(آیت 16) ➊ {اِتَّخَذُوْۤااَيْمَانَهُمْجُنَّةً …:} یعنی ایک طرف انھوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال بچانے کے لیے مسلمان ہونے کی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور دوسری طرف وہ مسلمانوں کے اندر رہ کر جب موقع ملتا ہے شکوک و شبہات پیدا کر کے بہت سے لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے روک دیتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (168،156)، نساء (۷۲) اور سورۂ احزاب (۱۸)۔ ➋ { فَلَهُمْعَذَابٌمُّهِيْنٌ:} دنیا میں یہ رسوائی کہ نہ مسلمانوں میں ان کی کوئی عزت ہے اور نہ کفار میں سے کوئی ان پر اعتماد کرتا ہے اور قیامت کے دن ان کے لیے {”الدَّرْكِالْاَسْفَلِمِنَالنَّارِ“} کی شکل میں عذاب تیار ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
1 6 ۔ 1 ایمان، یمین، کی جمع ہے بمعنی قسم۔ یعنی قسم جس طرح ڈھال سے دشمن کے وار کو روک کر اپنا بچاؤ کرلیا جاتا ہے اسی طرح انہوں نے اپنی قسموں کو مسلمانوں کی تلواروں سے بچنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے۔ 1 6 ۔ 2 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر یہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں حقیقت واقعیہ کا علم نہیں ہوتا اور وہ ان کے غرے میں آکر قبول اسلام سے محروم رہتے ہیں اور یوں یہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا جرم بھی کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے [20] روکتے ہیں۔ لہذا ان کے لئے رسوا کن عذاب ہو گا۔
[20] یعنی ایک طرف تو منافق مسلمانوں کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی قسمیں کھا کر ان کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے جان اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ اسلام، اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ہر طرح کے شکوک و شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ کر اسلام قبول کرنے سے باز رہیں کہ جب گھر کے بھیدی ایسی خبریں دے رہے ہیں تو ضرور دال میں کچھ کالا ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔