تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492]
امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔
پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔
«مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔
عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔
قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح]
«مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔
ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا امتنانٌ منه على عباده؛ يدعوهم به إلى توحيدِهِ وعبادتِهِ والإنابةِ إليه؛ حيث أنعم عليهم بما يسَّره لهم من الحرث للزُّروع والثمار، فيخرجُ من ذلك من الأقوات والأرزاق والفواكه ما هو من ضروراتهم وحاجاتهم ومصالحهم التي لا يقدِرون أن يُحصوها، فضلاً عن شكرها وأداء حقِّها، فقرَّرهم بمنَّته، فقال: {أأنتُم تَزْرَعونَه أم نحنُ الزَّارِعونَ}؛ أي: أنتم أخرجْتُموه نباتاً من الأرض؟ أم أنتُم الذي نمَّيتموه؟ أم أنتم الذين أخرجتم سُنْبله وثمرَه حتى صار حبًّا حصيداً وثمراً نضيجاً؟ أم الله الذي انفرد بذلك وحدَه وأنعم به عليكم، وأنتم غايةُ ما تفعلون أن تحرُثوا الأرض، وتشقُّوها، وتُلْقوا فيها البذرَ، ثم لا علم عِندكم بما يكون بعد ذلك ولا قدرةَ لكم على أكثر من ذلك؟ ومع ذلك؛ فنبَّههم على أنَّ ذلك الحرثَ معرضٌ للأخطار لولا حفظُ الله وإبقاؤه بُلغةً لكم ومتاعاً إلى حين. فقال: {لو نشاء لجعلناه}؛ أي: الزرع المحروث وما فيه من الثمار {حُطاماً}؛ أي: فتاتاً متحطِّماً لا نفع فيه ولا رزق، {فظَلْتُمْ}؛ أي: فصرتُم بسبب جعله حطاماً بعد أن تعبتم فيه، وأنفقتم النفقات الكثيرة، {تَفَكَّهونَ}؛ أي: تندمون وتحسرون على ما أصابكم، ويزول بذلك فرحُكم وسرورُكم وتفكُّهكم، فتقولون: {إنَّا لَمُغْرَمونَ}؛ أي: إنَّا قد نقصنا وأصابتنا مصيبةٌ اجتاحَتْنا. ثم تعرفون بعد ذلك من أين أتيتُم، وبأيِّ سبب دُهيتم؟ فتقولون: {بل نحنُ محرومونَ}! فاحْمَدوا الله تعالى حيث زَرَعَه [اللَّهُ] لكم، ثم أبقاه وكمَّله لكم، ولم يرسلْ عليه من الآفات ما به تُحرمون من نفعِهِ وخيرِهِ.