ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 26

اِلَّا قِیۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ﴿۲۶﴾
مگر یہ کہنا کہ سلام ہے، سلام ہے۔ En
ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)
En
صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں تا آیت 27 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26-1وہاں سلام ہی سلام کی آوازیں سننے میں آئیں گی، فرشتوں کی طرف سے بھی اور آپس میں اہل جنت کی طرف سے بھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ وہ بس (ایک دوسرے کو) سلام، سلام [14] ہی کہا کریں گے۔
[14] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کہا کریں گے۔ فرشتے بھی ان کے حق میں سلامتی کی دعا کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر سلامتی نازل ہو گی اور سلام بھیجا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنتی آپس میں جو بات بھی کریں گے وہ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور سلامتی پر مشتمل ہو گی۔ اس کی گفتگو بامعنی، نتیجہ خیز اور معلوماتی ہو گی۔ بڑے پاکیزہ موضوع ان کے زیر بحث آتے رہا کریں گے۔ ان کی مجالس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تہلیل بکثرت ہوا کرے گی اور ان کی ہر گفتگو کسی نہ کسی بھلائی اور ایک دوسرے کی سلامتی کا پہلو لیے ہوئے ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔