(آیت 7) {وَكُنْتُمْاَزْوَاجًاثَلٰثَةً:} یہ تمام لوگوں کو خطاب ہے، کیونکہ قیامت کے دن سب لوگ ان تین قسموں میں تقسیم ہوں گے، سابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔ سورت کے آخر میں موت کے وقت بھی لوگوں کی یہی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اس وقت تم تین گروہ [4] بن جاؤ گے
[4] سابقہ آیات میں قیامت کے برپا ہونے یا نفخہ صور اول کا منظر پیش کیا گیا ہے اور اس آیت میں نفحہ صور ثانی یا مردوں کے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے اور میدان محشر میں اکٹھا ہو جانے کے مابعد کا۔ اس وقت تمام لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک اہل دوزخ، دوسرے اہل جنت۔ اہل جنت کی پھر دو قسمیں ہوں گی۔ ایک مقربین کا گروہ، دوسرا عام صالحین کا۔ اس طرح کل تین قسم کے گروہ بن جائیں گے۔ جیسا کہ آگے ان کی تفصیل آرہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔