اس آیت کی تفسیر آیت 126 میں تا آیت 128 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
127۔ 1 یعنی جس طرح دنیا میں اہل ایمان کفر و ضلالت کے کج راستوں سے بچ کر ایمان و ہدایت کی صراط مستقیم پر گامزن رہے، اب آخرت میں بھی ان کے لئے سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کا، ان کے نیک عملوں کی وجہ سے دوست اور کار ساز ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
127۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں سلامتی [134] کا گھر ہے اور ان کے نیک اعمال کرنے کی وجہ سے وہ ان کا سرپرست ہو گا
[134] یعنی اللہ کے فرمانبردار بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ ایسی جائے رہائش عطا فرمائیں گے جہاں ہر تکلیف سے سلامتی اور حفاظت ہو گی وہ گھر قیامت کی رستا خیز ہولناکیوں سے اور دوزخ کی آگ کی گرمی سے محفوظ ہو گا وہاں ان پر اللہ کی طرف سے بھی سلامتی نازل ہو گی۔ فرشتے بھی ان کی سلامتی کی دعا کریں گے۔ آپس میں بھی وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیں گے۔ انہیں وہاں کسی مرض سے یا تکلیف سے یا غم و اندوہ سے بھی دو چار نہ ہونا پڑے گا۔ بلکہ انہیں وہاں مسلسل اور لازوال نعمتیں مہیا ہوں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے ٭٭
گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ ’ سیدھی اور صاف راہ جو بے روک اللہ کی طرف پہنچا دے ‘ یہی ہے «مُسْتَقِيمًا» کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے -پس شرع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے۔ چنانچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ { اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے }۔ ۱؎[سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر موید و مولٰی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہو گا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔