لِّکَیۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرِۣ ﴿ۙ۲۳﴾
تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا فرمائے اور اللہ کسی تکبر کرنے والے، بہت فخر کرنے والے سے محبت نہیں رکھتا۔
En
تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہو اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو۔ اور خدا کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا
En
تاکہ تم اپنے سے فوت شده کسی چیز پر رنجیده نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کرده چیز پر اترا جاؤ، اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 23) ➊ { لِكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ …: ”لَا تَأْسَوْا“ ”أَسِيَ يَأْسٰي أَسًي“} ({خَشِيَ يَخْشٰي}) (غمگین ہونا) سے نفی مضارع معلوم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: «فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ» [المائدۃ: ۲۶] ”پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کر۔“ اور شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کے ہلاک ہونے پر فرمایا: «فَكَيْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ» [الأعراف: ۹۳] ”تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔“ {” اٰتٰىكُمْ “ ”أَتٰي يَأْتِيْ إِتْيَانًا“} (ض) آنا اور {”آتٰي يُؤْتِيْ إِيْتَاءً“} (افعال) دینا۔ یعنی ہم نے تمھیں یہ بات بتا دی ہے، تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل جائے، خواہ ملنے کے بعد چلی جائے یا مل ہی نہ سکے، اس پر تم غم نہ کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں جو کچھ دے اس پر پھول نہ جاؤ، کیونکہ جب تم جان لو گے کہ ہر چیز اللہ کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے تو ہاتھ سے نکلنے والی چیز پر تم زیادہ غمگین نہیں ہوگے اور ملنے والی چیز پر اتراؤ گے نہیں، کیونکہ جسے معلوم ہو کہ جانے والی چیز نے جانا ہی تھا تو وہ اس کے جانے پر زیادہ جزع فزع نہیں کرتا، اس لیے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو اس کے لیے تیار رکھتا ہے۔ اسی طرح جب اسے معلوم ہو کہ جو فائدہ اسے حاصل ہونا ہے وہ ہونا ہی ہونا ہے، ممکن ہی نہیں کہ حاصل نہ ہو تو وہ اس کے حاصل ہونے پر اترائے گا نہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ میری بہادری سے حاصل نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی اللہ کی تقدیر سمجھ کر نقصان پر صبر کرے گا اور فائدے پر اپنی خوبی سمجھنے کے بجائے اللہ کا شکر کرے گا۔
➋ اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے آدمی کو کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوشش کے بعد اگر ناکامی ہو تو غم نہیں بلکہ صبر کرنا چاہیے اور کامیابی کی صورت میں فخر و غرور نہیں بلکہ شکر بجا لانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کو تقدیر پر ایمان کا فائدہ قرار دیا ہے اور اسی عقیدہ پر کاربند رہ کر زندگی میں اعتدال رہتا ہے اور آدمی افراط و تفریط سے محفوظ رہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اََلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَ أَحَبُّ إِلَی اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيْفِ وَ فِيْ كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلٰی مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَلَا تَعْجَزْ وَ إِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلاَ تَقُلْ لَوْ أَنِّيْ فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلٰكِنْ قُلْ قَدَرُ اللّٰهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ] [مسلم، القدر، باب في الأمر بالقوۃ وترک العجز …: ۲۶۶۴، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں بھلائی موجود ہے۔ جو چیز تجھے نفع دے اس کی حرص کر اور اللہ سے مدد مانگ اور عاجز نہ ہو اور اگر تجھے کوئی (نقصان دہ) چیز پہنچے تو یہ مت کہہ کہ اگر میں اس طرح کرتا تو اس طرح اور اس طرح ہو جاتا، بلکہ یوں کہہ کہ اللہ نے قسمت میں (اسی طرح) لکھا تھا اور جو اس نے چاہا کر دیا، کیونکہ {”لَوْ“} (اگر) کا لفظ شیطان کا کام کھول دیتا ہے۔“
➌ یہاں ایک سوال ہے کہ مصیبت پر غم اور راحت پر خوشی انسانی فطرت ہے، پھر ہاتھ سے نکلنے والی چیز پر غم سے اور عطا ہونے والی چیز پر خوش ہونے سے کیوں منع فرمایا، جب کہ ان پر ہمارا اختیار ہی نہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ منع اس غم سے کیا گیا ہے جو اس حد تک پہنچ جائے کہ آدمی جزع فزع اور اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگے۔ اگر اللہ کی رضا پر راضی رہے تو غم پر کوئی مؤاخذہ نہیں، بلکہ اس پر صبر کا اجر بھی ملتا ہے۔ اگر غم ہی نہ ہو تو صبر کس بات پر ہوگا؟ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: [إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلاَ نَقُوْلُ إِلاَّ مَا يَرْضٰی رَبُّنَا وَ إِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيْمُ! لَمَحْزُوْنُوْنَ] [بخاري، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” إنا بک لمحزونون “: ۱۳۰۳] ”آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور ہم اس کے سوا جو ہمارا رب پسند فرمائے کچھ نہیں کہتے اور یقینا تیری جدائی سے اے ابراہیم! ہم غمزدہ ہیں۔“ اسی طرح منع اس خوش ہونے سے کیا گیا ہے جو آدمی کو شکر کے بجائے فخر و غرور تک پہنچا دے۔ دلیل اس کی آیت کے آخری الفاظ {” وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ “} ہیں۔ ہر خوشی سے منع نہیں کیا گیا، کیونکہ اگر خوشی ہی نہ ہو تو شکر کس بات پر کرے گا؟
➍ {وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ: ” مُخْتَالٍ “} ”خ ی ل“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، جو اپنے خیال میں بڑا بننے والا ہو، متکبر۔ {” فَخُوْرٍ “ ” فَخْرٌ “} میں سے مبالغے کا صیغہ ہے، جو دوسروں کے سامنے بہت فخر کرنے والا ہو۔ تقدیر کو مد نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہر کامیابی کو اپنی بہادری اور کارکردگی سمجھنا ہے، جس سے آدمی میں تکبر اور فخر پیدا ہوتا ہے، حالانکہ اگر آدمی کی اپنی کارکردگی بھی ہو تو وہ، بلکہ اس کا اپنا وجود سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اس نے یہ سب کچھ پہلے لکھ دیا ہے، پھر جو شخص اس پر شکر کے بجائے تکبر و فخر کرتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ محبت کیسے کر سکتا ہے؟
➎ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں بیان فرمائی ہیں، ایک {” اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ … “} اور دوسری {” مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ … “} پھر فرمایا: «لِكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ» مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمھیں دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کا فانی ہونا مثال دے کر اس لیے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں جو کچھ دے اس پر پھول نہ جاؤ، بلکہ یاد رکھو کہ یہ عارضی اور فانی ہے اور ہم نے یہ بات کہ ہر مصیبت پہلے سے لکھی ہوئی ہے، اس لیے بتائی ہے کہ تم اس کے آنے پر زیادہ غم نہ کرو۔ گویا یہ لف نشر غیر مرتب ہے۔ یہ تفسیر بھی پر لطف ہے۔
➋ اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے آدمی کو کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوشش کے بعد اگر ناکامی ہو تو غم نہیں بلکہ صبر کرنا چاہیے اور کامیابی کی صورت میں فخر و غرور نہیں بلکہ شکر بجا لانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کو تقدیر پر ایمان کا فائدہ قرار دیا ہے اور اسی عقیدہ پر کاربند رہ کر زندگی میں اعتدال رہتا ہے اور آدمی افراط و تفریط سے محفوظ رہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اََلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَ أَحَبُّ إِلَی اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيْفِ وَ فِيْ كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلٰی مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَلَا تَعْجَزْ وَ إِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلاَ تَقُلْ لَوْ أَنِّيْ فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلٰكِنْ قُلْ قَدَرُ اللّٰهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ] [مسلم، القدر، باب في الأمر بالقوۃ وترک العجز …: ۲۶۶۴، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں بھلائی موجود ہے۔ جو چیز تجھے نفع دے اس کی حرص کر اور اللہ سے مدد مانگ اور عاجز نہ ہو اور اگر تجھے کوئی (نقصان دہ) چیز پہنچے تو یہ مت کہہ کہ اگر میں اس طرح کرتا تو اس طرح اور اس طرح ہو جاتا، بلکہ یوں کہہ کہ اللہ نے قسمت میں (اسی طرح) لکھا تھا اور جو اس نے چاہا کر دیا، کیونکہ {”لَوْ“} (اگر) کا لفظ شیطان کا کام کھول دیتا ہے۔“
➌ یہاں ایک سوال ہے کہ مصیبت پر غم اور راحت پر خوشی انسانی فطرت ہے، پھر ہاتھ سے نکلنے والی چیز پر غم سے اور عطا ہونے والی چیز پر خوش ہونے سے کیوں منع فرمایا، جب کہ ان پر ہمارا اختیار ہی نہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ منع اس غم سے کیا گیا ہے جو اس حد تک پہنچ جائے کہ آدمی جزع فزع اور اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگے۔ اگر اللہ کی رضا پر راضی رہے تو غم پر کوئی مؤاخذہ نہیں، بلکہ اس پر صبر کا اجر بھی ملتا ہے۔ اگر غم ہی نہ ہو تو صبر کس بات پر ہوگا؟ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: [إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلاَ نَقُوْلُ إِلاَّ مَا يَرْضٰی رَبُّنَا وَ إِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيْمُ! لَمَحْزُوْنُوْنَ] [بخاري، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” إنا بک لمحزونون “: ۱۳۰۳] ”آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور ہم اس کے سوا جو ہمارا رب پسند فرمائے کچھ نہیں کہتے اور یقینا تیری جدائی سے اے ابراہیم! ہم غمزدہ ہیں۔“ اسی طرح منع اس خوش ہونے سے کیا گیا ہے جو آدمی کو شکر کے بجائے فخر و غرور تک پہنچا دے۔ دلیل اس کی آیت کے آخری الفاظ {” وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ “} ہیں۔ ہر خوشی سے منع نہیں کیا گیا، کیونکہ اگر خوشی ہی نہ ہو تو شکر کس بات پر کرے گا؟
➍ {وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ: ” مُخْتَالٍ “} ”خ ی ل“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، جو اپنے خیال میں بڑا بننے والا ہو، متکبر۔ {” فَخُوْرٍ “ ” فَخْرٌ “} میں سے مبالغے کا صیغہ ہے، جو دوسروں کے سامنے بہت فخر کرنے والا ہو۔ تقدیر کو مد نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہر کامیابی کو اپنی بہادری اور کارکردگی سمجھنا ہے، جس سے آدمی میں تکبر اور فخر پیدا ہوتا ہے، حالانکہ اگر آدمی کی اپنی کارکردگی بھی ہو تو وہ، بلکہ اس کا اپنا وجود سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اس نے یہ سب کچھ پہلے لکھ دیا ہے، پھر جو شخص اس پر شکر کے بجائے تکبر و فخر کرتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ محبت کیسے کر سکتا ہے؟
➎ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں بیان فرمائی ہیں، ایک {” اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ … “} اور دوسری {” مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ … “} پھر فرمایا: «لِكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ» مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمھیں دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کا فانی ہونا مثال دے کر اس لیے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں جو کچھ دے اس پر پھول نہ جاؤ، بلکہ یاد رکھو کہ یہ عارضی اور فانی ہے اور ہم نے یہ بات کہ ہر مصیبت پہلے سے لکھی ہوئی ہے، اس لیے بتائی ہے کہ تم اس کے آنے پر زیادہ غم نہ کرو۔ گویا یہ لف نشر غیر مرتب ہے۔ یہ تفسیر بھی پر لطف ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23-1یہاں جس حزن اور فرح سے روکا گیا ہے وہ غم اور خوشی ہے جو انسان کو ناجائز کاموں تک پہنچا دیتی ہے ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا یہ ایک فطری عمل ہے لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے جزع فزع کرنے سے کوئی اس میں تبدیلی نہیں آسکتی اور راحت پر اتراتا نہیں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر [40] اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو [41] پسند نہیں کرتا
[40] مسئلہ تقدیر کی مصلحت :۔
تقدیر کے اس مسئلے سے تمہیں اس لیے مطلع کرنا ضروری ہے کہ تمہیں جو بھی دکھ پہنچتا ہے وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ لہٰذا ایسے حالات میں تمہیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے اور اگر نقصان ہو جائے تو اس کا غم نہ کرنا چاہئے۔ اور جب کوئی بھلائی پہنچے تو بھی تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ تمہاری اپنی حسن تدبیر یا تمہارے فعل کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ نے اسے تمہارے لئے مقدر کر رکھا تھا۔ لہٰذا تمہیں اس پر اترانے، پھولنے یا شیخیاں بگھارنے کے بجائے اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ بعض لوگ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تقدیر کا بہانہ بناتے اور اس کا مفہوم اس مصلحت کے بالکل برعکس بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اور اپنے آپ کو تقدیر کے سامنے مجبور محض ظاہر کر کے بہانہ جوئی سے کام لیتے ہیں۔ ان کی اس بہانہ جوئی کا جواب پہلے کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔
[41] مال کے فتنہ ہونے کے مختلف پہلو :۔
کسی دنیا دار انسان کو مال و دولت مل جائے تو مال کی کثرت اس میں دو خاصیتیں پیدا کر دیتی ہے۔ ایک یہ کہ اسے دولت کا نشہ چڑھ جاتا ہے، اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہتا اور وہ اپنے آپ کو کوئی بلند تر چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور دوسری یہ کہ مال جوں جوں زیادہ ہوتا ہے تو مزید مال جمع کرنے کی ہوس اس میں اور بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ ننانوے کے چکر میں پڑ جاتا ہے اور بالخصوص اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کی جان نکل جاتی ہے۔ ہاں نام و نمود کی بات ہو تو ایسے لوگ خرچ بھی کرتے ہیں اور شیخیاں بھی بگھارتے ہیں اور اپنے اس عمل کو خوب تر سمجھتے اور دوسروں کو یہی کچھ سکھاتے اور کرنے کو کہتے ہیں۔ منافقوں میں جو لوگ مالدار تھے وہ انہیں دونوں امراض میں مبتلا تھے۔ مال کے نشہ میں مست اور جہاد کے لیے خرچ کرنے کو اپنے مال کا ضیاع تصور کرتے تھے۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اگر تم ان باتوں سے باز نہ آئے تو اس کا نقصان تمہیں کو ہو گا تمہارے مال خرچ کرنے سے اللہ کو تو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا اور نہ تمہارے بخل کرنے سے اس کا کچھ نقصان ہو جاتا ہے۔ البتہ تمہاری بہتری اسی بات میں ہے کہ تم ایسی باتوں سے باز آجاؤ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آ پڑے اسے یقین رکھنا چاہیئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہی یہ علم اللہ میں مقرر تھا اور اس کا ہونا یقینی تھا۔
بعض کہتے ہیں مصیبت کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے۔
امام حسن رحمہ اللہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے۔ یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔
بعض کہتے ہیں مصیبت کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے۔
امام حسن رحمہ اللہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے۔ یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔
صحیح مسلم ہے { اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:34]
اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا ۱؎ [سنن ترمذي:2156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بے صبری اور بےضبطی تم سے دور رہے۔ جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ، اسے عطیہ الٰہی مانو، تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے، ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لیے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا، میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔
ایک قرأت اس کی «آتٰکمْ» ہے دوسری «اتٰکُمْ» ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”رنج و راحت، خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔“
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔
جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-ابراھیم:8] یعنی ’ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے ‘۔
اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا ۱؎ [سنن ترمذي:2156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بے صبری اور بےضبطی تم سے دور رہے۔ جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ، اسے عطیہ الٰہی مانو، تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے، ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لیے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا، میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔
ایک قرأت اس کی «آتٰکمْ» ہے دوسری «اتٰکُمْ» ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”رنج و راحت، خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔“
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔
جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-ابراھیم:8] یعنی ’ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے ‘۔