تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} یعنی شیطان اپنے وسوسوں کے ذریعے سے ان کافروں کی نگاہ میں ان کے اعمال کو خوبصورت کر کے پیش کرتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسرا وہ جو جہالت و ضلالت کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے جو ان میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتا کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ اسی طرح مسلم و کافر میں بھی تفاوت ہے نور و ظلمت کا فرق اور ایمان و کفر کا فرق ظاہر ہے۔ اور آیت میں ہے «اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ» ۱؎ [2-البقرۃ:257] ’ ایمان داروں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کافروں کے ولی طاغوت ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہ ابدی جہنمی ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالْأَعْمَىٰ وَالْأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا أَفَلَا تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [11-ھود:24] ’ ان دونوں فرقوں کی مثال اندھے بہرے اور سنتے دیکھتے کی طرح ہے کہ دونوں میں فرق نمایاں ہے افسوس پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے ‘۔
اور جگہ فرمان ہے «وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:19-23] ’ اندھا اور بینا، اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندے اور مردے برابر نہیں۔ اللہ جسے چاہے سنا دے لیکن تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا تو تو صرف آگاہ کر دینے والا ہے ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں اس سورۃ کے شروع میں «وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] ظلمات اور نور کا ذکر تھا اسی مناسبت سے یہاں بھی مومن اور کافر کی یہی مثال بیان فرمائی گئی۔
صحیح یہی ہے کہ آیت عام ہے ہر مومن اور کافر کی مثال ہے، کافروں کی نگاہ میں ان کی اپنی جہالت و ضلالت اسی طرح آراستہ و پیراستہ کر کے دکھائی جاتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر ہے کہ وہ اپنی برائیوں کو ہی اچھائیاں سمجھتے ہیں۔
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کر کے پھر اپنا نور ان پر ڈالا جسے اس نور کا حصہ ملا اس نے دنیا میں آکر راہ پائی اور جو وہاں محروم رہا وہ یہاں بھی بہکا ہی رہا }۔ ۱؎ [مسند احمد:176/2:صحیح]۔
جیسے فرمان ہے کہ ’ اللہ نے اپنے بندوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جاتا ہے ‘ اور جیسے فرمان ہے ’ اندھا اور دیکھتا اور اندھیرا اور روشنی برابر نہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {أوَمَن كان}: من قبل هداية الله له {مَيْتاً}: في ظلمات الكفر والجهل والمعاصي، {فأحييناهُ}: بنور العلم والإيمان والطاعة، فصار يمشي بين الناس في النور، متبصراً في أموره، مهتدياً لسبيله، عارفاً للخير، مؤثراً له، مجتهداً في تنفيذه في نفسه وغيره، عارفاً بالشر، مبغضاً له، مجتهداً في تركه وإزالته عن نفسه وعن غيره، أفيستوي هذا بمن هو في الظلمات؟ ظلمات الجهل والغي والكفر والمعاصي، {ليس بخارج منها}، قد التبستْ عليه الطرق، وأظلمت عليه المسالكُ، فحضره الهمُّ والغمُّ والحزن والشقاء، فنبه تعالى العقولَ بما تدركه وتعرفه أنه لا يستوي هذا ولا هذا كما لا يستوي الليل والنهار والضياء والظلمة والأحياء والأموات، فكأنه قيل: فكيف يؤثِرُ مَن له أدنى مُسْكةٍ من عقل أن يكون بهذه الحالة وأن يبقى في الظلمات متحيراً؟! فأجاب بأنه {زُيِّنَ للكافرين ما كانوا يعملونَ}، فلم يزل الشيطانُ يحسِّنُ لهم أعمالهم ويزيِّنُها في قلوبهم حتى استحسنوها ورأوها حقًّا وصار ذلك عقيدةً في قلوبهم وصفةً راسخةً ملازمةً لهم؛ فلذلك رضوا بما هم عليه من الشرِّ والقبائح.