ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 71

اَفَرَءَیۡتُمُ النَّارَ الَّتِیۡ تُوۡرُوۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾
پھر کیا تم نے دیکھی وہ آگ جو تم سلگاتے ہو؟ En
بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو
En
اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 72،71){ اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ تُوْرُوْنَ …:أَوْرٰي يُوْرِيْ (افعال) النَّارَ} آگ سلگانا۔ یہ چوتھی دلیل ہے جو یہاں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے حق ہونے کے ثبوت کے لیے لائی گئی ہے۔ (دیکھیے یٰس: ۸۰) { اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ} میں خبر پر الف لام سے حصر پیدا ہو رہا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ بھلا دیکھو! جو آگ تم جلاتے [33] ہو
[33] درختوں کا سب سے بڑا فائدہ آگ کا حصول :۔
تیسری نعمت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ تم آگ جلاتے ہو۔ آگ جلانا اور اس سے استفادہ کرنا صرف انسان کا کام ہے۔ دوسری کوئی جاندار مخلوق یہ کام نہیں کر سکتی۔ جانور نباتات وغیرہ اسی حال میں کھاتے ہیں جس حال میں یہ زمین سے نکلتی یا دستیاب ہوتی ہے جبکہ انسان تمام سبزیاں، غلے اور گوشت وغیرہ آگ پر پکا کر کھاتے ہیں۔ پھر آگ سے ہی انسان نے کئی قسم کی دھاتیں ڈھال کر اپنے استعمال میں لانا شروع کیں۔ پھر مشینریاں اور کلیں بنائیں۔ اگرچہ آج کل آگ تیل، پٹرول اور گیس وغیرہ سے بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ مگر آج سے صرف دو صدی پیشتر تک آگ حاصل کرنے کا ذریعہ صرف درخت اور ایندھن تھا۔ بعض درخت ایسے ہیں جن کو ایک دوسرے پر رگڑنے سے آگ حاصل ہو جاتی ہے اور بعض درختوں کا تیل ایندھن کا کام دیتا ہے اور ہر قسم کے درخت اور پودے، گھاس وغیرہ خشک ہو کر آگ حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ درختوں سے ہی کوئلہ اور پھر معدنی یا پتھری کوئلہ بھی بنتا ہے۔ گویا آج کے دور میں بھی آگ کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ یہ درخت وغیرہ ہی ہیں۔ اور درختوں کو پیدا کرنے اور نشو و نما دینے والی صرف اللہ کی ذات ہے۔ جس میں دوسرے کسی کام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اگر انسان سمجھے تو درختوں کی پیدائش بھی فی الحقیقت اس پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے درخت کو پیدا کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سر سبز درخت سے آگ کو پیدا کیا، تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے، جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔ ﴿ نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لیے ان کے رب کی نعمت اور جہنم کی آگ کی یاد دہانی بنایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے، یہ (یاد دہانی) ایک کوڑا ہے جو اس کے بندوں کو نعمتوں بھری جنت کی طرف ہانکتا ہے ﴿ وَّمَتَاعًا لِّ٘لْ٘مُقْوِیْنَ یعنی فائدہ اٹھانے والوں یا مسافروں کے لیے کچھ سامان زیست بنایا، اللہ تعالیٰ نے مسافروں کو اس لیے مخصوص فرمایا کیونکہ مسافر کے لیے اس کا فائدہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہو کہ دنیا تمام تر مسافر خانہ ہے۔ پس اس آگ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسافروں کے لیے سامان زیست اور آخرت کے دائمی گھر کی یاد دہانی بنایا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه نعمةٌ تدخل في الضروريَّات التي لا غنى للخلق عنها؛ فإنَّ الناس محتاجون إليها في كثيرٍ من أمورهم وحوائجهم، فقرَّرهم تعالى بالنار التي أوجدها في الأشجار، وأنَّ الخلق لا يقدرون أن ينشئوا شجرها، وإنَّما الله تعالى قد أنشأها من الشجر الأخضر؛ فإذا هي نارٌ توقد بقدر حاجة العباد؛ فإذا فرغوا من حاجتهم؛ أطفؤوها وأخمدوها. {نحن جَعَلْناها تذكرةً}: للعباد بنعمة ربِّهم، وتذكرةً بنار جهنَّم التي أعدَّها الله للعاصين، وجعلها سوطاً يسوقُ به عبادَه إلى دار النعيم، {ومتاعاً للمُقْوينِ}؛ أي المنتفعين أو المسافرين، وخصَّ الله المسافرين؛ لأنَّ نفع المسافر بها أعظم من غيره، ولعلَّ السبب في ذلك لأنَّ الدُّنيا كلَّها دارُ سفرٍ، والعبدُ من حين ولد فهو مسافرٌ إلى ربِّه؛ فهذه النار جعلها الله متاعاً للمسافرين في هذه الدار وتذكرةً لهم بدار القرار.