اس آیت کی تفسیر آیت 86 میں تا آیت 88 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
87-1یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیر فرمان اور ما تحت ہو یا کوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا، تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھاؤ اور اگر تم ایسا نہیں کرسکتے اس کا مطلب تمہارا گمان باطل ہے۔ یقینا تمہارا ایک آقا ہے اور یقینا ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اسکے عمل کی جزا دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
87۔ اور اگر تم (اپنی بات میں) سچے ہو [41] تو اس جان کو لوٹا کیوں نہیں لیتے؟
[41] سورت کے آخر میں یاددہانی کے طور پر انہیں تین گروہوں کا اجمالاً انجام ذکر کیا جا رہا ہے جن کا بیان ابتدا میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یعنی ﴿مُقَّرَبِيْنَ﴾﴿أصْحَابُالْيَمِيْنِ﴾ اور ﴿أصْحَابالشِّمَالِ﴾
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔