(آیت 62) {وَلَقَدْعَلِمْتُمُالنَّشْاَةَالْاُوْلٰى …:} یعنی جب تم جانتے ہو اور اس کا اقرار بھی کرتے ہو کہ تمھیں پہلی بار ہمیں نے پیدا کیا، جب تم کچھ تھے ہی نہیں، تو پھر یہ کیوں نہیں مانتے کہ جب تم مر جاؤ گے تو ہم تمھیں دوبارہ بھی زندہ کریں گے؟ دوبارہ پیدا کرنا تو پہلی بار سے آسان ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۲۷) اور سورۂ مریم (۶۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
62-1یعنی کیوں نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
62۔ اپنی پہلی پیدائش کو تو تم خوب جانتے ہو، پھر تم کیوں سبق حاصل نہیں کرتے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔