ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 58

اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَ ﴿ؕ۵۸﴾
تو کیا تم نے دیکھا وہ (نطفہ) جو تم ٹپکاتے ہو؟ En
دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو
En
اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59،58) {اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ …: تُمْنُوْنَ أَمْنٰي يُمْنِيْ إِمْنَاءً } (افعال) (گرانا، ٹپکانا) سے جمع مذکر حاضر مضارع معلوم ہے۔ { اَفَرَءَيْتُمْ } میں رؤیت سے مراد رؤیت علمی ہے، کیونکہ یہ آنکھوں سے نظر آنے والی چیز نہیں۔ (دیکھیے سورۂ یٰس: ۷۷) منی کے قطرے سے انسان کی پیدائش کا قیامت کی دلیل ہونا ایسی بات ہے جس پر غور کرنا ہر شخص پر واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (4) خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ» [الطارق: ۵،۴] پس انسان کو لازم ہے کہ دیکھے وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔وہ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ طارق (۵ تا ۸) کی تفسیر۔
مفسر عبدالرحمن کیلانی لکھتے ہیں: پہلی قابلِ غور بات یہ ہے کہ انسان کا نطفہ بذات خود کیا چیز ہے؟ وہ کن چیزوں سے بنتا ہے؟ پھر جن چیزوں سے بنتا ہے وہ زندہ تھیں یا مردہ؟ اور اس نطفہ کے بننے یا بنانے میں تمھارا بھی کچھ عمل دخل یا اختیار تھا؟ پھر اس نطفہ کو رحمِ مادر میں ٹپکانے کی حد تک تو اختیار انسان کو ہے، اس کے بعد اس کا اختیار کلی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ نطفہ کا ایک قطرہ لاکھوں جراثیم، کیڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جو صرف طاقتور خورد بین سے نظر آ سکتے ہیں۔ اسی طرح رحمِ مادر میں نسوانی بیضہ کا وجود بھی خورد بین کے بغیر نظر نہیں آ سکتا۔ نطفہ کا ایک جرثومہ جب نسوانی بیضہ میں داخل ہوتا ہے، پھر ان دونوں کے ملنے سے ایک چھوٹا سا زندہ خلیہ (Cell) بن جاتا ہے، یہی انسانی زندگی کا نقطۂ آغازہے اور اسی کا نام استقرارِ حمل ہے، نطفہ ٹپکانے کی حد تک مرد کو اختیار ہے، مگر یہ طاقت نہ مرد میں ہے نہ عورت میں اور نہ دنیا کی کسی اور ہستی میں کہ وہ نطفہ سے حمل کا استقرار کرا دے، پھر اس نقطۂ آغاز سے ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں بچے کی درجہ بدرجہ پرورش، ہر بچے کی الگ الگ صورت گری، ہر بچے کے اندر مختلف ذہنی و جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب کے ساتھ رکھنا جس سے وہ ایک امتیازی انسان بن کر اٹھے، کیا یہ ایک خالق کے سوا کسی اور کا کام ہو سکتا ہے؟ یا اس میں ذرہ برابر بھی کسی (ڈاکٹر، ولی یا پیر فقیر یا کسی) دوسرے کا کوئی دخل ہے؟ پھر یہ فیصلہ کرنا بھی اللہ کے اختیار میں ہے کہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی، خوش شکل ہو یا بدشکل، اس کے نقوش تیکھے ہوں یا بھرے؟ طاقتور اور قد کاٹھ والا ہو یا کمزور، نحیف اور تھوڑے وزن والا، تندرست ہو یا اندھا بہرا لنگڑا، ذہین ہو یا کند ذہن۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں جو خالصتاً اللہ تعالیٰ خالق کائنات کے اختیار میں ہیں، کیا ان سب باتوں کو سمجھ لینے کے بعد بھی انسان یہ تصدیق نہیں کر سکتا کہ اسے پیدا کرنے والا اکیلا رب العالمین ہے اور یہ کہ وہ جو مردہ نطفے سے ہر روز لاکھوں کروڑوں کی تعدادمیں انسان اور دوسرے جاندار پیدا کر رہا ہے وہ مرنے کے بعد انسانوں کے بے جان ذرّات کو دوبارہ بھی زندگی بخش سکتا ہے؟ (تیسیر القرآن) اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر پہلی دفعہ پیدا کرنے کو دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۷)، انبیاء (۱۰۴)، حج (۵)، یٰس (۷۷ تا ۷۹)، بنی اسرائیل (۵۱)، مریم (۶۷) اور سورۂ قیامہ (۳۶تا ۴۰)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ بھلا دیکھو! جو (منی) تم ٹپکاتے ہو

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحم میں)ٹپکاتے ہو؟ کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے، اس کے تم خالق ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں، یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی، میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی، ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعلق قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْلَا تَذَكَّـرُوْنَ بے شک تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قدرت رکھنے والی ہستی، تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {أفرأيتم} ابتداء خَلْقِكُم من المنيِّ الذي {تُمنون} فهل أنتم خالقون ذلك المنيَّ، وما ينشأ منه أم الله تعالى الخالق؟ الذي خَلَقَ فيكم من الشهوة وآلتها في الذكر والأنثى، وهدى كلاًّ منهما لما هنالك، وحبَّب بين الزوجين، وجعل بينهما من المودَّة والرَّحمة ما هو سبب التناسل ، ولهذا أحالهم اللهُ تعالى بالاستدلال - بالنَّشأة الأولى على النشأة الأخرى، فقال: {ولقد علمتُمُ النَّشْأةَ الأولى فلولا تَذَكَّرونَ}: أنَّ القادر على ابتداء خلقكم قادرٌ على إعادتكم.