ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 11

اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾
یہی لوگ قریب کیے ہوئے ہیں۔ En
وہی (خدا کے) مقرب ہیں
En
وه بالکل نزدیکی حاصل کیے ہوئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12،11){ اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ (11) فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ:} یعنی ایمان لانے میں اور ہر خیر کے کام میں دوسروں سے سبقت لے جانے والوں کا درجہ بھی عام اہلِ ایمان سے زیادہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کا خاص قرب بھی انھی کو حاصل ہو گا اور انھیں ملنے والی جنت اصحاب الیمین کو ملنے والی جنت سے درجے اور نعمتوں میں افضل ہو گی، جیسا کہ اس سے پہلے سورۂ رحمان میں گزرا ہے اور یہاں بھی { عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ } سے اس کی تفصیل آ رہی ہے۔ { جَنّٰتِ النَّعِيْمِ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ یہی لوگ مقرب [7] ہیں
[7] یعنی پیغمبروں پر ایمان لانے میں، ان کے ساتھ حق و باطل کے معرکہ میں، مصائب کے برداشت کرنے میں اور ہر خیر اور بھلائی کے کام میں دوسروں سے سبقت کرنے والے اور آگے نکل جانے والوں کا درجہ عام مومنین صالحین سے بہرحال زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا یہی لوگ اللہ کے مقربین میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے دربار میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے آگے یہی لوگ ہوں گے پھر ان کے بعد دائیں جانب صالحین مومنین اور بائیں جانب کافر و مشرک، سرکش اور خود سر یعنی اہل دوزخ ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔