ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 73

نَحۡنُ جَعَلۡنٰہَا تَذۡکِرَۃً وَّ مَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِیۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾
ہم نے ہی اسے مسافروں کے لیے ایک نصیحت اور فائدے کی چیز بنایا ہے۔ En
ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے
En
ہم نے اسے سبب نصیحت اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 73) {نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَ: قَوِيَ يَقْوٰي قِيًّا وَ قَوَايَةً (س) اَلدَّارُ} گھر خالی ہو گیا۔ {وَقَوًي} سخت بھوکا ہونا۔ {اَلْمَطَرُ} بارش رک جانا۔ {اَلْقَوَاءُ} خالی زمین، بیابان، بھوک۔ {بَاتَ الْقَوٰي} اس نے بھوکے رات گزاری۔ {اَلْمُقْوِيْنُ} اس مادہ کے باب افعال {أَقْوٰي يُقْوِيْ إِقْوَاءً} سے اسم فاعل {مُقْوٍي} کی جمع ہے، اس کا معنی قواء (جنگل بیابان) کے مسافر یا اس میں ٹھہرنے یا رہنے والے خانہ بدوش بھی ہے اور بھوکے لوگ بھی۔ کوئی شک نہیں کہ آگ کی ضرورت ہر ایک کو پڑتی ہے، مگر ان لوگوں کو اس سے بہت زیادہ کام لینا پڑتا ہے جن کا آیت میں ذکر ہے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ آگ دوسرے لوگوں کے لیے نصیحت یا زندگی کا سامان نہیں، بلکہ ان دونوں کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ سفر اور بھوک میں یہ احساس زیادہ واضح ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

73-1کہ اس کے اثرات اور فوائد حیرت انگیز ہیں اور دنیا کی بیشمار چیزوں کی تیاری کے لئے اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ جو ہماری قدرت عظیمہ کی نشانی ہے، پھر ہم نے جس طرح دنیا میں یہ آگ پیدا کی ہے، ہم آخرت میں بھی پیدا کرنے پر قادر ہیں جو اس سے69درجہ حرارت میں زیادہ ہوگی۔ -2 مقوین، مقوی کی جمع ہے، قواء یعنی خالی صحراء میں داخل ہونے والا، مراد مسافر ہے، یعنی مسافر صحراؤں اور جنگلوں میں ان درختوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس سے روشنی، گرمی اور ایندھین حاصل کرتے ہیں۔ بعض نے مقوی سے وہ فقراء مراد لیے ہیں جو بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ ہوں۔ بعض نے اس کے معنی مستمعین (فائدہ اٹھانے والے) کیے ہیں۔ اس میں امیر غریب، مقیم اور مسافر سب آجاتے ہیں اور سب ہی آگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لیے حدیث میں جن تین چیزوں کو عام رکھنے کا اور ان سے کسی کو نہ روکنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں پانی اور گھاس کے علاوہ آگ بھی ہے، امام ابن کثیر نے اس مفہوم کو زیادہ پسند کیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ ہم نے اس درخت کو یاددہانی کا ذریعہ اور مسافروں [34] کے فائدہ کی چیز بنا دیا ہے
[34] ﴿مُقْوِيْنٌ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿مُقْوِيْنٌ ﴿القوٰي بمعنی بھوک اور ﴿باتَ الْقَوٰي بمعنی بھوکا رہ کر رات گزاری اور ﴿القاوية﴾ بمعنی کم بارش کا سال اور ﴿تقاوٰي بمعنی بارش کی قلت یا افراط جس سے فصل تباہ ہو جائے اور قحط نمودار ہو جائے۔ اور ﴿تقاوي﴾ قرضے وہ ہوتے ہیں جو ایسے قحط کے سال میں حکومت زمینداروں کو بالاقساط ادائیگی کی شرط پر دیتی ہے اور ﴿تقاوي﴾ بمعنی بھوکے رات بسر کرنا اور قوت لایموت بمعنی خوراک کی اتنی کم مقدار جس سے انسان بس زندہ رہ سکے اور ﴿مقوين﴾ بمعنی قوت کی احتیاج میں سفر کرتے پھرتے لوگ۔ خانہ بدوش لوگ جو رزق کی تلاش میں ادھر ادھر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ درختوں کی لکڑیوں سے عارضی مکان بھی کھڑے کر سکتے ہیں۔ ایندھن بیچ کر اپنی دوسری ضروریات بھی پوری کر سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔