ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 135

قُلۡ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ تَکُوۡنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
کہہ دے اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرو، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں، تو تم عنقریب جان لو گے وہ کون ہے جس کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہوتا ہے۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔ En
کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے
En
آپ یہ فرما دیجئے کہ اے میری قوم! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی عمل کررہا ہوں، سو اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم کا انجام کار کس کے لیے نافع ہوگا۔ یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی فلاح نہ ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 135) ➊ { قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ:} مطلب یہ نہیں کہ تمھیں اجازت ہے کہ جو چاہو کرو، بلکہ ڈانٹنا مقصود ہے، جیسے کوئی شخص کہتا ہے کہ اچھا جو کچھ تم کر رہے ہو کرتے رہو، میں عنقریب تم سے نمٹ لوں گا۔
➋ {مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ پورا فرمایا اور انھیں تمام ملک پر قبضہ عطا فرمایا، مخالفین ان کے رحم و کرم پر رہ گئے، مکہ فتح کروا دیا اور یہ سب کچھ آپ کی زندگی میں ہو گیا، پھر آپ کی وفات کے بعد مشرق سے مغرب تک ملک فتح ہو گئے۔ آخرت میں اس سے بھی کہیں بڑھ کر اچھا انجام ہو گا۔ دیکھیے سورۂ مومن(۵۱، ۵۲)
➌ { اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ:} بلاشبہ { اِنَّ } کا اور حقیقت یہ ہے ضمیر شان { هٗ} کا ترجمہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

135۔ 1 یہ کفر اور معصیت پر قائم رہنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ سخت وعید ہے جیسا کہ اگلے الفاظ سے واضح ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (جو ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دیجئے! کہ تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ ہم بھی عمل کرتے ہیں اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں) سورة ہود۔ 21۔ 221۔ 135۔ 2 جیسا کہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ سچا کر دکھا یا۔ 8 ہجری میں مکہ فتح ہوگیا اور اس کی فتح کے بعد عرب قبائل جوق در جوق مسلمان ہونا شروع ہوگئے اور پورا جزیرہ عرب مسلمانوں کے زیرنگیں آگیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

135۔ آپ ان سے کہئے: ”اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرتے جاؤ اور میں اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں [142] پھر جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر رہتا ہے اور یہ تو یقینی بات ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہو سکتے
[142] یعنی اگر تم اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو اس پر جمے رہو اور مجھے اپنی راہ پر چلنے دو۔ عنقریب ہم سب کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ انجام ہمارا بہتر رہا یا تمہارا۔ بہرحال یہ بات تو یقینی ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ سیدنا لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ ”بیٹے! کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے۔“ اور یہاں ظلم سے شرک اس لیے مراد لیا گیا ہے کہ آئندہ مشرکوں کے بعض افعال و رسومات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔