(آیت 60){ هَلْجَزَآءُالْاِحْسَانِاِلَّاالْاِحْسَانُ:} پہلے احسان کا معنی نیکی اور دوسرے احسان کا معنی اس نیکی کا نیک صلہ یعنی جنت ہے۔ حدیثِ جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کا مطلب یہ بیان فرمایا: [أَنْتَعْبُدَاللّٰهَكَأَنَّكَتَرَاهُ،فَإِنَّكَإِنْلَاتَرَاهُفَإِنَّهُيَرَاكَ][مسلم، الإیمان، باب الإیمان ما ھو؟ …: ۹]”تو اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، پھر اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ یقینا تجھے دیکھ رہا ہے۔“ ظاہر ہے جس شخص نے اپنی زندگی اپنے پروردگار کو ہر وقت اپنے اوپر نگران ہونے کے یقین اور احتیاط کے ساتھ گزاری اس کا بدلا بھی ایسا ہی اچھا اور خوبصورت ہونا چاہیے، جس کا بیان ان آیات میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں حصر کے ساتھ جو فرمایا کہ ”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے؟“ تو اس سے عدل و انصاف کے تقاضے کے مطابق بدلا مراد ہے، ورنہ مشرک اور ظالم تو نیکی کا بدلا برائی سے دیتے ہیں، گویا یہ ایک طرح ان پر طنز بھی ہے۔ کفار کے طرزِ عمل کی مثالوں کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (66،65)، اعراف (۱۹۰) اور سورۂ واقعہ (۸۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
60۔ 1 پہلے احسان سے مراد نیکی اور اطاعت الٰہی اور دوسرے احسان سے اس کا صلہ، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
60۔ کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ هَلْجَزَآءُالْاِحْسَانِاِلَّاالْاِحْسَانُ﴾”احسان کی جزا احسان ہی ہے۔“ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{هل جزاءُ الإحسان إلاَّ الإحسان}؛ أي: هل جزاء مَن أحسن في عبادة الخالق، ونفع عبيدَه إلاَّ أن يُحْسَنَ إليه بالثواب الجزيل والفوز الكبير والنعيم المقيم والعيش السليم؟ فهاتان الجنَّتان العاليتان للمقرَّبين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔