ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 8

فَاَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ؕ﴿۸﴾
پس دائیں ہاتھ والے، کیا (خوب) ہیں دائیں ہاتھ والے۔ En
تو داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں
En
پس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9،8) {فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ …: أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ} مبتدا ہے اور { مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ } جملہ ہو کر خبر ہے۔ دائیں ہاتھ والے جنھیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیے جائیں گے۔ (دیکھیے حاقہ: ۱۹) استفہام سے مراد ان کی عظمتِ شان کا اظہار ہے، یعنی وہ اتنی بلند شان والے ہیں کہ ان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے کہ { أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ } کیا ہیں۔ یہاں ان کی شان اجمالاً بیان ہوئی ہے، تفصیل آگے { وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ } میں آ رہی ہے۔ اسی طرح { وَ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ } میں بائیں ہاتھ والوں کی بری حالت کا اظہار مقصود ہے کہ وہ کیا ہی بری ہے، تفصیل اس کی { وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ } میں آ رہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 اس سے عام مومنین مراد ہیں جن کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے جو ان کی خوش بختی کی نشانی ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ (ایک تو) دائیں ہاتھ والے ہوں گے، ان دائیں ہاتھ والوں [5] کے کیا ہی کہنے
[5] ﴿يمين﴾ بمعنی دایاں ہاتھ بھی اور دائیں جانب بھی۔ اس لحاظ سے اس کے معنی یہ ہوئے کہ جن لوگوں کو ان کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور قیامت کے دن انہیں اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب جگہ ملے گی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے پہلے آسمان پر سیدنا آدمؑ کو دیکھا کہ وہ جب اپنی دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنس دیتے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رو دیتے ہیں۔ سیدنا جبریل نے آپ کو بتایا کہ سیدنا آدم کی دائیں جانب وہ لوگ تھے جو جنت میں داخل ہونے والے ہیں اور بائیں طرف وہ لوگ تھے جو جہنم میں داخل ہوں گے، اس سے بھی اصحاب الیمین سے مراد اہل جنت ہوئے۔ اور اگر یمین کو یمن سے مشتق سمجھا جائے جو برکت اور خوش بختی کے معنوں میں آتا ہے تو اس سے مراد خوش بخت اور خیر و برکت والے اصحاب ہیں اور مطلب دونوں معنوں کے لحاظ سے ایک ہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔