فَکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ بِاٰیٰتِہٖ مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾
تو اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو۔
En
تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو
En
سو جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ! اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 118) {فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ ……:} یعنی وہ حلال جانورجسے ذبح یا شکار کرتے وقت اﷲ کا نام یعنی{ ” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ “} لیا جائے اسے کھاؤ، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو، یعنی صرف ایسا ذبیحہ کھانا ایمان کا تقاضا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
118۔ 1 یعنی جس جانور پر شکار کرتے وقت یا ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ اسے کھالو بشرطیکہ وہ ان جانوروں میں سے ہو جن کا کھانا حلال ہے۔ اس کا مظلب یہ ہوا کہ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ حلال و طیب نہیں البتہ اس سے ایسی صورت مستشنٰی ہے جس میں یہ التباس ہو کہ ذبح کے وقت ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر اسے کھالو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ سے پوچھا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں (اس سے مراد اعرابی تھے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی تعلیم و تربیت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے) ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا یا نہیں؟ آپ نے فرمایا تم اللہ کا نام لے کر اسے کھالو ' البتہ شبہ کی صورت میں یہ رخصت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کے جانور کا گوشت بسم اللہ پڑھ لینے سے حلال ہوجائے گا۔ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی منڈیوں اور دکانوں پر ملنے والا گوشت حلال ہے۔ ہاں اگر کسی کو وہم اور التباس ہو تو وہ کھاتے وقت بسم اللہ پڑھ لے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
118۔ (اے ایمان والو!) اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس چیز پر [122] اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے (بلا تکلف) کھاؤ
[122] حلال جانور کو کھانے کی شرائط:۔
کسی حلال جانور کو کھانے کے لیے شریعت نے دو شرائط عائد کی ہیں۔ ایک یہ کہ ذبح کیا جائے اور اس کا خون نکال دیا جائے دوسرے ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو یہ شرارت سمجھائی کہ مسلمانوں سے پوچھو کہ جو چیز اللہ نے ماری ہو اسے تو تم حرام قرار دیتے ہو اور جو چیز تم خود مارو اسے حلال سمجھتے ہو۔
ایمان لانے کے بعد وحی کی اتباع ضروری ہے خواہ اس حکم کی سمجھ آئے یا نہ آئے:۔
اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ جب تم نے بنیادی طور پر دلائل صحیحہ کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم کر لیا ہے تو اب فروع و جزئیات کی صحت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر ہر اصل اور فرع کو قبول کرنا ہمارے ہی عقلی قیاسات پر موقوف ہو تو پھر وحی اور نبوت کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ بالفاظ دیگر ہر شخص ایمان لانے یا نہ لانے کی حد تک تو خود مختار ہے۔ چاہے ایمان لائے یا نہ لائے۔ لیکن جب ایمان لا چکا تو پھر اسے وحی کے تابع رہ کر چلنا ہو گا خواہ اسے شرعی احکام کی علت یا مصلحت سمجھ میں آئے یا نہ آئے تاہم علماء نے اس بات کی تصریح کر دی ہے کہ اللہ نے صرف وہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا کھانا انسان کی جسمانی یا روحانی صحت کے لئے مضر ہو۔ ذبح کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ خون جسے اللہ نے حرام کر دیا ہے جانور کے جسم سے نکل جاتا ہے اور جانور پاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ خون جسم میں رہ جائے تو جسمانی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے اور اللہ کا نام لینے کا حکم کھانے میں برکت اور روحانی تربیت کے لیے دیا گیا ہے۔ «والله اعلم بالصواب»
ذبح پر مشرکوں کا اعتراض اور مردار کھا لینا:
کافروں کا دستور یہ تھا کہ وہ مرا ہوا جانور تو کھا لیتے ہیں لیکن خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کر کے نہیں کھاتے تھے۔ مرے ہوئے کے متعلق وہ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ اسے اللہ نے مارا ہے لہٰذا اس کا کھانا جائز ہے اور خود ذبح کرنے کو کسی جانور کا خون کرنے کے مترادف سمجھتے تھے خواہ اس پر اللہ کا نام ہی لیا جائے۔ اسی بنا پر یہود نے ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا تھا حالانکہ یہود تو اصل حقیقت سے واقف تھے۔ مگر اسلام دشمنی نے ان دونوں کو ہم نوا بنا دیا تھا۔ یہود کے اس پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی گمراہ کن چال سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے یعنی حلال طریقہ پر ذبح کیا جائے۔ اس کے کھانے میں تمہیں کسی قسم کا تامل نہ ہونا چاہیے اور ان لوگوں کے اس پروپیگنڈہ کا کچھ اثر قبول نہ کرنا چاہیے اس لیے کہ جو اشیاء فی الواقع حرام ہیں ان کے متعلق احکام تمہیں پہلے بتلائے جا چکے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام ٭٭
حکم بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھا لیا کرو ‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھا لیا کرتے تھے۔
کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے۔ «فَصَّلَ» کی دوسری قرأت «فَصَلَ» ہے وہ حرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بے بسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔
پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لیے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔
کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے۔ «فَصَّلَ» کی دوسری قرأت «فَصَلَ» ہے وہ حرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بے بسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔
پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لیے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔