(آیت 3) {خَافِضَةٌرَّافِعَةٌ:} یعنی وہ بڑے بڑے متکبروں کو جو دنیا میں معزز اور بلند مرتبہ سمجھے جاتے تھے، گرا کر جہنم میں پھینک دے گی اور مستضعفین اہلِ ایمان کو جو دنیا میں حقیر اور کم مرتبہ سمجھے جاتے تھے، اٹھا کر جنت کے اعلیٰ مراتب تک پہنچا دے گی۔ مزید دیکھیے سورۂ مطففین (۲۹ تا ۳۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 پستی اور بلندی سے مطلب ذلت اور عزت ہے۔ یعنی اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو یہ بلند اور نافرمانوں کو پست کرے گی، چاہے دنیا میں معاملہ اس سے برعکس ہو،۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ پست [2] کرنے والی، بلند کرنے والی ہو گی
[2] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہو گی تو نظام کائنات درہم برہم ہو جائے گا۔ ستارے جھڑ جائیں گے۔ پہاڑ اڑنے لگیں گے اور اس عالم کی تمام اشیاء زیر و زبر ہو جائیں گی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ متکبر، سرکش اور ظالم لوگوں کے سرنگوں کر دے گی اور وہ ذلیل اور رسوا ہو جائیں گے۔ جس بلند مقام پر اپنے آپ کو وہ سمجھے بیٹھے تھے وہاں سے نیچے پٹخ دیئے جائیں گے اور جو لوگ متواضع، منکسر المزاج اور پاکیزہ سیرت کے مالک ہوں گے جنہیں متکبرین دنیا میں حقیر اور رذیل مخلوق سمجھتے تھے انہیں ہی سربلندی عطا ہو گی اور وہ بلند درجات کے مالک اور اونچے مقام پر فائز ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں