اور تمھیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ بلاشبہ اس نے تمھارے لیے وہ چیزیں کھول کر بیان کر دی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، مگر جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ اور بے شک بہت سے لوگ اپنی خواہشوں کے ساتھ کچھ جانے بغیر یقینا گمراہ کرتے ہیں، بے شک تیرا رب ہی حدسے بڑھنے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
En
اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے
اور آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتادی ہے جن کو تم پر حرام کیا ہے، مگر وه بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجائے تو حلال ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی اپنے خیاﻻت پر بلا کسی سند کے گمراه کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو خوب جانتا ہے
En
(آیت 119) ➊ {وَقَدْفَصَّلَلَكُمْمَّاحَرَّمَعَلَيْكُمْ:} یعنی جب اﷲ تعالیٰ نے تمھارے لیے حرام چیزوں کو خوب کھول کر بیان کر دیا ہے، جن کی تفصیل آگے اسی سورت میں آ رہی ہے اور سورۂ بقرہ اور سورۂ مائدہ میں بھی ہے اور بعض کا ذکر احادیث میں ہے، تو ان کے علاوہ سب جانور حلال ہیں اور اﷲ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور ان حرام چیزوں میں شامل نہیں ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہ کھاؤ اور اﷲ کے نام کے بغیر یا غیر اﷲ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور کھاؤ۔ ➋ { اِلَّامَااضْطُرِرْتُمْ:} یعنی اضطرار اور مجبوری میں حرام کھانا جائز ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۳)، سورۂ مائدہ (۳) اور اسی سورت کی آیت(۱۴۵)۔ ➌ { اِنَّرَبَّكَهُوَاَعْلَمُبِالْمُعْتَدِيْنَ:} مراد وہ لوگ ہیں جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں۔ مقصود اس سے ڈرانا ہے۔ (رازی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
119۔ 1 جس کی تفصیل اسی سورت میں آگے آرہی ہے، اس کے علاوہ بھی اور سورتوں نیز احادیث میں محرمات کی تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ ان کے علاوہ باقی حلال ہیں اور حرام جانور بھی عند الاضطرار سد رمق کی حد تک جائز ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
119۔ آخر کیا بات ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حالانکہ جو کچھ اس نے تم پر حرام کیا ہے اسے تمہارے لیے تفصیلاً[123] بیان کر دیا ہے الا یہ کہ تم (کوئی حرام چیز کھانے پر) مجبور ہو جاؤ۔ اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بغیر علم کے (محض) اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر دوسروں [124] کو بہکاتے رہتے ہیں۔ آپ کا پروردگار ایسے حد سے بڑھ جانے والوں کو خوب جانتا ہے
[123] یہ غالباً سورۃ نحل کی آیت نمبر 115 کی طرف اشارہ ہے وہاں بھی مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے نام پر مشہور کردہ چیزوں کا ذکر ہے پھر انہی چیزوں کا ذکر اسی سورۃ کی آیت نمبر 145 میں بھی آیا ہے۔ پھر سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 173 پھر سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 3 میں کچھ مزید تفصیلات بھی آ گئی ہیں۔ لہٰذا سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 3 کا حاشیہ ملاحظہ کر لیا جائے۔ [124] ان لوگوں سے مراد وہی علمائے یہود ہیں جنہوں نے مشرکین مکہ کو یہ پٹی پڑھائی تھی اور وہ حد سے گزرنے والے اس لحاظ سے تھے کہ ایک تو خود گمراہ تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے تھے اور شکوک و شبہات میں ڈالنا چاہتے تھے اور دوسرے اس لیے کہ یہ سب کچھ انہوں نے ازراہ شرارت کیا تھا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو وہ خوب جانتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام ٭٭
حکم بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھا لیا کرو ‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھا لیا کرتے تھے۔ کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے۔ «فَصَّلَ» کی دوسری قرأت «فَصَلَ» ہے وہ حرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بے بسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔ پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لیے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔