(آیت 5) {وَبُسَّتِالْجِبَالُبَسًّا: ”بَسَّيَبُسُّبَسًّا“} (ن) ریزہ ریزہ کرنا۔ {”بَسًّا“} مصدر کے ساتھ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنے میں مبالغے کا اظہار مقصود ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَيَسْـَٔلُوْنَكَعَنِالْجِبَالِفَقُلْيَنْسِفُهَارَبِّيْنَسْفًا (105) فَيَذَرُهَاقَاعًاصَفْصَفًا (106) لَّاتَرٰىفِيْهَاعِوَجًاوَّلَاۤاَمْتًا» [طٰہٰ: ۱۰۵ تا ۱۰۷]”اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھیں گے تو توکہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ پھر انھیں ایک چٹیل میدان بنا کرچھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 رَجًا کے معنی حرکت و اضطراب (زلزلہ) اور بس کے معنی ریزہ ریزہ ہوجانے کے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ [3] کر دیئے جائیں گے
[3] یعنی زمین پر زلزلہ کسی مقامی سطح پر نہیں آئے گا۔ بلکہ ساری کی ساری زمین ہی لرزنے کپکپانے اور ہچکولے کھانے لگے گی۔ پہاڑوں کی گرفت زمین پر سے ڈھیلی پڑ جائے گی۔ اور ایک پتھر دوسرے پر گر کر ریت کی طرح ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ پھر تیز ہوا ان پہاڑوں کے ذرات کو پراگندہ کر کے اڑاتی پھرے گی۔ سوچ لو کیا اس وقت تمہارا زمین پر زندہ رہنا ممکن رہ جائے گا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔