ترجمہ و تفسیر — سورۃ المجادلة (58) — آیت 14

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ مَا ہُمۡ مِّنۡکُمۡ وَ لَا مِنۡہُمۡ ۙ وَ یَحۡلِفُوۡنَ عَلَی الۡکَذِبِ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۴﴾
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیںدیکھا جنھوں نے ان لوگوں کو دوست بنا لیا جن پر اللہ غصے ہو گیا، وہ نہ تم سے ہیں اور نہ ان سے اور وہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ En
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا۔ وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں۔ اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں
En
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہوچکا ہے، نہ یہ (منافق) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں باوجود علم کے پھر بھی جھوٹ پر قسمیں کھا رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ:} اس آیت میں منافقین کے تین اوصاف بیان کرتے ہوئے ان کی حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے، ان میں سے پہلا وصف یہ ہے کہ ایمان کے دعوے کے باوجود ان کی دوستی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ایمان والوں کے بد ترین دشمن ہیں اور جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اگرچہ تمام کفار ہی پر اللہ کا غضب ہے اور منافقین تمام کفار سے دوستی کرتے تھے، مگر {مَغْضُوْبٌ عَلَيْهِمْ} خاص طور پر یہود کا لقب ہے، جیسا کہ { غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ } کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۱،۹۰)، آل عمران (۱۱۲)، اعراف (۱۵۲)، مائدہ (۶۰) اور سورۂ ممتحنہ (۱۳) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہود و نصاریٰ اور کفار کی دوستی سے صریح الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۸)، نساء (۱۴۴)، مائدہ (۵۱)اور سورہ توبہ (۲۳)۔
➋ { مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ:} یہ منافقین کا دوسرا وصف ہے کہ بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود فی الواقع وہ تم میں سے نہیں ہیں، کیونکہ اگر وہ حقیقی مومن ہوتے تو کفار کو کبھی دوست نہ بناتے۔ (دیکھیے مائدہ: ۸۱) اور اسی طرح وہ یہود میں سے بھی نہیں، کیونکہ وہ انھیں بھی حق پر نہیں سمجھتے، ان کی دوستی محض غرض کی دوستی ہے کہ اگر مسلمانوں پر کوئی گردش آئی تو ان کی دوستی کام آئے گی۔ دیکھیے سورۂ نساء (143،142) کی تفسیر۔
➌ { وَ يَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ:} یعنی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور اس پر قسمیں بھی کھاتے ہیں۔ اس جھوٹ سے مراد ایک تو مومن ہونے کا دعویٰ ہے۔ (دیکھیے منافقون: ۱۔ توبہ: ۵۶) پھر مختلف اوقات میں اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے خلاف ان کے کسی قول یا فعل پر جب گرفت کی جاتی تو وہ جھوٹ بول دیتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، نہ یہ کام کیا ہے اور اس پر قسمیں کھا جاتے۔ (دیکھیے توبہ: ۶۲، ۷۴، 96،95۔ منافقون: 7،6) سیرت کی کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات مذکور ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ قرآن کریم کی صراحت کے مطابق یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مدینے میں منافقین کا بھی زور تھا اور یہودیوں کی سازشیں بھی عروج پر تھیں ابھی یہود کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا۔ 14۔ 2 یعنی یہ منافقین مسلمان ہیں اور نہ دین کے لحاظ سے یہودی ہیں۔ پھر یہ کیوں یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں۔؟ صرف اس لیے کہ ان کے اور یہود کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی عداوت قدر مشترک ہے۔ 14۔ 3 یعنی قسمیں کھا کر مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ ہم تمہاری طرح مسلمان ہیں یا یہودیوں سے انکے رابطے نہیں ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں سے دوستی لگائی جن پر [18] اللہ کا غضب ہوا۔ نہ تو وہ تم میں سے ہیں اور نہ ہی ان میں سے۔ اور وہ دیدہ دانستہ جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے [19] ہیں
[18] منافقوں کی یہود سے ملی بھگت :۔
’ان لوگوں سے‘ سے مراد مدینہ کے منافق ہیں اور مغضوب علیہ قوم سے مراد مدینہ کے یہودی ہیں۔ منافقوں کی اصل دوستی اور ہمدردی یہودیوں سے تھی۔ کیونکہ اندر سے منافق بھی مسلمانوں کے ایسے ہی دشمن تھے جیسے یہودی۔ اسی اسلام دشمنی کی مشترک قدر نے ان دونوں کو دوستی کے رشتہ میں منسلک کر دیا تھا۔ ان دونوں میں بد تر حالت منافقوں کی تھی جن کے زبانی دعویٰ ایمان پر مسلمانوں کا اعتبار اٹھ چکا تھا۔ چونکہ یہ لوگ اسلام کے دعویٰ کی وجہ سے مسلمانوں سے کئی قسم کے مفادات حاصل کر رہے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں میں انہیں اپنا اعتماد بحال رکھنے کے لیے جھوٹی قسمیں بھی کھانا پڑتی تھیں۔ مگر ان کی کرتوتیں چونکہ ان کے دعویٰ اور قسموں کی تکذیب کر دیتی تھیں۔ اس لیے ان پر نہ مسلمان اعتماد کرتے تھے اور نہ یہودی۔ ان کی حالت دھوبی کے کتے جیسی ہو گئی تھی جو نہ گھر کا شمار ہوتا ہے اور نہ گھاٹ کا۔
[19] یہودیوں کے سامنے یہ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم دل و جان سے تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے دکھ درد میں شریک ہیں اور مسلمانوں کو تو ہم نے محض اُلّو بنا رکھا ہے۔ اور مسلمانوں کے سامنے وہ یہ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں اور ان کے اطاعت گزار اور فرمانبردار ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭
منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143]‏‏‏‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن]‏‏‏‏
یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24]‏‏‏‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔
پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏‏‏‏ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔