ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 49

قُلۡ اِنَّ الۡاَوَّلِیۡنَ وَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۹﴾
کہہ دے بے شک تمام پہلے اور پچھلے۔ En
کہہ دو کہ بےشک پہلے اور پچھلے
En
آپ کہہ دیجئے کہ یقیناً سب اگلے اور پچھلے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50،49) {قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَ (49) لَمَجْمُوْعُوْنَ۠ …:} تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ تغابن (۹)، نساء (۸۷)، آلِ عمران (۹)، ہود (۱۰۳)، مرسلات (۳۸) اورسورۂ کہف (۴۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ آپ ان سے کہئے کہ: بلا شبہ پہلے اور پچھلے بھی

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قل: إنَّ متقدِّم الخلق ومتأخِّرهم؛ الجميع سيبعثهم الله ويجمعهم لميقات يوم معلوم قدَّره الله لعباده حين تنقضي الخليقة، ويريد الله [تعالى] جزاءهم على أعمالهم التي عملوها في دار التكليف.