وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل مزین کر دیا ہے، پھر ان کے رب ہی کی طرف ان کا لوٹنا ہے تو وہ انھیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔
En
اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے
En
اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وه براه جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے ہم نے اسی طرح ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل مرغوب بنا رکھا ہے۔ پھر اپنے رب ہی کے پاس ان کو جانا ہے سو وه ان کو بتلا دے گا جو کچھ بھی وه کیا کرتے تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 108) ➊ {وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یہ آیت سد ذرائع کی دلیل ہے، یعنی اگر ایک جائز کام کسی بڑی خرابی کا ذریعہ بنتا ہو تو اس جائز کام کو بھی چھوڑنا ضروری ہے۔ یعنی اگر تم مشرکین کے معبودوں کو گالی دو گے تو وہ جہالت سے اللہ تعالیٰ کو گالی دیں گے اور تم اس کا سبب بنو گے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ماں باپ کو گالی دینے سے منع فرمایا کہ اس طرح تم خود اپنے والدین کو گالی دینے کا سبب بن جاؤ گے۔ [بخاری، الأدب، باب لا یسب الرجل والدیہ: ۵۹۷۳]
➋ {كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ …:} یعنی انسان کی عادت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ہر کام کو، چاہے وہ در حقیقت اچھا ہو یا برا، اچھا ہی سمجھتا ہے، یعنی: «كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ» [المؤمنون: ۵۳] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔“ لیکن انسان میں غور و فکر کی صلاحیت بھی رکھی ہے کہ وہ برے کام کو پوری آزادی سے چھوڑ کر نیک راستہ اختیار کر سکتا ہے، دنیا کا ہر کام اللہ کے چاہنے سے ہوتا ہے، وہ نہ چاہے تو نہیں ہوتا۔ انسانوں کو امتحان کے لیے اچھے برے دونوں کاموںکا اختیار دینا بھی اس کی مرضی اور حکمت سے ہے، مگر وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور برے کاموں کو پسند نہیں کرتا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۷)۔
➋ {كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ …:} یعنی انسان کی عادت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ہر کام کو، چاہے وہ در حقیقت اچھا ہو یا برا، اچھا ہی سمجھتا ہے، یعنی: «كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ» [المؤمنون: ۵۳] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔“ لیکن انسان میں غور و فکر کی صلاحیت بھی رکھی ہے کہ وہ برے کام کو پوری آزادی سے چھوڑ کر نیک راستہ اختیار کر سکتا ہے، دنیا کا ہر کام اللہ کے چاہنے سے ہوتا ہے، وہ نہ چاہے تو نہیں ہوتا۔ انسانوں کو امتحان کے لیے اچھے برے دونوں کاموںکا اختیار دینا بھی اس کی مرضی اور حکمت سے ہے، مگر وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور برے کاموں کو پسند نہیں کرتا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یہ سد ذریعہ کے اصول پر مبنی ہے کہ اگر ایک درست کام، اس سے بھی زیادہ بڑی خرابی کا سبب بنتا ہو تو وہاں اس درست کام کا ترک راجح اور بہتر ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کسی کے ماں باپ کو گالی مت دو کہ اس طرح تم خود اپنے والدین کے لئے گالی کا سبب بن جاؤ گے (صحیح مسلم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
108۔ (اے مسلمانو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالی نہ دو۔ ورنہ یہ لوگ جہالت کی وجہ سے چڑ کر اللہ کو گالی [109] دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو خوشنما [110] بنا دیا ہے۔ پھر انہیں اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو جو کچھ یہ کرتے رہے اس کی انہیں وہ خبر دے دے گا
[109] کسی بڑے فتنہ سے بچنے کے لئے کوئی اچھا کام چھوڑ دینا یا چھوٹنا فتنہ گوارا کر لینا:۔
صبر و ضبط سے کام لو اور غصہ میں آ کر ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہو ورنہ رد عمل کے طور پر تمہارے معبود حقیقی اللہ کو گالیاں دینا شروع کر دیں گے اور بالواسطہ تم خود ہی اللہ کو گالی دینے کا سبب بن جاؤ گے حالانکہ ان کے معبودوں کے برا ہونے میں کوئی شک نہیں اور ان کو برا کہنے میں کوئی حرج بھی نہیں بلکہ اچھی بات ہے اس آیت سے یہ اصول معلوم ہوا کہ اگر کسی اچھے کام کے کرنے سے اس کے رد عمل کے طور پر کسی بڑے فتنہ کا خوف ہو تو اس اچھے کام کو چھوڑ دینا چاہیے بلکہ اس سے بھی آگے یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب کسی چھوٹے فتنہ سے بچنے کی صورت میں کسی بڑے فتنہ کے بپا ہونے کا خطرہ ہو تو اس چھوٹے فتنہ کو گوارا کر لینا چاہیے اس کی واضح مثال یہ ہے کہ مکہ میں کچھ مسلمان اپنی کمزوری ایمان کی وجہ سے ہجرت نہیں کر رہے تھے اور مشرکین مکہ کے پاس ہی پناہ لیے ہوئے تھے۔ جب ان مشرکوں کی مسلمانوں سے جنگ ہوتی تو مشرک ان ہجرت نہ کرنے والوں کو اپنی فوج کے آگے کر دیتے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ سورة توبه]
اب اگر مسلمانوں کی فوج ان مسلمانوں کو مارے تو ان کے قتل کی مجرم بنتی ہے اور نہ مارے تو سارے مسلمان مرتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ان مسلمانوں کو مار دینا ہی قرین صواب ہے اور اللہ نے ایسے ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں پر سخت نکیر فرمائی ہے۔
اب اگر مسلمانوں کی فوج ان مسلمانوں کو مارے تو ان کے قتل کی مجرم بنتی ہے اور نہ مارے تو سارے مسلمان مرتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ان مسلمانوں کو مار دینا ہی قرین صواب ہے اور اللہ نے ایسے ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں پر سخت نکیر فرمائی ہے۔
جمہوری نظام پر تبصرہ اور ووٹ ڈالنے کی حیثیت:۔
موجودہ دور میں اس کی مثال کسی جمہوری نظام سیاست میں الیکشن کے دوران ووٹ ڈالنے کا مسئلہ ہے۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ جمہوری نظام اسلام اور اسلامی نظام خلافت کی عین ضد ہے۔ جمہوری نظام میں مقتدر اعلیٰ کوئی انسان یا ادارہ ہی ہو سکتا ہے جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا۔ بلکہ مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام اور جمہوریت میں سمجھوتہ ہونا نا ممکن ہے اگرچہ پاکستان کے دستور میں یہ الفاظ لکھ دیئے گئے ہیں کہ ”مقتدر اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے“ مگر اس پر عمل درآمد نا ممکن ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر فی الواقع اللہ تعالیٰ کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کر لیا جائے تو موجودہ جمہوری نظام کا از خود جنازہ نکل جاتا ہے۔ علاوہ ازیں جمہوری نظام میں پانچ باتیں ایسی ہیں جن میں سے کسی ایک کے بغیر بھی جمہوریت کی گاڑی چل ہی نہیں سکتی اور یہ باتیں شرعاً ناجائز ہیں اور وہ یہ ہیں۔
1۔ سیاسی پارٹیوں کے وجود کا ضروری ہونا۔
2۔ طلب امارت یعنی نمائندہ اسمبلی بننے کے لیے از خود درخواست دینا۔ پھر اس کے لیے ہر جائز و ناجائز ذرائع سے تگ و دو کرنا۔
3۔ کثرت رائے کو معیار حق قرار دینا۔
4۔ حق بالغ رائے دہی۔ یعنی ہر کس و ناکس کو بشمول خواتین ووٹ کا حق دینا۔
5۔ ہر کس و ناکس کے ووٹ کی قیمت برابر قرار دینا۔ اس صورت حال میں مناسب تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ووٹ ڈال کر اس نظام کی قطعاً حوصلہ افزائی نہ کی جائے مگر اس سے بھی بسا اوقات یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کوئی دین سے بے زار عنصر ہی برسراقتدار نہ آجائے لہٰذا جو پارٹی دینی لحاظ سے نسبتاً بہتر ہو اس سے تعاون کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور اس کا جواز صرف اس حد تک ہی ہے کہ ایک بڑے فتنہ کے سد باب کے لیے ایک چھوٹے فتنہ کو گوارا کر لیا جاتا ہے یہ تو اس کا وقتی علاج ہے اور اصل علاج یہ ہے کہ اس کا فرانہ نظام سیاست کو بدلنے کے لیے وہی راہ اختیار کی جائے جو انبیائے کرام کا شیوہ رہا ہے۔
1۔ سیاسی پارٹیوں کے وجود کا ضروری ہونا۔
2۔ طلب امارت یعنی نمائندہ اسمبلی بننے کے لیے از خود درخواست دینا۔ پھر اس کے لیے ہر جائز و ناجائز ذرائع سے تگ و دو کرنا۔
3۔ کثرت رائے کو معیار حق قرار دینا۔
4۔ حق بالغ رائے دہی۔ یعنی ہر کس و ناکس کو بشمول خواتین ووٹ کا حق دینا۔
5۔ ہر کس و ناکس کے ووٹ کی قیمت برابر قرار دینا۔ اس صورت حال میں مناسب تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ووٹ ڈال کر اس نظام کی قطعاً حوصلہ افزائی نہ کی جائے مگر اس سے بھی بسا اوقات یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کوئی دین سے بے زار عنصر ہی برسراقتدار نہ آجائے لہٰذا جو پارٹی دینی لحاظ سے نسبتاً بہتر ہو اس سے تعاون کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور اس کا جواز صرف اس حد تک ہی ہے کہ ایک بڑے فتنہ کے سد باب کے لیے ایک چھوٹے فتنہ کو گوارا کر لیا جاتا ہے یہ تو اس کا وقتی علاج ہے اور اصل علاج یہ ہے کہ اس کا فرانہ نظام سیاست کو بدلنے کے لیے وہی راہ اختیار کی جائے جو انبیائے کرام کا شیوہ رہا ہے۔
[110] ہر فرقہ اپنے ہی عقائد و اعمال میں کیوں خوش رہتا ہے؟
یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے اس کا نظام ہم نے ایسا رکھا ہے اور ایسے اسباب جمع کر دیئے ہیں کہ یہاں ہر قوم اپنے اعمال اور طور و طریق پر نازاں رہتی ہے اللہ نے انسانی دماغ کی ساخت ایسی نہیں بنائی کہ وہ صرف سچائی کے قبول اور پسند کرنے پر مجبور ہو اور غلطی کی طرف جانے کی اس میں گنجائش نہ ہو۔ البتہ اللہ کے پاس جا کر جب حقائق سامنے آجائیں گے تو ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں جو کام وہ کرتا رہا ہے کیسا تھا؟ اس دنیا میں اگر کوئی فرقہ حق کی مخالفت میں بھی سر گرم ہو تو اسے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سودا بازی نہیں ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو مشرکین کے معبودوں کو گالیاں دینے سے منع فرماتا ہے گو کہ اس میں کچھ مصلحت بھی ہو لیکن اس میں مفسدہ بھی ہے اور وہ بہت بڑا ہے یعنی ایسا نہ ہو کہ مشرک اپنی نادانی سے اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔
ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے ایسا ارادہ ظاہر کیا تھا اس پر یہ آیت اتری، قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسا ہوا تھا اس لیے یہ آیت اتری اور ممانعت کر دی گئی۔ ابن ابی حاتم میں سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ابوطالب کی موت کی بیماری کے وقت قریشیوں نے آپس میں کہا کہ چلو چل کر ابوطالب سے کہیں کہ وہ اپنے بھتیجے (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو روک دیں ورنہ یہ یقینی بات ہے کہ اب ہم اسے مار ڈالیں گے تو ممکن ہے کہ عرب کی طرف سے آواز اٹھے کہ چچا کی موجودگی میں تو قریشیوں کو چلی نہیں اس کی موت کے بعد مار ڈالا۔
یہ مشورہ کرکے ابوجہل، ابوسفیان، نضیر بن حارث، امیہ بن ابی خلف، عقبہ بن ابو محیط، عمرو بن العاص اور اسود بن بختری چلے۔ مطلب نامی ایک شخص کو ابوطالب کے پاس بھیجا کہ وہ ان کے آنے کی خبر دیں اور اجازت لیں۔ اس نے جا کر کہا کہ آپ کی قوم کے سردار آپ سے ملنا چاہتے ہیں ابوطالب نے کہا بلا لو یہ لوگ گئے اور کہنے لگے آپ کو ہم اپنا بڑا اور سردار مانتے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ستا رکھا ہے وہ ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ بلا کر منع کر دیجئیے ہم بھی اس سے رک جائیں گے۔
ابوطالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ابوطالب نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے بڑے یہاں جمع ہیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنبے قبیلے اور رشتے کے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کو چھوڑ دیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { خیر ایک بات میں کہتا ہوں یہ سب لوگ سوچ سمجھ کر اس کا جواب دیں۔ میں ان سے صرف ایک کلمہ طلب کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اگر یہ میری ایک بات مان لیں تو تمام عرب ان کا ماتحت ہو جائے تمام عجم ان کی مملکت میں آ جائے بڑی بڑی سلطنتیں انہیں خراج ادا کریں }۔
یہ سن کر ابوجہل نے کہا قسم ہے ایک ہی نہیں ایسی دس باتیں بھی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوں تو ہم ماننے کو موجود ہیں فرمائیے وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دو }۔
ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے ایسا ارادہ ظاہر کیا تھا اس پر یہ آیت اتری، قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسا ہوا تھا اس لیے یہ آیت اتری اور ممانعت کر دی گئی۔ ابن ابی حاتم میں سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ابوطالب کی موت کی بیماری کے وقت قریشیوں نے آپس میں کہا کہ چلو چل کر ابوطالب سے کہیں کہ وہ اپنے بھتیجے (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو روک دیں ورنہ یہ یقینی بات ہے کہ اب ہم اسے مار ڈالیں گے تو ممکن ہے کہ عرب کی طرف سے آواز اٹھے کہ چچا کی موجودگی میں تو قریشیوں کو چلی نہیں اس کی موت کے بعد مار ڈالا۔
یہ مشورہ کرکے ابوجہل، ابوسفیان، نضیر بن حارث، امیہ بن ابی خلف، عقبہ بن ابو محیط، عمرو بن العاص اور اسود بن بختری چلے۔ مطلب نامی ایک شخص کو ابوطالب کے پاس بھیجا کہ وہ ان کے آنے کی خبر دیں اور اجازت لیں۔ اس نے جا کر کہا کہ آپ کی قوم کے سردار آپ سے ملنا چاہتے ہیں ابوطالب نے کہا بلا لو یہ لوگ گئے اور کہنے لگے آپ کو ہم اپنا بڑا اور سردار مانتے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ستا رکھا ہے وہ ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ بلا کر منع کر دیجئیے ہم بھی اس سے رک جائیں گے۔
ابوطالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ابوطالب نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے بڑے یہاں جمع ہیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنبے قبیلے اور رشتے کے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کو چھوڑ دیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { خیر ایک بات میں کہتا ہوں یہ سب لوگ سوچ سمجھ کر اس کا جواب دیں۔ میں ان سے صرف ایک کلمہ طلب کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اگر یہ میری ایک بات مان لیں تو تمام عرب ان کا ماتحت ہو جائے تمام عجم ان کی مملکت میں آ جائے بڑی بڑی سلطنتیں انہیں خراج ادا کریں }۔
یہ سن کر ابوجہل نے کہا قسم ہے ایک ہی نہیں ایسی دس باتیں بھی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوں تو ہم ماننے کو موجود ہیں فرمائیے وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دو }۔
اس پر ان سب نے انکار کیا اور ناک بھوں چڑھائی۔ یہ بات دیکھ کر ابوطالب نے کہا پیارے بھتیجے اور کوئی بات کہو دیکھو تمہاری قوم کے سرداروں کو تمہاری یہ بات پسند نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چچا جان آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں اللہ کی قسم مجھے اسی ایک کلمہ کی دھن ہے اگر یہ لوگ سورج کو لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دیں جب بھی میں کوئی اور کلمہ نہیں کہوں گا }۔
یہ سن کر وہ لوگ اور بگڑے اور کہنے لگے بس ہم کہہ دیتے ہیں کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کو گالیاں دینے سے رک جائیں ورنہ پھر ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معبود کو گالیاں دیں گے۔ اس پر رب العالمین نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13744:مرسل]
اسی مصلحت کو مد نظر رکھ کر { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دے }۔ صحابہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی کیسے دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس طرح کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دے دوسرا اس کے باپ کو، یہ کسی کی ماں کو گالی دے وہ اس کی ماں کو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5973]
پھر فرماتا ہے ’ اسی طرح اگلی امتیں بھی اپنی گمراہی کو اپنے حق میں ہدایت سمجھتی رہیں ‘۔ یہ بھی رب کی حکمت ہے یاد رہے کہ سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے وہ انہیں ان کے سب برے بھلے اعمال کا بدلہ دے گا اور ضرور دے گا۔
یہ سن کر وہ لوگ اور بگڑے اور کہنے لگے بس ہم کہہ دیتے ہیں کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کو گالیاں دینے سے رک جائیں ورنہ پھر ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معبود کو گالیاں دیں گے۔ اس پر رب العالمین نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13744:مرسل]
اسی مصلحت کو مد نظر رکھ کر { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دے }۔ صحابہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی کیسے دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس طرح کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دے دوسرا اس کے باپ کو، یہ کسی کی ماں کو گالی دے وہ اس کی ماں کو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5973]
پھر فرماتا ہے ’ اسی طرح اگلی امتیں بھی اپنی گمراہی کو اپنے حق میں ہدایت سمجھتی رہیں ‘۔ یہ بھی رب کی حکمت ہے یاد رہے کہ سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے وہ انہیں ان کے سب برے بھلے اعمال کا بدلہ دے گا اور ضرور دے گا۔