(آیت 68تا70) ➊ { اَفَرَءَيْتُمُالْمَآءَالَّذِيْتَشْرَبُوْنَ …: ”الْمُزْنِ“} اسم جمع ہے، بادل۔ مفرد اس کا {”مُزْنَةٌ“} ہے۔ تیسیر القرآن میں ہے:”یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک اور کرشمہ ہے، سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کر کے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں، سخت نمکین اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے، مگر جو بارش برستی ہے اس میں نمکینی نام کو نہیں ہوتی۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دواؤں کا ہم اس طرح عرق کشید کرتے ہیں ان میں ذائقہ بھی منتقل ہوتا ہے اور ُبو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان اشیاء کا ذائقہ بھی منتقل ہو جاتا ہے اور ُبو بھی، لیکن سمندر کے پانی کی نمکینی آبی بخارات کے ساتھ منتقل نہیں ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے، ورنہ اس زمین کا کوئی جاندار ایسا پانی پی کر زندہ ہی نہ رہ سکتا اور نہ ہی ایسے پانی سے پیداوار اُگ سکتی ہے جو پانی کے بعد جانداروں کی زندگی کا دوسرا بڑا سہارا ہے۔“ (بتصرف) ➋ قیامت کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی پیدائش کا ذکر فرمایا اور زمین سے مردہ بیج سے کھیتی اگانے کا ذکر فرمایا۔ کھیتی اگانے میں پانی خصوصاً بارش کا دخل ظاہر ہے، اس لیے اس کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن انسانی جسم بھی بارش سے اگیں گے۔ حدیث کے لیے دیکھیے سورۂ نمل (۸۷) کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کو قیامت کے علاوہ اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بھی جا بجا پیش فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱، ۲۲)، نمل (۶۰)، عنکبوت (۶۳) اور سورۂ روم (۴۸ تا ۵۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
68۔ بھلا دیکھو! جو پانی تم پیتے ہو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کو طعام کی نعمت سے نوازا ہے تو اس نے اس خوشگوار شیریں پانی کی نعمت کا بھی ذکر فرمایا جسے وہ پیتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہ بنایا ہوتا تو اس کے حصول کا تمھارے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ وہی ہے جس نے بادل میں سے اس کو نازل کیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بارش نازل کرتا ہے، پھر روئے زمین پر اور زمین کے نیچے، اس پانی سے بہتے ہوئے دریا اور ابلتے ہوئے چشمے بن جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اسے خوشگوار شیریں بنایا جسے لوگ مزے سے پیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے کھاری اور کڑوا بنا دیتا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا۔ ﴿ فَلَوْلَاتَشْكُرُوْنَ﴾ پس تم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے، جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى نعمته على عباده بالطعام؛ ذَكَرَ نعمته عليهم بالشراب العذب الذي منه يشربون، وأنَّه لولا أنَّ الله يسَّره وسهَّله؛ لما كان لكم إليه سبيلٌ ، وأنَّه الذي أنزله {من المزنِ}: وهو السحابُ والمطرُ الذي يُنْزِلُه الله تعالى، فيكون منه الأنهار الجارية على وجه الأرض وفي بطنها، ويكون منه الغدرانُ المتدفِّقة، ومن نعمته تعالى أن جعله عذباً فراتاً تُسيغُه النفوس، ولو شاء؛ لَجَعَلَهُ ملحاً {أجاجاً}: لا يُنتفع به ، {فلولا تشكرون}: الله تعالى على ما أنعم به عليكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔