ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 46

وَ کَانُوۡا یُصِرُّوۡنَ عَلَی الۡحِنۡثِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۴۶﴾
اور وہ بہت بڑے گناہ (شرک) پر اڑے رہتے تھے۔ En
اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے
En
اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46) {وَ كَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ:} بہت بڑے گناہ سے مراد شرک ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [لقمان: ۱۳] بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ یعنی ان کے عذاب کا باعث اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوش حالی کو نافرمانی کے لیے استعمال کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک پر اصرار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ قیامت اور پیغمبروں کو بھی جھٹلاتے تھے، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ اور گناہ عظیم پر اڑے [24] ہوئے تھے
[24] حنث عظیم کا مفہوم :۔
حنث سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا تعلق عہد و پیمان یا قسم توڑنے سے ہو۔ اور ایسے گناہ سب کے سب کبیرہ یا عظیم ہی ہوتے ہیں۔ ان میں سر فہرست کفر و شرک ہے اور یہ عہد ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری عہد شکنی انبیاء کی تکذیب ہے کیونکہ سب انبیاء اپنی اولاد اور اپنی امت کو یہ وصیت کرتے رہے کہ اگر میرے بعد کوئی رسول آئے جو سابقہ کتب سماویہ اور انبیاء کی اور ان کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا ہو گا۔ تیسرا گناہ عظیم آخرت سے انکار ہے جس کے متعلق کفار مکہ پختہ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مر گیا اللہ اسے کبھی زندہ کر کے اٹھائے گا نہیں۔ [16: 38]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔