اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا یَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِہِمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَئِنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَکُمۡ وَ لَا نُطِیۡعُ فِیۡکُمۡ اَحَدًا اَبَدًا ۙ وَّ اِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۱﴾
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے منافقت کی، وہ اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، یقینا اگر تمھیں نکالا گیا تو ضرور بالضرور ہم بھی تمھارے ساتھ نکلیں گے اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کی بات نہیں مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ضرور بالضرور ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں۔
En
کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں
En
کیا تو نے منافقوں کو نہ دیکھا؟ کہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم جلا وطن کیے گئے تو ضرور بالضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے اور تمہارے بارے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی جائے گی تو بخدا ہم تمہاری مدد کریں گے، لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ قطعاً جھوٹے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 11) ➊ {اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا …:} اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیات عبداللہ بن اُبی اور اس کے دوسرے منافق ساتھیوں کے بارے میں اتریں کہ انھوں نے بنو نضیر کے یہود کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے قلعوں میں ڈٹ جاؤ، اگر تمھیں نکالا گیا تو ہم تمھارے ساتھ نکلیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یقینا یہ لوگ جھوٹے ہیں، اگر انھیں نکالا گیا تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ مفسر آلوسی نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ سورت بنو نضیر کے واقعہ سے پہلے اتری ہے، جب کہ محدثین اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ سورت بنو نضیر کے واقعہ کے بعد اتری ہے، جب وہ جلا وطن کیے جا چکے تھے۔ آلوسی نے اشارے ہی پر اکتفا کیا ہے کہ ان آیات کو بنو نضیر کے متعلق سمجھنا درست نہیں۔ ابن عاشور نے اپنی تفسیر ”التحریر والتنویر“ میں لکھا ہے کہ منافقین نے جن کفار اہل کتاب کو یہ بات کہی تھی وہ بنو نضیر نہیں بلکہ بنو قریظہ اور خیبر کے یہودی تھے، کیونکہ بنو نضیر کا قصہ تو اس سے پہلے تمام ہو چکا تھا۔ اب وہ منافقین باقی ماندہ یہودیوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی تلقین کر رہے تھے اور انھیں یقین دلا رہے تھے کہ ہم ہر حال میں تمھارا ساتھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کو حوصلہ دلایا کہ فکر مت کرو، یہ کسی صورت میں بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔
ابنِ عاشور کی بات ہی درست ہے۔ ان آیات کو طبری میں مذکور ابن عباس رضی اللہ عنھما کے جس قول کے مطابق بنو نضیر کے متعلق قرار دیا گیا ہے اس کی سند ثابت نہیں، اس میں طبری کے شیخ محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں۔
➋ { ” اَلَمْ تَرَ “ ”أَلَمْ تَعْلَمْ“} کے معنی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بہت سے دلائل میں سے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین کی اس بات سے آگاہ کر دیا جو ان کے درمیان انتہائی راز کی بات تھی۔
➌ { يَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ:} جیسا کہ اوپر گزرا کہ ان کفار اہل کتاب سے مراد بنو قریظہ اور خیبر کے یہودی ہیں، انھیں منافقین کے بھائی قرار دینے سے ظاہر ہے کہ جس طرح ایمان والے آپس میں دوست اور بھائی ہیں (دیکھیے حجرات: ۱۰۔ انفال: ۷۲) اسی طرح کفار بھی کفر میں ایک دوسرے کے دوست اور بھائی ہیں،جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ» [الأنفال:۷۳] ”اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے بعض بعض کے دوست ہیں۔“ بھائی ہونے سے مراد نسبی اخوت نہیں ہے، کیونکہ عبداللہ بن ابی اور دوسرے اکثر منافقین اوس و خزرج کے مشرکین میں سے تھے، اہلِ کتاب سے ان کی اخوت کفر ہی میں تھی۔
➍ { لَىِٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا:} اس میں منافقین یہود کے دل میں آنے والے اس خطرے کا تدارک کر رہے ہیں کہ یہ لوگ اپنے قبیلوں اوس و خزرج میں سے مسلمان ہونے والوں کے رشتہ دار ہیں، ان مسلمانوں نے انھیں ہماری مدد سے منع کیا تو یہ مدد سے ہاتھ کھینچ لیں گے، اس لیے منافقین کہہ رہے ہیں کہ فکر مت کرو، ہم تمھارے بارے میں کسی کی بات نہیں مانیں گے۔
➎ { وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ:} اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی ہی بات کافی تھی کہ قسم کھا کر فرما دیا کہ بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ان کی ایک ایک بات ذکر کر کے فرمایا کہ وہ ان میں سے کوئی وعدہ پورا نہیں کریں گے۔ علم بلاغت میں اسے اطناب کہتے ہیں، یعنی کسی جگہ مختصر بات کا موقع ہوتا ہے، کسی جگہ توسط کا اور کہیں ضرورت ہوتی ہے کہ بات کو خوب لمبا کر کے بیان کیا جائے۔ یہاں منافقین کے جھوٹ کو واضح کرنے اور انھیں ذلیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بات کو لمبا کیا ہے۔ (ابن عاشور)
ابنِ عاشور کی بات ہی درست ہے۔ ان آیات کو طبری میں مذکور ابن عباس رضی اللہ عنھما کے جس قول کے مطابق بنو نضیر کے متعلق قرار دیا گیا ہے اس کی سند ثابت نہیں، اس میں طبری کے شیخ محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں۔
➋ { ” اَلَمْ تَرَ “ ”أَلَمْ تَعْلَمْ“} کے معنی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بہت سے دلائل میں سے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین کی اس بات سے آگاہ کر دیا جو ان کے درمیان انتہائی راز کی بات تھی۔
➌ { يَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ:} جیسا کہ اوپر گزرا کہ ان کفار اہل کتاب سے مراد بنو قریظہ اور خیبر کے یہودی ہیں، انھیں منافقین کے بھائی قرار دینے سے ظاہر ہے کہ جس طرح ایمان والے آپس میں دوست اور بھائی ہیں (دیکھیے حجرات: ۱۰۔ انفال: ۷۲) اسی طرح کفار بھی کفر میں ایک دوسرے کے دوست اور بھائی ہیں،جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ» [الأنفال:۷۳] ”اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے بعض بعض کے دوست ہیں۔“ بھائی ہونے سے مراد نسبی اخوت نہیں ہے، کیونکہ عبداللہ بن ابی اور دوسرے اکثر منافقین اوس و خزرج کے مشرکین میں سے تھے، اہلِ کتاب سے ان کی اخوت کفر ہی میں تھی۔
➍ { لَىِٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا:} اس میں منافقین یہود کے دل میں آنے والے اس خطرے کا تدارک کر رہے ہیں کہ یہ لوگ اپنے قبیلوں اوس و خزرج میں سے مسلمان ہونے والوں کے رشتہ دار ہیں، ان مسلمانوں نے انھیں ہماری مدد سے منع کیا تو یہ مدد سے ہاتھ کھینچ لیں گے، اس لیے منافقین کہہ رہے ہیں کہ فکر مت کرو، ہم تمھارے بارے میں کسی کی بات نہیں مانیں گے۔
➎ { وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ:} اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی ہی بات کافی تھی کہ قسم کھا کر فرما دیا کہ بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ان کی ایک ایک بات ذکر کر کے فرمایا کہ وہ ان میں سے کوئی وعدہ پورا نہیں کریں گے۔ علم بلاغت میں اسے اطناب کہتے ہیں، یعنی کسی جگہ مختصر بات کا موقع ہوتا ہے، کسی جگہ توسط کا اور کہیں ضرورت ہوتی ہے کہ بات کو خوب لمبا کر کے بیان کیا جائے۔ یہاں منافقین کے جھوٹ کو واضح کرنے اور انھیں ذلیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بات کو لمبا کیا ہے۔ (ابن عاشور)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 جیسے پہلے گزر چکا ہے کہ منافقین نے بنو نضیر کو یہ پیغام بھیجا تھا۔ 11۔ 2 چناچہ ان کا جھوٹ واضح ہو کر سامنے آگیا کہ بنو نضیر جلا وطن کردیئے گئے، لیکن یہ ان کی مدد کو پہنچے نہ ان کی حمایت میں مدینہ چھوڑنے پر آمادہ ہوئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے منافقت کی۔ وہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ: ”اگر تم جلاوطن کیے گئے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کی بات نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ ہوئی [15] تو یقیناً تمہاری مدد کریں گے“ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ سراسر [16] جھوٹے ہیں
[15] اس سے مراد عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین کی طرف سے بنو نضیر کے نام وہ پیغام ہے۔ جس نے یہود کو مزید سرکش بنا دیا تھا۔ اور یہی لوگ منافقوں کے حقیقتاً بھائی تھے۔ اور جس کی تفصیل پہلے اسی سورۃ کی آیت نمبر 2 کے حواشی میں گزر چکی ہے۔ اس پیغام کا آخری حصہ یہ تھا کہ یہ ہمارا اٹل اور قطعی فیصلہ ہے۔ کہ ہم ضرور تمہاری مدد کو پہنچیں گے۔ تمہارے معاملہ میں ہم اس کے خلاف کسی مسلمان کی بات نہیں مانیں گے نہ اس کی کچھ پروا سمجھیں گے۔ [16] یعنی جو پیغام انہوں نے یہودیوں کو بھیجا ہے۔ وہ بھی سرا سر جھوٹ ہے۔ جس سے وہ یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہے ہیں کہ وہ دلیر ہو کر جنگ لڑیں تو ہمارا کام از خود ہی بن جائے گا اور مسلمانوں سے نجات مل جائے گی۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ منافق نہ لڑائی میں ان کا ساتھ دینے کی نیت رکھتے ہیں اور نہ جلا وطنی میں۔ اور اگر وہ لڑائی میں حصہ لیں بھی تو دم دبا کر بھاگ نکلیں گے۔ کیونکہ مکار اور دغا باز لوگ ہمیشہ بزدل اور بھگوڑے ہوا کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کفر بزدلی کی گود ہے تلبیس ابلیس کا ایک انداز ٭٭
عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کر سکیں، نہ لڑائی میں ان کی مدد کر سکیں، نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں۔
اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی تیر و تلوار کی صورت دیکھتے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور نامردی کے ساتھ بھاگتے ہی بن پڑے۔
پھر مستقل طور پر پیش گوئی فرماتا ہے کہ ان کی تمہارے مقابلہ میں امداد نہ کی جائے گی، یہ اللہ سے بھی اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم سے خوف کھاتے ہیں۔
اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی تیر و تلوار کی صورت دیکھتے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور نامردی کے ساتھ بھاگتے ہی بن پڑے۔
پھر مستقل طور پر پیش گوئی فرماتا ہے کہ ان کی تمہارے مقابلہ میں امداد نہ کی جائے گی، یہ اللہ سے بھی اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم سے خوف کھاتے ہیں۔
جیسے اور جگہ بھی ہے۔ «ذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] یعنی ’ ان کا ایک فریق لوگوں سے اتنا ڈرتا ہے جتنا اللہ سے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ۔ ‘
بات یہ ہے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں، ان کی نامردی اور بزدلی کی یہ حالت ہے کہ یہ میدان کی لڑائی کبھی لڑ نہیں سکتے ہاں اگر مضبوط اور محفوظ قلعوں میں بیٹھے ہوئے ہوں یا مورچوں کی آڑ میں چھپ کر کچھ کاروائی کرنے کا موقعہ ہو تو خیر بسبب ضرورت کر گزریں گے لیکن میدان میں آ کر بہادری کے جوہر دکھانا یہ ان سے کوسوں دور ہے، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» ۱؎ [6-الأنعام:65] یعنی ’ بعض کو بعض سے لڑائی کا مزہ چکھاتا ہے۔ ‘ تم انہیں مجتمع اور متفق و متحد سمجھ رہے ہو لیکن دراصل یہ متفرق و مختلف ہیں ایک کا دل دوسرے سے نہیں ملتا، منافق اپنی جگہ اور اہل کتاب اپنی جگہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں، وجہ یہ ہے کہ بےعقل لوگ ہیں۔
پھر فرمایا ’ ان کی مثال ان سے کچھ ہی پہلے کے کافروں جیسی ہے جنہوں نے یہاں بھی اپنے کئے کا بدلہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے۔ ‘ اس سے مراد یا تو کفار قریش ہیں کہ بدر والے دن ان کی کمر کبڑی ہو گئی اور سخت نقصان اٹھا کر کشتوں کے پشتے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، یا بنو قینقاع کے یہود ہیں کہ وہ بھی شرارت پر اتر آئے، اللہ نے ان پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے خارج البلد کرا دیا یہ دونوں واقعے ابھی ابھی کے ہیں اور تمہاری عبرت کا صحیح سبق ہیں لیکن اس وقت کہ کوئی عبرت حاصل کرنے والا انجام کو سوچنے والا ہو بھی، زیادہ مناسب مقام بنو قینقاع کے یہود کا واقعہ ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
منافقین کے وعدوں پر ان یہودیوں کا شرارت پر آمادہ ہونا اور ان کے بھرے میں آ کر معاہدہ توڑ ڈالنا پھر ان منافقین کا انہیں موقعہ پر کام نہ آنا، نہ لڑائی کے وقت مدد پہنچانا، نہ جلا وطنی میں ساتھ دینا، ایک مثال سے سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو شیطان بھی اسی طرح انسان کو کفر پر آمادہ کرتا ہے اور جب یہ کفر کر چکتا ہے تو خود بھی اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور اپنا اللہ والا ہونا ظاہر کرنے لگتا ہے۔
بات یہ ہے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں، ان کی نامردی اور بزدلی کی یہ حالت ہے کہ یہ میدان کی لڑائی کبھی لڑ نہیں سکتے ہاں اگر مضبوط اور محفوظ قلعوں میں بیٹھے ہوئے ہوں یا مورچوں کی آڑ میں چھپ کر کچھ کاروائی کرنے کا موقعہ ہو تو خیر بسبب ضرورت کر گزریں گے لیکن میدان میں آ کر بہادری کے جوہر دکھانا یہ ان سے کوسوں دور ہے، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» ۱؎ [6-الأنعام:65] یعنی ’ بعض کو بعض سے لڑائی کا مزہ چکھاتا ہے۔ ‘ تم انہیں مجتمع اور متفق و متحد سمجھ رہے ہو لیکن دراصل یہ متفرق و مختلف ہیں ایک کا دل دوسرے سے نہیں ملتا، منافق اپنی جگہ اور اہل کتاب اپنی جگہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں، وجہ یہ ہے کہ بےعقل لوگ ہیں۔
پھر فرمایا ’ ان کی مثال ان سے کچھ ہی پہلے کے کافروں جیسی ہے جنہوں نے یہاں بھی اپنے کئے کا بدلہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے۔ ‘ اس سے مراد یا تو کفار قریش ہیں کہ بدر والے دن ان کی کمر کبڑی ہو گئی اور سخت نقصان اٹھا کر کشتوں کے پشتے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، یا بنو قینقاع کے یہود ہیں کہ وہ بھی شرارت پر اتر آئے، اللہ نے ان پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے خارج البلد کرا دیا یہ دونوں واقعے ابھی ابھی کے ہیں اور تمہاری عبرت کا صحیح سبق ہیں لیکن اس وقت کہ کوئی عبرت حاصل کرنے والا انجام کو سوچنے والا ہو بھی، زیادہ مناسب مقام بنو قینقاع کے یہود کا واقعہ ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
منافقین کے وعدوں پر ان یہودیوں کا شرارت پر آمادہ ہونا اور ان کے بھرے میں آ کر معاہدہ توڑ ڈالنا پھر ان منافقین کا انہیں موقعہ پر کام نہ آنا، نہ لڑائی کے وقت مدد پہنچانا، نہ جلا وطنی میں ساتھ دینا، ایک مثال سے سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو شیطان بھی اسی طرح انسان کو کفر پر آمادہ کرتا ہے اور جب یہ کفر کر چکتا ہے تو خود بھی اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور اپنا اللہ والا ہونا ظاہر کرنے لگتا ہے۔
اسی مثال کا ایک واقعہ بھی سن لیجئے، بنی اسرائیل میں ایک عابد تھے ساٹھ سال اسے عبادت الٰہی میں گزر چکے تھے شیطان نے اسے ورغلانا چاہا لیکن وہ قابو میں نہ آیا اس نے ایک عورت پر اپنا اثر ڈالا اور یہ ظاہر کیا کہ گویا اسے جنات ستا رہے ہیں، ادھر اس عورت کے بھائیوں کو یہ وسوسہ ڈالا کہ اس کا علاج اسی عابد سے ہو سکتا ہے، یہ اس عورت کو اس عابد کے پاس لائے، اس نے علاج معالجہ یعنی دم کرنا شروع کیا اور یہ عورت یہیں رہنے لگی، ایک دن عابد اس کے پاس ہی تھا جو شیطان نے اس کے خیالات خراب کرنے شروع کئے یہاں تک کہ وہ زنا کر بیٹھا اور وہ عورت حاملہ ہو گئی۔ اب رسوائی کے خوف سے شیطان نے چھٹکارے کی یہ صورت بتائی کہ اس عورت کو مار ڈال ورنہ راز کھل جائے گا۔
چنانچہ اس نے اسے قتل کر ڈالا، ادھر اس نے جا کر عورت کے بھائیوں کو شک دلوایا وہ دوڑے آئے، شیطان راہب کے پاس آیا اور کہا وہ لوگ آ رہے ہیں اب عزت بھی جائے گی اور جان بھی جائے گی۔ اگر مجھے خوش کر لے اور میرا کہا مان لے تو عزت اور جان دونوں بچ سکتی ہیں۔ شیطان نے کہا مجھے سجدہ کر، عابد نے اسے سجدہ کر لیا، یہ کہنے لگا تف ہے تجھ پر کم بخت میں تو اب تجھ سے بےزار ہوں میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں، جو رب العالمین ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:48/12:صحیح]
چنانچہ اس نے اسے قتل کر ڈالا، ادھر اس نے جا کر عورت کے بھائیوں کو شک دلوایا وہ دوڑے آئے، شیطان راہب کے پاس آیا اور کہا وہ لوگ آ رہے ہیں اب عزت بھی جائے گی اور جان بھی جائے گی۔ اگر مجھے خوش کر لے اور میرا کہا مان لے تو عزت اور جان دونوں بچ سکتی ہیں۔ شیطان نے کہا مجھے سجدہ کر، عابد نے اسے سجدہ کر لیا، یہ کہنے لگا تف ہے تجھ پر کم بخت میں تو اب تجھ سے بےزار ہوں میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں، جو رب العالمین ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:48/12:صحیح]
ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ ایک عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اور ایک راہب کی خانقاہ تلے رات گزرا کرتی تھی، اس کے چار بھائی تھے، ایک دن شیطان نے راہب کو گدگدایا اور اس سے زنا کر بیٹھا اسے حمل رہ گیا۔ شیطان نے راہب کے دل میں ڈالا کہ اب بڑی رسوائی ہو گی اس سے بہتر یہ ہے کہ اسے مار ڈال اور کہیں دفن کر دے، تیرے تقدس کو دیکھتے ہوئے، تیری طرف تو کسی کا خیال بھی نہ جائے گا اور اگر بالفرض پھر بھی کچھ پوچھ گچھ ہو تو جھوٹ موٹ کہ دینا، بھلا کون ہے جو تیری بات کو غلط جانے؟ اس کی سمجھ میں بھی یہ بات آ گئی، ایک روز رات کے وقت موقعہ پا کر اس عورت کو جان سے مار ڈالا اور کسی اجاڑ جگہ زمین میں دبا دیا۔ اب شیطان اس کے چاروں بھائیوں کے پاس پہنچا اور ہر ایک کے خواب میں اسے سارا واقعہ کہہ سنایا اور اس کے دفن کی جگہ بھی بتا دی، صبح جب یہ جاگے تو ایک نے کہا: آج کی رات تو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے ہمت نہیں پڑتی کہ آپ سے بیان کروں دوسروں نے کہا: نہیں کہو تو سہی چنانچہ اس نے اپنا پورا خواب بیان کیا کہ اس طرح فلاں عابد نے اس سے بدکاری کی پھر جب حمل ٹھہر گیا تو اسے قتل کر دیا اور فلاں جگہ اس کی لاش دبا آیا ہے، ان تینوں میں سے ہر ایک نے کہا مجھے بھی یہی خواب آیا ہے، اب تو انہیں یقین ہو گیا کہ سچا خواب ہے، چنانچہ انہوں نے جا کر اطلاع دی اور بادشاہ کے حکم سے اس راہب کو اس خانقاہ سے ساتھ لیا اور اس جگہ پہنچ کر زمین کھود کر اس کی لاش برآمد کی۔
کامل ثبوت کے بعد اب اسے شاہی دربار میں لے چلے اس وقت شیطان اس کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ سب میرے کرتوت ہیں اب بھی اگر تو مجھے راضی کر لے تو جان بچا دوں گا اس نے کہا جو تو کہے کروں گا، کہا مجھے سجدہ کر لے، اس نے یہ بھی کر دیا، پس پورا بے ایمان بنا کر شیطان کہتا ہے، میں تو تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ تعالیٰ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے ڈرتا ہوں، چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا اور پادری صاحب کو قتل کر دیا گیا، مشہور ہے کہ اس پادری کا نام برصیصا تھا۔ سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم، طاؤس، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے یہ قصہ مختلف الفاظ سے کمی بیشی کے ساتھ مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
کامل ثبوت کے بعد اب اسے شاہی دربار میں لے چلے اس وقت شیطان اس کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ سب میرے کرتوت ہیں اب بھی اگر تو مجھے راضی کر لے تو جان بچا دوں گا اس نے کہا جو تو کہے کروں گا، کہا مجھے سجدہ کر لے، اس نے یہ بھی کر دیا، پس پورا بے ایمان بنا کر شیطان کہتا ہے، میں تو تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ تعالیٰ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے ڈرتا ہوں، چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا اور پادری صاحب کو قتل کر دیا گیا، مشہور ہے کہ اس پادری کا نام برصیصا تھا۔ سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم، طاؤس، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے یہ قصہ مختلف الفاظ سے کمی بیشی کے ساتھ مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس کے بالکل برعکس جریج عابد کا قصہ ہے کہ { ایک بدکار عورت نے اس پر تہمت لگا دی کہ اس نے میرے ساتھ زنا کیا ہے اور یہ بچہ جو مجھے ہوا ہے وہ اسی کا ہے، چنانچہ لوگوں نے جریج کے عبادت خانے کو گھیر لیا اور انہیں نہایت بے ادبی سے زد و کوب کرتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے باہر لے آئے اور عبادت خانے کو ڈھا دیا۔ یہ بیچارے گھبرائے ہوئے ہر چند پوچھتے ہیں کہ آخر واقعہ کیا ہے؟ لیکن مجمع آپے سے باہر ہے آخر کسی نے کہا کہ اللہ کے دشمن، اولیاء اللہ کے لباس میں یہ شیطانی حرکت؟ اس عورت سے تو نے بدکاری کی۔ جریج نے فرمایا: اچھا ٹھہرو، صبر کرو اس بچے کو لاؤ چنانچہ وہ دودھ پیتا چھوٹا سا بچہ لایا گیا جریج نے اپنی عزت کی بقا کی اللہ سے دعا کی پھر اس بچے سے پوچھا: اے بچے بتا تیرا باپ کون ہے؟ اس بچے کو اللہ نے اپنے ولی کی عزت بچانے کے لیے اپنی قدرت سے گویائی کی قوت عطا فرما دی اور اس نے اس صاف فصیح زبان میں اونچی آواز سے کہا میرا باپ ایک چرواہا ہے۔ یہ سنتے ہی بنی اسرائیل کے ہوش جاتے رہے یہ اس بزرگ کے سامنے عذر معذرت کرنے لگے معافی مانگنے لگے انہوں نے کہا بس اب مجھے چھوڑ دو لوگوں نے کہا ہم آپ کی عابدت گاہ سونے کی بنا دیتے ہیں آپ نے فرمایا بس اسے جیسی وہ تھی ویسے ہی رہنے دو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3426]
پھر فرماتا ہے کہ آخر انجام کفر کے کرنے اور حکم دینے والے کا یہی ہوا کہ دونوں ہمیشہ کے لیے جہنم واصل ہوئے، ہر ظالم کئے کی سزا پا ہی لیتا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ آخر انجام کفر کے کرنے اور حکم دینے والے کا یہی ہوا کہ دونوں ہمیشہ کے لیے جہنم واصل ہوئے، ہر ظالم کئے کی سزا پا ہی لیتا ہے۔