(آیت 4) {عَلَّمَهُالْبَيَانَ:} سکھانے میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، یعنی اس میں بیان کی صلاحیت رکھی، اسے اپنے مطلب کے اظہار کے لیے مختلف زبانوں کے الفاظ وضع کرنے اور ان کے استعمال کا سلیقہ بخشا، جس سے ہزاروں زبانیں وجود میں آئیں اور اسے قدرت دی کہ اپنا ما فی الضمیرنہایت وضاحت اور حسن و خوبی کے ساتھ ادا کر سکے اور دوسروں کی بات سمجھ سکے۔ اپنی اس صفت کی بدولت وہ خیر و شر، ہدایت و ضلالت، ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتیں سمجھتا اور سمجھاتا ہے اور اس کو کام میں لا کر فائدہ اٹھاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳۱): «وَعَلَّمَاٰدَمَالْاَسْمَآءَكُلَّهَا» اور سورۂ روم کی آیت (۲۲): «وَاخْتِلَافُاَلْسِنَتِكُمْوَاَلْوَانِكُمْ» کی تفسیر۔ یہ جملہ بھی لفظ{ ”اَلرَّحْمٰنُ“} کی خبر ہے اور فعل کی صورت میں آنے سے اس میں بھی پچھلے جملوں کی طرح تخصیص پیدا ہو رہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 3 اس بیان سے مراد ہر شخص کی اپنی مادری بولی ہے جو بغیر سیکھے از خود ہر شخص بول لیتا اور اس میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرلیتا ہے، حتیٰ کے وہ چھوٹا بچہ بھی بول لیتا ہے، جس کو کسی بات کا علم اور شعور نہیں ہوتا۔ یہ تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ (پھر) اسے اظہار مطلب [3] سکھایا
[3] اللہ تعالیٰ کا انسان پر مزید احسان یہ ہے کہ اسے قوت گویائی عطا کی جس سے وہ اپنے مافی الضمیر کا پوری طرح اظہار کر سکتا ہے۔ پھر اس قوت گویائی یا قوت بیان کا انحصار اور بہت سی قوتوں پر ہے مثلاً بینائی، سماعت، عقل و فہم، قوت تمیز اور ارادہ و اختیار۔ ان میں سے ہر ایک قوت ایک عظیم نعمت ہے اور اظہار بیان کے لیے یہ سب قوتیں یا ان میں سے اکثر ناگزیر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔