ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 88

فَاَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾
پس لیکن اگر وہ ان لوگوں سے ہوا جو قریب کیے ہوئے ہیں۔ En
پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے
En
پس جو کوئی بارگاه الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 89،88) {فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ …: فَرَوْحٌ } اور { رَيْحَانٌ } پر تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ { رَوْحٌ } کے معنی ہیں راحت، خوشی اور رحمت اور { رَيْحَانٌ } ہر خوشبودار پودے اور پھول کو کہتے ہیں۔ { رَيْحَانٌ } کا ایک معنی رزق بھی ہے۔ سورت کے آخر میں تینوں گروہوں کا جان کنی کے وقت کا حال بیان فرمایا۔ مقصد ترغیب و ترہیب ہے، یعنی اگر مرنے والا مقربین سے ہوا تو مرتے وقت اس کے لیے عظیم راحت، خوشی اور اللہ کی رحمت ہے، خوشبو دار پھول ہیں اور نعمتوں سے بھری ہوئی جنت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلاَئِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا اخْرُجِيْ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ! كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِيْ حَمِيْدَةً وَأَبْشِرِيْ بِرَوْحٍ وَ رَيْحَانٍ وَ رَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلاَ يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰی تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَی السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ فُلاَنٌ، فَيُقَالُ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِيْ حَمِيْدَةً، وَ أَبْشِرِيْ بِرَوْحٍ وَ رَيْحَانٍ وَ رَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلاَ يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰی يُنْتَهٰی بِهَا إِلَی السَّمَاءِ الَّتِيْ فِيْهَا اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ] [ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ: ۴۲۶۲، وقال الألباني صحیح] مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں تو جب آدمی صالح ہو تو وہ کہتے ہیں: نکل اے پاک جان جو پاک جسم میں تھی! نکل، تو تعریف والی ہے اور عظیم راحت کی اور خوشبو دار پھولوں کی اور غصے نہ ہونے والے رب کی خوش خبری پر خوش ہو جا۔ وہ اسے یہی کہتے رہتے ہیں حتیٰ کہ وہ نکل آتی ہے۔ پھر اسے آسمان کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کے لیے دروازہ کھولا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ وہ کہتے ہیں: فلاں ہے۔ تو کہا جاتا ہے: اس پاک جان کو مرحبا جو پاک جسم میں تھی، اندر آ جا، تو تعریف والی ہے اور عظیم راحت کی اور خوشبو دار پھولوں کی اور غصے نہ ہونے والے رب کی خوش خبری پر خوش ہو جا۔ پھر اسے یہی الفاظ کہتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ اسے اس آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے جس میں اللہ عز و جل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

88۔ ہاں اگر وہ مرنے والا مقربین سے ہو

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

احوال موت ٭٭
یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔
فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔
«رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27]‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔
مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح]‏‏‏‏
اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح]‏‏‏‏
اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روتے کیوں ہوں؟، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏ [مسند احمد:259/4:حسن]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32]‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔
بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔
مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96]‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رکوع میں رکھو اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1]‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406]‏‏‏‏
«الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْ٘مُقَرَّبِیْنَ۠ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوْحٌ تب ان کے لیے راحت و اطمینان، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَیْحَانٌ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ریحان سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ اور نعمتوں والی جنت ہے۔ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۰۰ نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمْ فِیْهَا مَا تَ٘شْ٘تَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۰۰ (حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ لَهُمُ الْ٘بُشْرٰؔى فِی الْحَؔیٰؔوةِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَةِ (یونس:10/64) ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ذكر الله تعالى أحوال الطوائف الثلاث: المقرَّبين، وأصحاب اليمين، والمكذِّبين الضالِّين في أول السورةِ في دارِ القرارِ، ثم ذكر أحوالَهم في آخرها عند الاحتضارِ والموتِ، فقال: {فأمَّا إن كان من المقرَّبين}؛ أي: إن كان الميِّت من المقرَّبين إلى الله، المتقرِّبين إليه بأداء الواجبات والمستحبَّات وترك المحرَّمات والمكروهات وفضول المباحات، {فـ} لهم {روحٌ}؛ أي: راحةٌ وطمأنينةٌ وسرورٌ وبهجةٌ ونعيمُ القلب والروح، {ورَيْحانٌ}: وهو اسم جامعٌ لكل لذَّةٍ بدنيَّةٍ من أنواع المآكل والمشارب وغيرها، وقيل: الريحانُ هو الطيبُ المعروف، فيكون من باب التعبير بنوع الشيء عن جنسه العام، {وجنَّةُ نعيم}: جامعةٌ للأمرين كليهما، فيها ما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خطر على قلب بشر، فيبشَّر المقرَّبون عند الاحتضار بهذه البشارة، التي تكاد تطير منها الأرواح فرحاً وسروراً ؛ كما قال تعالى: {إنَّ الذين قالوا ربُّنا الله ثم استقَاموا تَتَنَزَّلُ عليهم الملائكةُ أن لا تخافوا ولا تحزنوا وأبْشِروا بالجنَّةِ التي كُنتُمْ توعَدونَ. نحنُ أولياؤكم في الحياةِ الدُّنيا وفي الآخرةِ ولكم فيها ما تَشْتَهي أنفسُكم ولكم فيها ما تدَّعونَ. نُزُلاً من غفورٍ رحيم}، وقد فُسِّرَ قولُه [تبارك و] تعالى: {لهم البُشرى في الحياة الدُّنيا وفي الآخرة}: أنَّ هذه البشارة المذكورة هي البُشرى في الحياة الدنيا.