لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں، یاد رکھو! یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
En
جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے۔ (اور) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے
En
اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں یہ خدائی لشکر ہے، آگاه رہو بیشک اللہ کے گروه والے ہی کامیاب لوگ ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 22) ➊ { لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ …:} یعنی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں، خواہ وہ آدمی کے کتنے قریبی رشتہ دار ہوں، اس لیے منافقین جو ایمان کے دعوے کے باوجود کفار سے دوستی رکھتے ہیں ان کا ایمان کا دعویٰ غلط ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۲۸) اور سورۂ توبہ (24،23)۔
➋ { اُولٰٓىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ:} یعنی یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے، خواہ وہ کتنے قریبی رشتہ دار ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کر دیا ہے۔ اس کا مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھوں نے ان تمام لوگوں سے دوستی اور دلی تعلق کا رشتہ کاٹ پھینکا تھا جو اللہ اور اس کے رسو ل سے مخالفت اور دشمنی رکھتے تھے، خواہ وہ ان کے باپ تھے یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کفر کی حمایت میں مسلمانوں سے لڑنے والے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی قتل یا قید کرنے سے دریغ نہیں کیا، خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی تھے یا کوئی اور رشتہ دار۔ جنگِ بدر میں جب قیدیوں کے متعلق مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر ایک کو اس کے رشتہ دار کے سپرد کیا جائے، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو عمر رضی اللہ عنہ ہی کا مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۶۷) کی تفسیر۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس اور عقیل بن ابی طالب(رضی اللہ عنھما) اسیر ہوئے تو دوسرے قیدیوں کی طرح فدیہ دے کر رہا ہوئے۔ اسی طرح آپ کے داماد ابو العاص اس شرط پر رہا ہوئے کہ آپ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو واپس بھجوا دیں گے۔
➌ { وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ:} یعنی انھیں اپنی طرف سے ایک عظیم روحانی قوت عطا فرما کر ان کی مدد فرمائی۔
➍ { وَ يُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ …:} یہ ہے جنتوں میں داخلے، اس میں ابدی قیام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا وہ تصدیق نامہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے حاصل ہوا۔ پھر ان لوگوں کی بدنصیبی کا کیا عالم ہو سکتا ہے جو ان سے دشمنی رکھتے اور ان کے بارے میں بدزبانی کرتے ہیں۔
➎ {اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ …: ” حِزْبُ اللّٰهِ “} خبر معرفہ ہونے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی اللہ کی جماعت اور گروہ صرف یہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کو اپنا بنا لیا اور اپنے ان عزیزوں سے بیگانہ ہو گئے جو اس سے اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے تھے۔ یاد رکھو! صرف اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
➋ { اُولٰٓىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ:} یعنی یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے، خواہ وہ کتنے قریبی رشتہ دار ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کر دیا ہے۔ اس کا مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھوں نے ان تمام لوگوں سے دوستی اور دلی تعلق کا رشتہ کاٹ پھینکا تھا جو اللہ اور اس کے رسو ل سے مخالفت اور دشمنی رکھتے تھے، خواہ وہ ان کے باپ تھے یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کفر کی حمایت میں مسلمانوں سے لڑنے والے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی قتل یا قید کرنے سے دریغ نہیں کیا، خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی تھے یا کوئی اور رشتہ دار۔ جنگِ بدر میں جب قیدیوں کے متعلق مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر ایک کو اس کے رشتہ دار کے سپرد کیا جائے، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو عمر رضی اللہ عنہ ہی کا مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۶۷) کی تفسیر۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس اور عقیل بن ابی طالب(رضی اللہ عنھما) اسیر ہوئے تو دوسرے قیدیوں کی طرح فدیہ دے کر رہا ہوئے۔ اسی طرح آپ کے داماد ابو العاص اس شرط پر رہا ہوئے کہ آپ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو واپس بھجوا دیں گے۔
➌ { وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ:} یعنی انھیں اپنی طرف سے ایک عظیم روحانی قوت عطا فرما کر ان کی مدد فرمائی۔
➍ { وَ يُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ …:} یہ ہے جنتوں میں داخلے، اس میں ابدی قیام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا وہ تصدیق نامہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے حاصل ہوا۔ پھر ان لوگوں کی بدنصیبی کا کیا عالم ہو سکتا ہے جو ان سے دشمنی رکھتے اور ان کے بارے میں بدزبانی کرتے ہیں۔
➎ {اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ …: ” حِزْبُ اللّٰهِ “} خبر معرفہ ہونے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی اللہ کی جماعت اور گروہ صرف یہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کو اپنا بنا لیا اور اپنے ان عزیزوں سے بیگانہ ہو گئے جو اس سے اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے تھے۔ یاد رکھو! صرف اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے گویا ایمان اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی محبت ونصرت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلا (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 28) 3۔ آل عمران:28) (قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 24) 9۔ التوبہ:24)۔ وغیرہ۔ 22۔ 2 اس لیے کہ ان کا ایمان ان کو ان کی محبت سے روکتا ہے اور ایمان کی رعایت ابوت بنوت اخوت اور خاندان و برادری کی محبت و رعایت سے زیادہ اہم اور ضروری ہے چناچہ صحابہ کرام ؓ نے عملا ایسا کر کے دکھایا ایک مسلمان صحابی نے اپنے باپ اپنے بیٹے اپنے بھائی اور اپنے چچا ماموں اور دیگر رشتے داروں کو قتل کرنے سے گریز نہیں کیا اگر وہ کفر کی حمایت میں کافروں کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہوتے سیر و تواریخ کی کتابوں میں یہ مثالیں درج ہیں اسی ضمن میں جنگ بدر کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب اسیران بدر کے بارے میں مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کردیا جائے تو حضرت عمر ؓ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر قیدی کو اس کے رشتے دار کے سپرد کردیا جائے جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو حضرت عمر ؓ کا یہی مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67) 8۔ الانفال:67) کا حاشیہ۔ 22۔ 3 یعنی راسخ اور مضبوط کردیا ہے۔ 22۔ 4 روح سے مراد اپنی نصرت خاص، یا نور ایمان ہے جو انہیں ان کی مذکورہ خوبی کی وجہ سے حاصل ہوا۔ 22۔ 5 یعنی جب یہ اولین مسلمان صحابہ کرام ؓ ایمان کی بنیاد پر اپنے عزیز واقارب سے ناراض ہوگئے حتی کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل تک کرنے میں تامل نہیں کیا تو اس کے بدلے میں اللہ نے ان کو اپنی رضامندی سے نواز دیا اور ان پر اس طرح اپنے انعامات کی بارش فرمائی کہ وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے اس لیے آیت میں بیان کردہ اعزاز رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ اگرچہ خاص صحابہ کرام ؓ کے بارے میں نازل نہیں ہوا ہے تاہم وہ اس کا مصداق اولین اور مصداق اتم ہیں اسی لیے اس کے لغوی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ صفات سے متصف ہر مسلمان ؓ کا مستحق بن سکتا ہے جیسے لغوی معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان شخص پر (علیہ الصلوۃ والسلام) کا دعائیہ جملے کے طور پر اطلاق کیا جاسکتا ہے لیکن اہل سنت نے ان کے مفہوم لغوی سے ہٹ کر ان کو صحابہ کرام ؓ اور انبیاء (علیہم السلام) کے علاوہ کسی اور کے لیے بولنا لکھنا جائز قرار نہیں دیا ہے۔ یہ گویا شعار ہیں ؓ صحابہ کے لیے اور علیہم الصلواۃ والسلام انبیائے کرام کے لیے یہ ایسے ہی ہے جیسے ؒ اللہ کی رحمت اس پر ہو یا اللہ اس پر رحم فرمائے کا اطلاق لغوی مفہوم کی رو سے زندہ اور مردہ دونوں پر ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کے ضرورت مند زندہ اور مردہ دونوں ہی ہیں لیکن ان کا استعمال مردوں کے لیے خاص ہوچکا ہے اس لیے اسے زندہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ 22۔ 6 یعنی یہی گروہ مومنین فلاح سے ہمکنار ہوگا دوسرے ان کی بہ نسبت ایسے ہی ہوں گے جیسے وہ فلاح سے بالکل محروم ہیں جیسا کہ واقعی وہ آخرت میں محروم ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ کبھی انہیں ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی لگائیں جو اللہ اور اس کے رسول کی [26] مخالفت کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی یا کنبہ والے ہوں، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں [27] اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح [28] کے ذریعہ انہیں قوت بخشی ہے۔ اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی [29] ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہی اللہ کی پارٹی ہے۔ سن لو! اللہ کی پارٹی کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔
[26] کافروں سے دوستی رکھنا بھی کفر ہے :۔
یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت دو متضاد باتیں ہیں جو ایک دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں جیسے دن اور رات یا روشنی اور تاریکی ایک ہی وقت میں جمع نہیں ہو سکتے۔ لیکن منافقوں کی فریب کاری یہ ہے کہ وہ دونوں کام بیک وقت کر رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک ہی بات درست ہو سکتی ہے۔ اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے دوستی رکھ ہی نہیں سکتے۔ اور اگر دوستی رکھتے ہیں تو کبھی ایماندار نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہی ہوتا ہے۔ پھر اللہ کے دشمنوں سے ایک ایماندار کیسے دوستی رکھ سکتا ہے؟
[27] جنگ کے دوران کافر اقرباء سے مسلمانوں کا سلوک :۔
یہ آیت ان صحابہ کی شان میں نازل ہوئی جنہوں نے اللہ کے اس ارشاد پر عمل کر کے دنیا کے سامنے اس کا عملی نمونہ پیش کیا تھا۔ غزوہ احد میں سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو اور سیدنا علیؓ، سیدنا حمزہ اور عبیدہ بن الحارث نے علی الترتیب عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا۔ ایک دفعہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے بیٹے عبد الرحمنؓ اپنے باپ سے کہنے لگے کہ ابا جان! آپ جنگ میں عین میری تلوار کی زد میں تھے مگر میں نے باپ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا: بیٹا اگر تم میری تلوار کی زد میں آ جاتے تو میں تمہیں کبھی نہ چھوڑتا۔ غزوہ احد کے قیدیوں کے متعلق مشورہ ہوا تو سیدنا عمرؓ نے یہ مشورہ دیا کہ ہر آدمی اپنے قریبی رشتہ دار کو قتل کر کے موت کے گھاٹ اتار دے۔ غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر عبد اللہ بن ابی منافق نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ناجائز کلمات کہے تو ان کے بیٹے جن کا نام بھی عبد اللہ ہی تھا اور سچے مومن تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے۔ اگر آپ حکم فرمائیں تو میں اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں لا رکھوں۔ لیکن آپ نے اپنی طبعی رحم دلی کی بنا پر عبد اللہ کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ غرضیکہ سچے ایمانداروں کی تو شان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار حتیٰ کہ اپنی جان تک کی پروا نہیں کرتے۔
[28] یعنی ایسے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے روح پھونک کر ان کی قوت ایمانی کو کئی گنا زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔ نیز روح سے مراد روح القدس یا جبریلؑ بھی ہو سکتے ہیں جو صرف جنگ کے دوران ہی نازل ہو کر مسلمانوں کی قوت ایمانی کو نہیں بڑھاتے بلکہ کوئی بھی اہم معاملہ ہو تو مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تائید حاصل ہو جاتی ہے۔ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تو سیدنا حسان بن ثابتؓ نے اس ہجو کا جواب دیا۔ سیدنا حسانؓ کے یہ اشعار سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی ہجو کر' جبریلؑ تیرے ساتھ ہیں۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی من الاحزاب۔۔]
اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں:”یا اللہ! حسان کی روح القدس سے مدد فرما“ [مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ]
[29] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد قرآن میں بعض دیگر مقامات پر بھی مذکور ہے۔ جس سے ان کی انتہائی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں یا انکار کرتے ہیں۔ انہیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔
[28] یعنی ایسے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے روح پھونک کر ان کی قوت ایمانی کو کئی گنا زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔ نیز روح سے مراد روح القدس یا جبریلؑ بھی ہو سکتے ہیں جو صرف جنگ کے دوران ہی نازل ہو کر مسلمانوں کی قوت ایمانی کو نہیں بڑھاتے بلکہ کوئی بھی اہم معاملہ ہو تو مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تائید حاصل ہو جاتی ہے۔ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تو سیدنا حسان بن ثابتؓ نے اس ہجو کا جواب دیا۔ سیدنا حسانؓ کے یہ اشعار سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی ہجو کر' جبریلؑ تیرے ساتھ ہیں۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی من الاحزاب۔۔]
اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں:”یا اللہ! حسان کی روح القدس سے مدد فرما“ [مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ]
[29] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد قرآن میں بعض دیگر مقامات پر بھی مذکور ہے۔ جس سے ان کی انتہائی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں یا انکار کرتے ہیں۔ انہیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے دشمنوں سے عداوت ٭٭
پھر فرماتا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے دوست اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھیں، ایک اور جگہ ہے «لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّـهُ نَفْسَهُ» [3-آل عمران:28] مسلمانوں کو چاہیئے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دلی دوست نہ بنائیں ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں کسی گنتی میں نہیں، ہاں ڈر خوف کے وقت عارضی دفع کے لیے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ» [9-التوبہ:24] اے نبی! آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھربار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو، اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کر دیا۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ» [9-التوبہ:24] اے نبی! آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھربار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو، اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کر دیا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری وقت میں جبکہ خلافت کے لیے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ یہ لوگ مل کر جسے چاہیں خلیفہ بنا لیں اس وقت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر یہ ہوتے تو میں انہی کو خلیفہ مقرر کرتا [مستدرک حاکم 268/3:منقطع]
اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور سیدنا معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور سیدنا معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اسی ضمن میں یہ واقعہ بھی داخل ہو سکتا ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کی نسبت مسلمانوں سے مشورہ کیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مالی مشکلات دور ہو جائیں، مشرکوں سے جہاد کرنے کے لیے آلات حرب جمع کر لیں اور یہ چھوڑ دیئے جائیں، کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل اسلام کی طرف پھیر دے، آخر ہیں تو ہمارے ہی کنبے رشتے کے، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے اس کے بالکل برخلاف پیش کی کہ یا رسول اللہ! جس مسلمان کا جو رشتہ دار مشرک ہے اس کے حوالے کر دیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ اسے قتل کر دے ہم اللہ تعالیٰ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں ان مشرکوں کی کوئی محبت نہیں، مجھے فلاں رشتہ دار سونپ دیجئیے اور علی کے حوالے عقیل کر دیجئیے اور فلاں صحابی کو فلاں کافر دے دیجئیے وغیرہ۔
پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محبت سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جما لی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت جچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنا دیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہو گیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہو گئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے۔
ابوحازم اعرج رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکوکار ہیں، اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آ جائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں، یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ [ابن ابی حاتم]
پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محبت سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جما لی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت جچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنا دیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہو گیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہو گئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے۔
ابوحازم اعرج رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکوکار ہیں، اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آ جائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں، یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ [ابن ابی حاتم]
نعیم بن حماد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا: ”اے اللہ کسی فاسق فاجر کا کوئی احسان اور سلوک مجھ پر نہ رکھ کیونکہ میں نے تیری نازل کردہ وحی میں پڑھا ہے کہ ایماندار اللہ کے مخالفین کے دوست نہیں ہوتے۔“ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:2975،ضعیف]
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں۔ [ابواحمدعسکری]
«الحمداللہ» سورۃ المجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں۔ [ابواحمدعسکری]
«الحمداللہ» سورۃ المجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔