(آیت 74) {فَسَبِّحْبِاسْمِرَبِّكَالْعَظِيْمِ:} تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعلیٰ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ” انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنے رکوع میں {”سُبْحَانَرَبِّيَالْعَظِيْمِ“} اور سجدے میں {”سُبْحَانَرَبِّيَالْأَعْلٰي“} پڑھتے تھے اور کسی بھی رحمت کی آیت کے پاس سے گزرتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور کسی بھی عذاب کی آیت کے پاس سے گزرتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے۔“[أبوداوٗد، الصلاۃ، باب ما یقول الرجل في رکوعہ و سجودہ: ۸۷۱، و قال الألباني صحیح]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
74۔ لہٰذا اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرو جو بڑا عظمت والا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمد و ثنا، اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَ٘سَبِّحْبِاسْمِرَبِّكَالْعَظِیْمِ﴾ یعنی اپنے رب عظم کی تنزیہ بیان کیجیے جو اسماء و صفات میں کامل اور بے پایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل، زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجیے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے، اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما بيَّن من نعمه ما يوجب الثناء عليه من عباده وشكره وعبادته؛ أمر بتسبيحه وتعظيمه ، فقال: {فسبِّحْ باسم ربِّك العظيم}؛ أي: نزِّهْ ربَّك العظيم كامل الأسماء والصفات، كثير الإحسان والخيرات، واحْمَدْه بقلبك ولسانك وجوارِحكَ؛ لأنَّه أهلٌ لذلك، وهو المستحقُّ لأن يُشْكَرَ فلا يُكْفَرَ ويُذْكَرَ فلا ينسى ويُطاعَ فلا يُعْصَى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔