ترجمہ و تفسیر — سورۃ المجادلة (58) — آیت 18

یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیَحۡلِفُوۡنَ لَہٗ کَمَا یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ ؕ اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۸﴾
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں ۔ En
جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے کہ (ایسا کرنے سے) کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں
En
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اللہ تعالیٰ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے اور سمجھیں گے کہ وه بھی کسی (دلیل) پر ہیں، یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) {يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ …:} یعنی منافقین کی جھوٹ بولنے اور اس پر قسم کھانے کی عادت اتنی پکی ہے کہ موت اور حشر و نشر کے بعد بھی نہیں جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے جس طرح دنیا میں مسلمانوں کے سامنے کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ قسم کی صورت میں ان کے پاس کچھ نہ کچھ بنیاد موجود ہے، جس پر وہ قائم ہیں۔ فرمایا سن لو، وہی اصل اور کامل جھوٹے ہیں کہ علام الغیوب کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔ دیکھیے سورہ انعام (۲۲ تا ۲۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 یعنی ان کی بدبختی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ قیامت والے دن، جہاں کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی، وہاں بھی اللہ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے کی شوخ چشمانہ جسارت کریں گے 18۔ 2 یعنی جس طرح دنیا میں وہ وقتی طور پر جھوٹی قسمیں کھا کر کچھ فائدے اٹھا لیتے تھے وہاں بھی سمجھیں گے کہ یہ جھوٹی قسمیں ان کے لیے مفید رہیں گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے سامنے بھی ایسے ہی قسمیں [21] کھائیں گے جیسے تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور یہ سمجھیں گے کہ (اس طرح) ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ سن لو! یہی جھوٹے لوگ ہیں
[21] منافقوں کی قسمیں کھانے کی پختہ عادت :۔
قسمیں اٹھانے کی عادت صرف اس شخص کی ہوتی ہے جو ہر وقت جھوٹ بولتا ہو اور لوگوں میں اپنا اعتماد کھو چکا ہو۔ سچے اور راست باز انسان کو کبھی قسم اٹھانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ لوگ اس کی بات پر ویسے ہی اعتماد کر لیتے ہیں اور ان منافقوں کی یہ حالت اور قسمیں کھانے کی عادت اس قدر پختہ ہو چکی ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہو کر بھی قسمیں کھانا شروع کر دیں گے اور یہ بھی نہ سوچیں گے کہ جب مسلمانوں کو بھی ان کی قسموں پر اعتماد نہ تھا تو اللہ کیسے اعتماد کر لے گا جو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔