(آیت 83تا87){ فَلَوْلَاۤاِذَابَلَغَتِالْحُلْقُوْمَ …: ”مَدِيْنِيْنَ“”دَانَيَدِيْنُدَيْنًا“} (جزا دینا، مالک ہونا، حساب لینا، حاکم ہونا) سے اسم مفعول {”مَدِيْنٌ“} کی جمع ہے جو اصل میں {”مَدْيُوْنٌ“} تھا، بدلا دیے گئے، محاسبہ کیے گئے، محکوم، مملوک۔ ان آیات میں {”فَلَوْلَاۤ“} دو دفعہ آیا ہے اور دونوں کی جزا {”تَرْجِعُوْنَهَااِنْكُنْتُمْصٰدِقِيْنَ“} ہے۔ ان آیات میں نزع کے عالم کا نقشہ کھینچ کر قیامت کے منکروں سے کہا گیا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کہ مرتے وقت جب جان حلق تک آ پہنچتی ہے اور تم پاس بیٹھے مرنے والے کو دیکھ رہے ہوتے ہو اور ہم تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں، تو پھر اگر تم کسی کے محکوم نہیں اور نہ تم سے کوئی محاسبہ کرنے والا ہے اور تم خود ہی ہر طرح صاحب اختیار ہو، تو اگر تم سچے ہو تو نکلنے والی اس جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟ تمھاری بے بسی سے ثابت ہوا کہ تم سب اللہ تعالیٰ کے مملوک اور اس کے حکم کے پابند ہو، جب وہ لے جانا چاہے گا لے جائے گا اور جب زندہ کر کے محاسبے کے لیے اپنے سامنے کھڑا کرنا چاہے گا کر دے گا۔ اس لیے تمھاری بھلائی اسی میں ہے کہ اس کی توحید پر، اس کے رسول پر اور یوم قیامت پر ایمان لے آؤ، تاکہ تمھیں اس دن شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ جان نکلنے کے وقت انسان کی حالت اور اس کے غم گساروں کی بے بسی کا نقشہ سورۂ قیامہ کی آیات (۲۶ تا ۳۰) میں بھی خوب کھینچا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
83۔ پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب جان ہنسلی کو پہنچ جاتی ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عالم نزع کی بےبسی ٭٭
اسی مضمون کی آیتیں سورۃ القیامہ میں بھی ہیں «كَلَّاإِذَابَلَغَتِالتَّرَاقِيَ» * «وَقِيلَمَنْرَاقٍ» * «وَظَنَّأَنَّهُالْفِرَاقُ» * «وَالْتَفَّتِالسَّاقُبِالسَّاقِ» * «إِلَىرَبِّكَيَوْمَئِذٍالْمَسَاقُ»[75-القیامۃ:26-30] فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَهُوَالْقَاهِرُفَوْقَعِبَادِهِوَيُرْسِلُعَلَيْكُمْحَفَظَةًحَتَّىإِذَاجَاءَأَحَدَكُمُالْمَوْتُتَوَفَّتْهُرُسُلُنَاوَهُمْلَايُفَرِّطُونَ» * «ثُمَّرُدُّواإِلَىاللَّـهِمَوْلَاهُمُالْحَقِّأَلَالَهُالْحُكْمُوَهُوَأَسْرَعُالْحَاسِبِينَ»[6-الانعام:62،61] اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کر لیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو حاکم ہے اور جلد حساب لے لینے والا ہے۔ یہاں فرماتا ہے اگر سچ مچ تم لوگ کسی کے زیر فرمان نہیں ہو اگر یہ حق ہے کہ تم دوبارہ جینے اور میدان قیامت میں حاضر ہونے کے قائل نہیں ہو اور اس میں تم حق پر ہو اگر تمہیں حشر و نشر کا یقین نہیں اگر تم عذاب نہیں کئے جاؤ گے وغیرہ۔ تو ہم کہتے ہیں اس روح کو جانے ہی کیوں دیتے ہو؟ اگر تمہارے بس میں ہے تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس اس کی اصلی جگہ پہنچا دو۔ پس یاد رکھو جیسے اس روح کو اس جسم میں ڈالنے پر ہم قادر تھے اور اس کو بھی تم نے بہ چشم خود دیکھ لیا یقین مانو اسی طرح ہم دوبارہ اسی روح کو اس جسم میں ڈال کر نئی زندگی دینے پر بھی قادر ہیں۔ تمہارا اپنی پیدائش میں دخل نہیں تو مرنے میں پھر دوبارہ جی اٹھنے میں تمہارا دخل کہاں سے ہو گیا؟ پھر کیوں تم کہتے پھرتے ہو کہ ہم مر کر زندہ نہیں ہوں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔