرع والثمر؛ أنه لا يضمنها، وأنه يجوز الأكل من النخل والزرع قبل إخراج الزكاة منه، وأنه لا يُحْسَبُ ذلك من الزكاة، بل يزكِّي المال الذي يبقى بعده، وقد كان النبي - صلى الله عليه وسلم - يَبْعَثُ خارصاً يخرُصُ للناس ثمارَهم ويأمرُهُ أن يَدَعَ لأهلها الثلث أو الربع بحسب ما يعتريها من الأكل وغيره من أهلها وغيرهم.