ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۲۳﴾
وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ ہے، نہایت پاک، سلامتی والا،امن دینے والا،نگہبان، سب پر غالب، اپنی مرضی چلانے والا، بے حد بڑائی والا ہے، پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
En
وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات (ہر عیب سے) سلامتی امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
En
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے واﻻ، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی واﻻ، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 23) ➊ {هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} مزید صفات کے بیان کے لیے یہ جملہ دوبارہ ذکر فرمایا۔ تکرار سے مقصود اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک {” اللّٰهُ “} کی عظمت اور اس کی وحدانیت کا خاص اہتمام ہے۔
➋ { اَلْمَلِكُ:} یہ دوسری خبر ہے، اس پر الف لام کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ وہی ہے، کوئی اور نہیں، کیونکہ دوسرا کوئی اگر بادشاہ ہے تو چند لوگوں کا ہے، سب کا نہیں اور کچھ وقت کے لیے ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ سب کا بادشاہ اور ہمیشہ کے لیے بادشاہ ہے، جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے:
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمران ہے اک وہی باقی بتان آزری
مزید دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔ قرآن مجید میں اکیلے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کا ذکر متعدد مقامات پر ہے، دیکھیے سورۂ روم (۲۶)، حدید (۵)، فرقان (۲)، یس (۸۳) اور آلِ عمران (۲۶)۔
➌ {الْقُدُّوْسُ:} نہایت پاک۔ {” اَلْمَلِكُ “} کے بعد {” الْقُدُّوْسُ “} لانے میں ایک مناسبت یہ ہے کہ بادشاہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کے حکمرانوں میں پائے جانے والے عیوب اور خامیوں سے بالکل پاک ہے۔
➍ { السَّلٰمُ:} سراسر سلامتی ہے، یعنی سلامتی والا ہے۔ خود ہر آفت اور مصیبت سے سالم ہے اور سب کو سلامتی دینے والا اور محفوظ رکھنے والا ہے، دوسرے صاحبِ قوت لوگوں کی طرح ناحق تباہی و بربادی پھیلانے والا نہیں۔ ایک دعا میں یہ الفاظ ہیں: [اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ] [مسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ: ۵۹۲] ”اے اللہ! تو ہی سراسر سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ملتی ہے۔“
➎ { الْمُؤْمِنُ:} امن دینے والا۔ جسے بھی امن ملتا ہے اسی سے ملتا ہے۔
➏ { الْمُهَيْمِنُ:} نگران، نگہبان۔ تیسیر القرآن میں ہے: {” الْمُهَيْمِنُ “} کہتے ہیں: {” هَيْمَنَ الطَّائِرُ عَلٰي فِرَاخِهِ “} یعنی پرندے نے اپنے پر اپنے بچوں پر بچھا دیے، جیسے مرغی خطرے کے وقت اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے۔ لہٰذا {” الْمُهَيْمِنُ “} وہ ذات ہے جو (1)کسی کو خوف سے امن دے، (2) ہر وقت نگہبانی رکھے اور (3)کسی کا کوئی حق ضائع نہ ہونے دے۔ (منتہی الارب)
➐ { الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ: ” الْجَبَّارُ “} اپنی مرضی منوانے والا، جو دوسرے کو اپنا کام کرنے پر مجبور کر دے۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق پر جبار ہے، کیونکہ ان میں سے کسی کی جرأت نہیں کہ وہ اس سے جو کروانا چاہے وہ نہ کرے، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا قَالَتَاۤ اَتَيْنَا طَآىِٕعِيْنَ» [حٰمٓ السجدۃ: ۱۱] ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہو ا اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا مجبوری سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔“کوئی اس حد سے تجاوز نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کر دی ہے، جیسا کہ انسان ایک ٹانگ تو اٹھا کر کھڑا ہو سکتا ہے مگر دونوں نہیں۔ جبر کا ایک معنی ٹوٹی ہوئی ہڈی جوڑنا اور نقصان پورا کرنا بھی ہے، یعنی وہی ہے جو ہر ایک کا نقصان پورا کرنے والا ہے۔
➑ { الْمُتَكَبِّرُ:} اس کے دو مفہوم ہیں، ایک یہ کہ کوئی شخص فی الحقیقت بڑا نہ ہو مگر بڑا بننے کی کوشش کرے، خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان اور یہ صفت انتہائی مذموم ہے۔ دوسرا وہ جو فی الحقیقت بڑا ہو اور بڑا ہی ہو کر رہے اور یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سزاوار ہے اور اس کے حق میں یہ ایک خوبی ہے جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ کائنات کی باقی تمام چیزیں خواہ جاندار ہوں یا بے جان اس کے مقابلے میں چھوٹی اور حقیر ہیں۔ (تیسیر القرآن)
➒ {سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} یعنی یہ صفات دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک ہے جنھیں مشرکین نے اس کا شریک بنا رکھا ہے۔
➋ { اَلْمَلِكُ:} یہ دوسری خبر ہے، اس پر الف لام کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ وہی ہے، کوئی اور نہیں، کیونکہ دوسرا کوئی اگر بادشاہ ہے تو چند لوگوں کا ہے، سب کا نہیں اور کچھ وقت کے لیے ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ سب کا بادشاہ اور ہمیشہ کے لیے بادشاہ ہے، جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے:
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمران ہے اک وہی باقی بتان آزری
مزید دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔ قرآن مجید میں اکیلے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کا ذکر متعدد مقامات پر ہے، دیکھیے سورۂ روم (۲۶)، حدید (۵)، فرقان (۲)، یس (۸۳) اور آلِ عمران (۲۶)۔
➌ {الْقُدُّوْسُ:} نہایت پاک۔ {” اَلْمَلِكُ “} کے بعد {” الْقُدُّوْسُ “} لانے میں ایک مناسبت یہ ہے کہ بادشاہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کے حکمرانوں میں پائے جانے والے عیوب اور خامیوں سے بالکل پاک ہے۔
➍ { السَّلٰمُ:} سراسر سلامتی ہے، یعنی سلامتی والا ہے۔ خود ہر آفت اور مصیبت سے سالم ہے اور سب کو سلامتی دینے والا اور محفوظ رکھنے والا ہے، دوسرے صاحبِ قوت لوگوں کی طرح ناحق تباہی و بربادی پھیلانے والا نہیں۔ ایک دعا میں یہ الفاظ ہیں: [اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ] [مسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ: ۵۹۲] ”اے اللہ! تو ہی سراسر سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ملتی ہے۔“
➎ { الْمُؤْمِنُ:} امن دینے والا۔ جسے بھی امن ملتا ہے اسی سے ملتا ہے۔
➏ { الْمُهَيْمِنُ:} نگران، نگہبان۔ تیسیر القرآن میں ہے: {” الْمُهَيْمِنُ “} کہتے ہیں: {” هَيْمَنَ الطَّائِرُ عَلٰي فِرَاخِهِ “} یعنی پرندے نے اپنے پر اپنے بچوں پر بچھا دیے، جیسے مرغی خطرے کے وقت اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے۔ لہٰذا {” الْمُهَيْمِنُ “} وہ ذات ہے جو (1)کسی کو خوف سے امن دے، (2) ہر وقت نگہبانی رکھے اور (3)کسی کا کوئی حق ضائع نہ ہونے دے۔ (منتہی الارب)
➐ { الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ: ” الْجَبَّارُ “} اپنی مرضی منوانے والا، جو دوسرے کو اپنا کام کرنے پر مجبور کر دے۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق پر جبار ہے، کیونکہ ان میں سے کسی کی جرأت نہیں کہ وہ اس سے جو کروانا چاہے وہ نہ کرے، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا قَالَتَاۤ اَتَيْنَا طَآىِٕعِيْنَ» [حٰمٓ السجدۃ: ۱۱] ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہو ا اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا مجبوری سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔“کوئی اس حد سے تجاوز نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کر دی ہے، جیسا کہ انسان ایک ٹانگ تو اٹھا کر کھڑا ہو سکتا ہے مگر دونوں نہیں۔ جبر کا ایک معنی ٹوٹی ہوئی ہڈی جوڑنا اور نقصان پورا کرنا بھی ہے، یعنی وہی ہے جو ہر ایک کا نقصان پورا کرنے والا ہے۔
➑ { الْمُتَكَبِّرُ:} اس کے دو مفہوم ہیں، ایک یہ کہ کوئی شخص فی الحقیقت بڑا نہ ہو مگر بڑا بننے کی کوشش کرے، خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان اور یہ صفت انتہائی مذموم ہے۔ دوسرا وہ جو فی الحقیقت بڑا ہو اور بڑا ہی ہو کر رہے اور یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سزاوار ہے اور اس کے حق میں یہ ایک خوبی ہے جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ کائنات کی باقی تمام چیزیں خواہ جاندار ہوں یا بے جان اس کے مقابلے میں چھوٹی اور حقیر ہیں۔ (تیسیر القرآن)
➒ {سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} یعنی یہ صفات دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک ہے جنھیں مشرکین نے اس کا شریک بنا رکھا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ وہ اللہ ہی [29] ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ بادشاہ [30] ہے، پاک ذات [31]، سراسر سلامتی [32] والا، امن دینے [33] والا نگہبان [34]، ہر چیز پر غالب [35]، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا [36] اور کبریائی والا [37] ہے اللہ ان باتوں سے پاک [38] ہے جو یہ لوگ اس کا شریک بناتے ہیں
[29] آیت نمبر 22 سے 24 تک، تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی جامع صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ تاکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی پوری معرفت حاصل ہو اور وہ خود فراموشی یا غفلت سے بچا رہے۔ چند نام تو آیت 22 میں گزر چکے ہیں۔ مزید جو بیان ہوئے وہ یہ ہیں: [30] ﴿الملك﴾ یعنی علی الاطلاق بادشاہ، کسی مخصوص علاقے، ملک یا پوری زمین کا ہی نہیں، بلکہ پوری کائنات کا بادشاہ، اور بادشاہ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ اپنی مملکت میں جو قانون چاہے رائج کرے اور اس کو نافذ کرے اور اس کی رعایا یا مملوک اس قانون کو تسلیم کرنے اور اس پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پوری کائنات میں قانونی حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہی مقتدر اعلیٰ (Sovereign) ہے۔ اسی کی حاکمیت اور اسی کا قانون سب سے بالا تر ہے۔
[31] ﴿القُدُّوْسُ﴾ ﴿قَدُسَ﴾ کے معنی پاک و صاف ہونا ہے اور قدوس سے مراد وہ ذات ہے جو اضداد اور انداد (جمع ند بمعنی شریک) سے پاک ہو۔ (مقائیس اللغۃ) اور صاحب منجد کے نزدیک وہ ذات جو ہر بری بات اور نقص سے پاک ہو اور بابرکت بھی ہو۔
[32] ﴿السَّلاَمُ﴾ سلم یعنی بے گزند اور درست۔ صحیح و سالم اور بمعنی ظاہری اور باطنی آفات سے پاک اور محفوظ رہنا اور سلم ایسی چیز جو اپنی ذات میں درست بھی ہو اور اس پر کسی دوسرے کا کوئی حق نہ ہو۔ اور السلام کے معنی سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ اس میں از خود مبالغہ پیدا ہو جاتا ہے جیسے کسی حسین کو یہ کہہ دیا جائے کہ وہ سراپا حسن ہے۔ سلام کا ایک مطلب تو مندرجہ معنی سے واضح ہے اور دوسرا مطلب یہ کہ وہ دوسروں کو بھی سلامتی عطا کرنے والا ہے۔
[33] ﴿المؤمن﴾ ﴿اَمَنَ﴾ بمعنی خوف و خطر سے محفوظ ہونا اور مؤمن کے معنی دوسروں کو امان دینے والا۔ امن عطا کرنے والا۔ یعنی ایسا قانون دینے والا جس سے فساد فی الارض کے بجائے امن و امان قائم ہو نیز مخلوق اللہ کی طرف سے کسی قسم کی حق تلفی، زیادتی یا ظلم کے خوف سے مکمل طور پر امن میں رہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی مصدق کے ہیں۔ یعنی اپنی اور اپنے رسولوں کی قولاً اور فعلاً تصدیق کرنے والا یا مومنوں کے ایمان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا ہے۔
[34] اسمائے حسنیٰ کی لغوی تشریح :۔
﴿المُهَيْمِنُ﴾ کہتے ہیں ﴿هَيْمَنَ الطائرُ علٰي فَراخِهٖ﴾ یعنی پرندے نے اپنے پر اپنے بچے پر بچھا دیئے۔ جیسے مرغی خطرہ کے وقت اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے۔ لہٰذا مہیمن وہ ذات ہے جو: (1) کسی کو خوف سے امن دے، (2) ہر وقت نگہبانی رکھے اور (3) کسی کا کوئی حق ضائع نہ ہونے دے (منتہی الارب)
[35] ﴿العزيز﴾ بمعنی بالا دست (ضد ذلیل بمعنی زیردست) جیسے دیہات میں ایک طبقہ کمین لوگوں کا ہوتا ہے جو زیردست ہوتا ہے اور دوسرا زمینداروں کا جو بالا دست ہوتا ہے۔ اور ﴿العزيز﴾ سے مراد وہ بالا دست ہستی ہے جس کے مقابلہ میں کوئی سر نہ اٹھا سکتا ہو۔ جس کی مزاحمت کرنا کسی کے بس میں نہ ہو۔ جس کے آگے سب بے بس بے زور اور کمزور ہوں۔
[36] ﴿الجَبَّارُ﴾ ﴿جبر﴾ میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ (1) زبردستی کرنا (2) اصلاح۔ یعنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کر دینا۔ اور ﴿جَبَرَ العَظْم﴾ بمعنی ٹوٹی ہوئی ہڈی کو درست کرنا۔ نیز کبھی یہ لفظ محض زبردستی کرنے کے معنوں میں بھی آجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جبار اس لحاظ سے ہے، کائنات کے نظام کو بزور درست رکھنے والا ہے اور اپنے ارادوں کو جو سراسر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں پوری قوت سے نافذ کرنے والا ہے۔
[37] ﴿المُتَكَبِّرُ﴾ کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص فی الحقیقت بڑا نہ ہو مگر بڑا بننے کی کوشش کرے۔ خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان اور یہ صفت انتہائی مذموم ہے۔ دوسرا وہ جو فی الحقیقت بڑا ہو اور بڑا ہی ہو کر رہے۔ اور یہ صفت صرف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے۔ اور اس کے حق میں یہ ایک خوبی ہے جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ کائنات کی باقی تمام چیزیں خواہ جاندار ہوں یا بے جان اس کے مقابلہ میں چھوٹی یا حقیر ہیں۔
[38] یعنی جو لوگ اللہ کی ذات یا صفات میں دوسروں کو بھی شریک بنا لیتے ہیں وہ اللہ پر بہتان باندھتے ہیں۔ کیونکہ اللہ ایسی تمام باتوں سے پاک ہے۔ اس کے اختیارات و تصرفات میں کسی کو ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔
[35] ﴿العزيز﴾ بمعنی بالا دست (ضد ذلیل بمعنی زیردست) جیسے دیہات میں ایک طبقہ کمین لوگوں کا ہوتا ہے جو زیردست ہوتا ہے اور دوسرا زمینداروں کا جو بالا دست ہوتا ہے۔ اور ﴿العزيز﴾ سے مراد وہ بالا دست ہستی ہے جس کے مقابلہ میں کوئی سر نہ اٹھا سکتا ہو۔ جس کی مزاحمت کرنا کسی کے بس میں نہ ہو۔ جس کے آگے سب بے بس بے زور اور کمزور ہوں۔
[36] ﴿الجَبَّارُ﴾ ﴿جبر﴾ میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ (1) زبردستی کرنا (2) اصلاح۔ یعنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کر دینا۔ اور ﴿جَبَرَ العَظْم﴾ بمعنی ٹوٹی ہوئی ہڈی کو درست کرنا۔ نیز کبھی یہ لفظ محض زبردستی کرنے کے معنوں میں بھی آجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جبار اس لحاظ سے ہے، کائنات کے نظام کو بزور درست رکھنے والا ہے اور اپنے ارادوں کو جو سراسر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں پوری قوت سے نافذ کرنے والا ہے۔
[37] ﴿المُتَكَبِّرُ﴾ کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص فی الحقیقت بڑا نہ ہو مگر بڑا بننے کی کوشش کرے۔ خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان اور یہ صفت انتہائی مذموم ہے۔ دوسرا وہ جو فی الحقیقت بڑا ہو اور بڑا ہی ہو کر رہے۔ اور یہ صفت صرف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے۔ اور اس کے حق میں یہ ایک خوبی ہے جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ کائنات کی باقی تمام چیزیں خواہ جاندار ہوں یا بے جان اس کے مقابلہ میں چھوٹی یا حقیر ہیں۔
[38] یعنی جو لوگ اللہ کی ذات یا صفات میں دوسروں کو بھی شریک بنا لیتے ہیں وہ اللہ پر بہتان باندھتے ہیں۔ کیونکہ اللہ ایسی تمام باتوں سے پاک ہے۔ اس کے اختیارات و تصرفات میں کسی کو ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ کی صفات ٭٭
اس مالک رب معبود کے سوا اور کوئی ان اوصاف والا نہیں، تمام چیزوں کا تنہا وہی مالک و مختار ہے، ہر چیز کا ہیر پھیر کرنے والا، سب پر قبضہ اور تصرف رکھنے والا بھی وہی ہے، کوئی نہیں جو اس کی مزاحمت یا مدافعت کر سکے یا اسے ممانعت کر سکے، وہ قدوس ہے، یعنی طاہر ہے، مبارک ہے، ذاتی اور صفاتی نقصانات سے پاک ہے، تمام بلند مرتبہ فرشتے اور سب کی سب اعلیٰ مخلوق اس کی تسبیح و تقدیس میں علی الدوام مشغول ہے، کل عیبوں اور نقصانوں سے مبرا اور منزہ ہے، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں، اپنے افعال میں بھی اس کی ذات ہر طرح کے نقصان سے پاک ہے، وہ «مومن» ہے یعنی تمام مخلوق کو اس نے اس بات سے بے خوف رکھا ہے کہ ان پر کسی طرح کا کسی وقت اپنی طرف سے ظلم ہو، اس نے یہ فرما کر کہ یہ حق ہے سب کو امن دے رکھا ہے، اپنے ایماندار بندوں کے ایمان کی تصدیق کرتا ہے۔
وہ «المهيمن» ہے یعنی اپنی تمام مخلوق کے اعمال کا ہر وقت یکساں طور شاہد ہے اور نگہبان ہے، جیسے فرمان ہے «وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» ۱؎ [85-البروج:9] ’ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاہد ہے۔‘
وہ «المهيمن» ہے یعنی اپنی تمام مخلوق کے اعمال کا ہر وقت یکساں طور شاہد ہے اور نگہبان ہے، جیسے فرمان ہے «وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» ۱؎ [85-البروج:9] ’ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاہد ہے۔‘
اور فرمان ہے «ثُمَّ اللَّـهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:46] ’ اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال پر گواہ ہے‘
اور جگہ فرمایا «أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ» ۱؎ [13-الرعد:33]، مطلب یہ ہے کہ ’ ہر نفس جو کچھ کر رہا ہے اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ‘
وہ «عزیز» ہے ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے، کل مخلوق پر وہ غالب ہے پس اس کی عزت عظمت، جبروت کبریائی کی وجہ سے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا، وہ «جبار» اور «متکبر» ہے، جبریت اور کبر صرف اسی کے شایان شان ہے۔
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے { عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو مجھ سے ان دونوں میں سے کسی کو چھیننا چاہے گا میں اسے عذاب کروں گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2660]
اپنی مخلوق کو جس چیز پر چاہے وہ رکھ سکتا ہے، کل کاموں کی اصلاح اسی کے ہاتھ ہے، وہ ہر برائی سے نفرت اور دوری رکھنے والا ہے، جو لوگ اپنی کم سمجھی کی وجہ سے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں وہ ان سب سے بیزار ہے، اس کی الوہیت شرکت سے مبرا ہے، اللہ تعالیٰ خالق ہے یعنی مقدر مقرر کرنے والا، پھر باری ہے یعنی اسے جاری اور ظاہر کرنے والا، کوئی ایسا نہیں کہ جو تقدیر اور تنقید دونوں پر قادر ہو، جو چاہے اندازہ مقرر کرے اور پھر اسی کے مطابق اسے چلائے بھی، کبھی بھی اس میں فرق نہ آنے دے، بہت سے ترتیب دینے والے اور اندازہ کرنے والے ہیں، جو پھر اسے جاری کرنے اور اسی کے مطابق برابر جاری رکھنے پر قادر نہیں، تقدیر کے ساتھ ایجاد اور تنقید پر بھی قدرت رکھنے والی اللہ کی ہی ذات ہے، پس «خلق» سے مراد تقدیر اور «برء» سے مراد تنفیذ ہے۔
عرب میں یہ الفاظ ان معنوں میں برابر بطور مثال کے بھی مروج ہیں، اسی کی شان ہے کہ جس چیز کو جب جس طرح کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی طرح اسی صورت میں ہو جاتی ہے جیسے فرمان ہے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الإنفطار:8] ’ جس صورت میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دی۔ ‘ اسی لیے یہاں فرماتا ہے وہ مصور بےمثل ہے یعنی جس چیز کی ایجاد جس طرح کی چاہتا ہے کہ گزرتا ہے۔
اور جگہ فرمایا «أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ» ۱؎ [13-الرعد:33]، مطلب یہ ہے کہ ’ ہر نفس جو کچھ کر رہا ہے اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ‘
وہ «عزیز» ہے ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے، کل مخلوق پر وہ غالب ہے پس اس کی عزت عظمت، جبروت کبریائی کی وجہ سے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا، وہ «جبار» اور «متکبر» ہے، جبریت اور کبر صرف اسی کے شایان شان ہے۔
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے { عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو مجھ سے ان دونوں میں سے کسی کو چھیننا چاہے گا میں اسے عذاب کروں گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2660]
اپنی مخلوق کو جس چیز پر چاہے وہ رکھ سکتا ہے، کل کاموں کی اصلاح اسی کے ہاتھ ہے، وہ ہر برائی سے نفرت اور دوری رکھنے والا ہے، جو لوگ اپنی کم سمجھی کی وجہ سے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں وہ ان سب سے بیزار ہے، اس کی الوہیت شرکت سے مبرا ہے، اللہ تعالیٰ خالق ہے یعنی مقدر مقرر کرنے والا، پھر باری ہے یعنی اسے جاری اور ظاہر کرنے والا، کوئی ایسا نہیں کہ جو تقدیر اور تنقید دونوں پر قادر ہو، جو چاہے اندازہ مقرر کرے اور پھر اسی کے مطابق اسے چلائے بھی، کبھی بھی اس میں فرق نہ آنے دے، بہت سے ترتیب دینے والے اور اندازہ کرنے والے ہیں، جو پھر اسے جاری کرنے اور اسی کے مطابق برابر جاری رکھنے پر قادر نہیں، تقدیر کے ساتھ ایجاد اور تنقید پر بھی قدرت رکھنے والی اللہ کی ہی ذات ہے، پس «خلق» سے مراد تقدیر اور «برء» سے مراد تنفیذ ہے۔
عرب میں یہ الفاظ ان معنوں میں برابر بطور مثال کے بھی مروج ہیں، اسی کی شان ہے کہ جس چیز کو جب جس طرح کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی طرح اسی صورت میں ہو جاتی ہے جیسے فرمان ہے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الإنفطار:8] ’ جس صورت میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دی۔ ‘ اسی لیے یہاں فرماتا ہے وہ مصور بےمثل ہے یعنی جس چیز کی ایجاد جس طرح کی چاہتا ہے کہ گزرتا ہے۔
پیارے پیارے بہترین اور بزرگ تر ناموں والا وہی ہے، سورۃ الاعراف میں اس جملہ کی تفسیر گزر چکی ہے، نیز وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے جو بخاری مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں شمار کر لے یاد رکھ لے وہ جنت میں داخل ہو گا وہ وتر ہے یعنی واحد ہے اور اکائی کو دوست رکھتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6410]
ترمذی میں ان ناموں کی صراحت بھی آئی ہے جو نام یہ ہیں۔ «هُوَ اللَّه الَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ الرَّحْمَن الرَّحِيم الْمَلِك الْقُدُّوس السَّلَام الْمُؤْمِن الْمُهَيْمِن الْعَزِيز الْجَبَّار الْمُتَكَبِّر الْخَالِق الْبَارِئ الْمُصَوِّر الْغَفَّار الْقَهَّار الْوَهَّاب الرَّزَّاق الْفَتَّاح الْعَلِيم الْقَابِض الْبَاسِط الْخَافِض الرَّافِع الْمُعِزّ الْمُذِلّ السَّمِيع الْبَصِير الْحَكَم الْعَدْل اللَّطِيف الْخَبِير الْحَلِيم الْعَظِيم الْغَفُور الشَّكُور الْعَلِيّ الْكَبِير الْحَفِيظ الْمُقِيت الْحَسِيب الْجَلِيل الْكَرِيم الرَّقِيب الْمُجِيب الْوَاسِع الْحَكِيم الْوَدُود الْمَجِيد الْبَاعِث الشَّهِيد الْحَقّ الْوَكِيل الْقَوِيّ الْمَتِين الْوَلِيّ الْحَمِيد الْمُحْصِي الْمُبْدِئ الْمُعِيد الْمُحْيِي الْمُمِيت الْحَيّ الْقَيُّوم الْوَاجِد الْمَاجِد الْوَاحِد الصَّمَد الْقَادِر الْمُقْتَدِر الْمُقَدِّم الْمُؤَخِّر الْأَوَّل الْآخِر الظَّاهِر الْبَاطِن الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرّ التَّوَّاب الْمُنْتَقِم الْعَفُوّ الرَّءُوف مَالِك الْمُلْك ذُو الْجَلَال وَالْإِكْرَام الْمُقْسِط الْجَامِع الْغَنِيّ الْمُغْنِي الْمُعْطِي الْمَانِع الضَّارّ النَّافِع النُّور الْهَادِي الْبَدِيع الْبَاقِي الْوَارِث الرَّشِيد الصَّبُور» ۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3507،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں کچھ تقدیم تاخیر کمی زیادتی بھی ہے، الغرض ان تمام احادیث وغیرہ کا بیان پوری طرح سورۃ الاعراف میں گزر چکا ہے، اس لیے یہاں صرف اتنا لکھ دینا کافی ہے باقی سب کو دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ آسمان و زمین کی کل چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] یعنی ’ اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، ساتوں آسمان اور زمینیں اور ان میں جو مخلوق ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح حمد کے ساتھ بیان نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بردبار اور بخشش کرنے والا ہے۔‘
وہ عزیز ہے اس کی حکمت والی سرکار اپنے احکام اور تقدیر کے تقدر میں ایسی نہیں کہ کسی طرح کی کمی نکالی جائے یا کوئی اعتراض قائم کیا جا سکے۔
ترمذی میں ان ناموں کی صراحت بھی آئی ہے جو نام یہ ہیں۔ «هُوَ اللَّه الَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ الرَّحْمَن الرَّحِيم الْمَلِك الْقُدُّوس السَّلَام الْمُؤْمِن الْمُهَيْمِن الْعَزِيز الْجَبَّار الْمُتَكَبِّر الْخَالِق الْبَارِئ الْمُصَوِّر الْغَفَّار الْقَهَّار الْوَهَّاب الرَّزَّاق الْفَتَّاح الْعَلِيم الْقَابِض الْبَاسِط الْخَافِض الرَّافِع الْمُعِزّ الْمُذِلّ السَّمِيع الْبَصِير الْحَكَم الْعَدْل اللَّطِيف الْخَبِير الْحَلِيم الْعَظِيم الْغَفُور الشَّكُور الْعَلِيّ الْكَبِير الْحَفِيظ الْمُقِيت الْحَسِيب الْجَلِيل الْكَرِيم الرَّقِيب الْمُجِيب الْوَاسِع الْحَكِيم الْوَدُود الْمَجِيد الْبَاعِث الشَّهِيد الْحَقّ الْوَكِيل الْقَوِيّ الْمَتِين الْوَلِيّ الْحَمِيد الْمُحْصِي الْمُبْدِئ الْمُعِيد الْمُحْيِي الْمُمِيت الْحَيّ الْقَيُّوم الْوَاجِد الْمَاجِد الْوَاحِد الصَّمَد الْقَادِر الْمُقْتَدِر الْمُقَدِّم الْمُؤَخِّر الْأَوَّل الْآخِر الظَّاهِر الْبَاطِن الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرّ التَّوَّاب الْمُنْتَقِم الْعَفُوّ الرَّءُوف مَالِك الْمُلْك ذُو الْجَلَال وَالْإِكْرَام الْمُقْسِط الْجَامِع الْغَنِيّ الْمُغْنِي الْمُعْطِي الْمَانِع الضَّارّ النَّافِع النُّور الْهَادِي الْبَدِيع الْبَاقِي الْوَارِث الرَّشِيد الصَّبُور» ۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3507،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں کچھ تقدیم تاخیر کمی زیادتی بھی ہے، الغرض ان تمام احادیث وغیرہ کا بیان پوری طرح سورۃ الاعراف میں گزر چکا ہے، اس لیے یہاں صرف اتنا لکھ دینا کافی ہے باقی سب کو دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ آسمان و زمین کی کل چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] یعنی ’ اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، ساتوں آسمان اور زمینیں اور ان میں جو مخلوق ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح حمد کے ساتھ بیان نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بردبار اور بخشش کرنے والا ہے۔‘
وہ عزیز ہے اس کی حکمت والی سرکار اپنے احکام اور تقدیر کے تقدر میں ایسی نہیں کہ کسی طرح کی کمی نکالی جائے یا کوئی اعتراض قائم کیا جا سکے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { جو شخص صبح کو تین مرتبہ «أَعُوذ بِاَللَّهِ السَّمِيع الْعَلِيم مِنْ الشَّيْطَان الرَّجِيم» پڑھ کر سورۃ الحشر کے آخر کی (ان) تین آیتوں «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [59-الحشر:22-24] کو پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے مقرر کرتا ہے جو شام تک اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا مرتبہ پاتا ہے اور جو شخص ان کی تلاوت شام کے وقت کرے وہ بھی اسی حکم میں ہے۔ } ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2922،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الحشر کی تفسیر ختم ہوئی۔
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الحشر کی تفسیر ختم ہوئی۔