اِنَّ الۡمُصَّدِّقِیۡنَ وَ الۡمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقۡرَضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمۡ وَ لَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
بلاشبہ صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور جنھوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا، انھیں کئی گنا دیا جائے گا اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔
En
جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی۔ اور خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دیتے ہیں ان کو دوچند ادا کیا جائے گا اور ان کے لئے عزت کا صلہ ہے
En
بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے پسندیده اجر وﺛواب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) ➊ {اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ: ” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} اصل میں باب تفعّل سے {” اَلْمُتَصَدِّقِيْنَ “} ہے، تاء کو صاد سے بدل کر صاد میں ادغام کر دیا۔ صاد کی تشدید سے صدقے میں مبالغے اور کثرت کا اظہار مقصود ہے، یعنی بہت صدقہ کرنے والے مرد اور بہت صدقہ کرنے والی عورتیں۔ {” الْمُزَّمِّلُ “} اور{” الْمُدَّثِّرُ “} میں بھی ایسے ہی ہے۔
➋ {وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} یہاں ایک سوال ہے کہ {” اَقْرَضُوا اللّٰهَ “} فعل کا {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} اسم فاعل پر عطف کس طرح ڈالا گیا ہے؟ اس کے جوابات میں سے ایک جواب یہ ہے کہ {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} دراصل {”اَلَّذِيْنَ تَصَدَّقُوْا“} کے معنی میں ہے، اس لیے {” اَقْرَضُوا “} کا عطف {”تَصَدَّقُوْا“} پر ہے جو {”مُتَصَدِّقِيْنَ“} کے ضمن میں موجود ہے۔ {”مُتَصَدِّقِيْنَ“} کو اسم فاعل کی صورت میں دوام کے اظہار کے لیے لایا گیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے اسی سورت کی آیت (۱۱)کی تفسیر دیکھیے۔ البتہ یہاں {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} کے لفظ میں صدقے کی کثرت اور اس پر دوام کی بات اس سے زائد ہے۔
➋ {وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} یہاں ایک سوال ہے کہ {” اَقْرَضُوا اللّٰهَ “} فعل کا {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} اسم فاعل پر عطف کس طرح ڈالا گیا ہے؟ اس کے جوابات میں سے ایک جواب یہ ہے کہ {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} دراصل {”اَلَّذِيْنَ تَصَدَّقُوْا“} کے معنی میں ہے، اس لیے {” اَقْرَضُوا “} کا عطف {”تَصَدَّقُوْا“} پر ہے جو {”مُتَصَدِّقِيْنَ“} کے ضمن میں موجود ہے۔ {”مُتَصَدِّقِيْنَ“} کو اسم فاعل کی صورت میں دوام کے اظہار کے لیے لایا گیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے اسی سورت کی آیت (۱۱)کی تفسیر دیکھیے۔ البتہ یہاں {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} کے لفظ میں صدقے کی کثرت اور اس پر دوام کی بات اس سے زائد ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18-1یعنی ایک کے بدلے میں کم ازکم دس گنا اور اس سے زیادہ سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک۔ اور یہ زیادتی اخلاص نیت، حاجت و ضرورت اور مکان کی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔ 18-2یعنی جنت اور اس کی نعمتیں، جنکو کبھی زوال اور فنا نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقہ کرنے والے ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کو قرض حسنہ [31] دیا، وہ ان کے لئے دگنا کر دیا جائے گا اور ان کے لئے عمدہ اجر ہو گا
[31] اس آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب میں تاکید مزید کے طور پر اسی سورۃ کی آیت نمبر 11 کے مضمون کو دہرایا گیا ہے۔ تشریح آیت مذکورہ کے تحت دیکھ لی جائے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب ٭٭
فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنا اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا، ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ و رسول اللہ پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں،
بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» ۱؎ [4-النساء:69] ’ اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ ‘ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265]
بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» ۱؎ [4-النساء:69] ’ اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ ‘ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265]
ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33653:ضعیف]
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1887]
پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (۲) دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (۳) تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (۴) چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1887]
پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (۲) دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (۳) تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (۴) چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔