تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن جریر میں ہے کہ { مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں موسیٰ علیہ السلام ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور ثمود علیہ السلام نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جو معجزہ ہم کہیں دکھا دیں واللہ ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو؟ } انہوں نے کہا کہ آپ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دیں پھر تو قسم اللہ کی ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جاننے لگیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی وہیں جبرائیل آئے اور فرمانے لگے ”سنئے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو اللہ بھی اس صفا پہار کو سونے کا کر دے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کر دے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آ جائیں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں اللہ تعالیٰ میں صفا کا سونا نہیں چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر اور ان میں سے جسے چاہے ہدایت نصیب فرما }۔ اسی پر یہ آیتیں «وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] تک نازل ہوئیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13750:مرسل] یہ حدیث گو مرسل ہے لیکن اس کے شاہد بہت ہیں۔
«أَنَّهَا» کی دوسری قرأت «اِنَّهَا» بھی ہے اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کی دوسری قرأت «لَا تُؤْمِنُونَ» ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ’ اے مشرکین کیا خبر ممکن ہے خود تمہارے طلب کردہ معجزوں کے آ جانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو ‘۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں خطاب مومنوں سے ہے یعنی ’ اے مسلمانو! تم نہیں جانتے یہ لوگ ان نشانیوں کے ظاہر ہو چکنے پر بھی بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔
اس صورت میں «أَنَّهَا» الف کے زیر کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور الف کے زبر کے ساتھ بھی «يُشْعِرُكُمْ» کا معمول ہو کر اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کا لام اس صورت میں صلہ ہو گا جیسے آیت «قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» ۱؎ [7-الأعراف:12] میں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «أَنَّهَا» معنی میں «لَعَلَّهَا» کے ہے،بلکہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «أَنَّهَا» کے بدلے «لَعَلَّهَا» ہی ہے۔ عرب کے محاورے میں اور شعروں میں بھی یہی پایا گیا ہے، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کے بہت سے شواہد بھی انہوں نے پیش کئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ ان کی بات سے پہلے یہ جانتا تھا کہ یہ کیا کہیں گے؟ اور ان کے عمل سے پہلے جانتا تھا کہ یہ کیا کریں گے؟ اسی لیے اس نے بتلا دیا کہ ایسا ہو گا فرماتا ہے آیت «وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» ۱؎ [35-فاطر:14] ’ اللہ تعالیٰ جو کامل خبر رکھنے والا ہے اور اس جیسی خبر اور کون دے سکتا ہے؟ ‘۔
اس نے فرمایا کہ «أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ» ۱؎ [39-الزمر:56-58] ’ یہ لوگ قیامت کے روز حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کریں گے کہ اگر اب لوٹ کر دنیا کی طرف جائیں تو نیک اور بھلے بن کر رہیں ‘۔
لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے «وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:28] ’ اگر بالفرض یہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی یہ ایسے کے ایسے ہی رہیں گے اور جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کریں گے، ہرگز نہ چھوڑیں گے ‘۔
یہاں بھی فرمایا کہ ’ معجزوں کا دیکھنا بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگا ان کی نگاہیں حق کو دیکھنے والی ہی نہیں رہیں ان کے دل میں حق کیلئے کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔ پہلی بار ہی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اسی طرح نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ایمان سے محروم رہیں گے۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بہکتے اور بھٹکتے حیران و سرگرداں رہیں گے ‘۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھے۔ آمین)۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وأقسم المشركون المكذِّبون للرسول محمد - صلى الله عليه وسلم - {بالله جَهْدَ أيمانِهِم}؛ أي: قسماً اجتهدوا فيه وأكَّدوه، {لئن جاءتْهم آيةٌ}: تدلُّ على صدق محمد - صلى الله عليه وسلم -، {ليؤمنُنَّ بها}: وهذا الكلام الذي صدر منهم لم يكن قصدُهم فيه الرشاد، وإنما قصدُهم دفع الاعتراض عليهم وردُّ ما جاء به الرسول قطعاً؛ فإنَّ الله أيَّد رسوله - صلى الله عليه وسلم - بالآيات البينات والأدلة الواضحات التي عند الالتفات لها لا تَبْقَى أدنى شُبهة ولا إشكال في صحَّة ما جاء به؛ فطلبهم بعد ذلك للآيات من باب التعنُّت الذي لا يلزم إجابته، بل قد يكون المنع من إجابتهم أصلح لهم؛ فإنَّ الله جرت سنَّتُهُ في عباده أن المقترحين للآيات على رسلهم إذا جاءتهم فلم يؤمنوا بها أنه يعاجلهم بالعقوبة، ولهذا قال: {قل إنَّما الآياتُ عند الله}؛ أي: هو الذي يرسلها إذا شاء، ويمنعها إذا شاء، ليس لي من الأمر شيء، فطلبُكم مني الآيات ظلمٌ وطلبٌ لما لا أملك، وإنما توجَّهون إلى توضيح ما جئتكم به وتصديقه، وقد حصل، ومع ذلك؛ فليس معلوماً أنَّهم إذا جاءتهم الآيات يؤمنون ويصدِّقون، بل الغالب ممن هذه حاله [أنه] لا يؤمن، ولهذا قال: {وما يشعِرُكم أنها إذا جاءتْ لا يؤمنونَ}.