ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 33

یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾
اے جن و انس کی جماعت! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔ En
اے گروہِ جن وانس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں
En
اے گروه جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33){ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ …:مَعْشَرٌ عَشْرٌ} سے {مَفْعَلٌ} کے وزن پر ہے، کثیر التعداد جماعت کو کہتے ہیں، کیونکہ اس میں بہت سے عشرات پائے جاتے ہیں، جن کا شمار یکے بعد دیگرے دہائیوں میں ہوتا ہے۔ { اَقْطَارِ قَطْرٌ} کی جمع ہے، کنارا۔ {سُلْطَانٌ} قدرت اور غلبہ۔ یعنی اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! دنیا میں اگر تم موت سے بچنے کے لیے آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ، مگر تم اللہ تعالیٰ پر غالب آ کر ہی نکل سکو گے، جس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ» ‏‏‏‏ [النساء: ۷۸] تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمھیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے محاسبے اور اس کی گرفت سے بچنے کے لیے اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ…۔ اس سے ملتا جلتا مفہوم اس آیت کا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (7) وَ خَسَفَ الْقَمَرُ (8) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ (9) يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ (10) كَلَّا لَا وَزَرَ (11) اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ الْمُسْتَقَرُّ» [القیامۃ: ۷ تا ۱۲] پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔ اور چاند گہنا جائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے۔ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔ آج کل راکٹ یا خلائی گاڑی کے ذریعے سے چاند پر یا کسی اور کُرے پر جانے کے تجربات ہو رہے ہیں، بعض لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ { لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ } (تم غلبے کے بغیر نہیں نکل سکو گے) سے مراد یہ ہے کہ ان مشینوں کے ذریعے سے { اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ } سے نکلنا ممکن ہے، حالانکہ ان کوششوں کی آیت کے مفہوم کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یہ بے چارے تو زمین و آسمان کے درمیان خلا میں پھر رہے ہیں، آسمان و زمین کے کناروں تک رسائی تو بہت دور ہے۔ پھر وہ ذرۂ بے مقدار، جس کا ایک سانس بھی اس کے اپنے اختیار میں نہیں، وہ اپنی قوت کے ساتھ { اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ } سے نکلنے کی بات کرے تو یہی کہا جا سکتا ہے:
بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

33۔ 1 یہ تہدید بھی نعمت ہے کہ اس سے بدکار، بدیوں کے ارتکاب سے باز آجائے اور محسن زیادہ نیکیاں کمائے۔ (2) یعنی اگر اللہ کی تقدیر اور قضا سے تم بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو تو چلے جاؤ لیکن یہ طاقت کس میں ہے؟ اور بھاگ کر آخر کہاں جائے گا کون سی جگہ ایسی ہے، جو اللہ کے اختیار سے باہر ہو، بعض نے کہا کہ یہ میدان محشر میں کہا جائے گا، جبکہ فرشتے ہر طرف سے لوگوں کو گھیر رکھے ہونگے۔ دونوں ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل (کر بھاگ) سکتے ہو [22] تو بھاگ دیکھو! تم انتہائی [23] زور کے بغیر نکل نہیں سکو گے۔
[22] ﴿نفذ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿نفذ﴾ بمعنی آر پار نکل جانا۔ جیسے لوہے کی سلاخ کے ایک سرے کو آگ پر گرم کیا جائے تو تھوڑی دیر بعد حرارت دوسرے سرے تک از خود جا پہنچتی ہے۔ اور نفاذ بمعنی قوت سے کسی چیز کا اجراء ہونا، جیسے کہتے ہیں کہ اس ملک میں کل سے فلاں فلاں قانون نافذ ہو چکا ہے اور بمعنی چیز کا بسرعت داخل ہونا اور آر پار ہو جانا۔ جیسے برقی رو آر پار نکل جاتی ہے۔
[23] ﴿سُلْطٰنٍ بمعنی غلبہ اور شدید قوت بھی اور اتھارٹی لیٹر یا پروانۂ راہداری بھی۔ اب اگر اس آیت کا اطلاق اس مادی دنیا پر کیا جائے، تو مطلب یہ ہو گا کہ زمین و آسمان کے کناروں تک پہنچنے کے لیے انتہائی قوت کی ضرورت ہے، جیسے انسان چاند پر، جو زمین کا سب سے قریبی سیارچہ ہے، پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے اور اس کے لیے انتہائی قوت اور بل بوتے کی ضرورت ہے۔ اور اتنا بل بوتا تم میں کبھی نہیں آسکتا کہ تم ﴿اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کو پھاند سکو۔ اور اگر تم چاہو تو زور لگا کے دیکھ سکتے ہو۔ اور اگر اس آیت کا ربط سابقہ آیت یعنی حساب کتاب سے ملایا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ حساب کتاب اور اللہ کی گرفت سے تم میں سے کوئی شخص بھی ادھر ادھر بھاگ کر بچ نہیں سکتا الا یہ کہ کسی کو جنت کا پروانہ مل جائے۔ اس صورت میں اسے بھاگنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو انھیں ان کی کمزوری و بے بسی اور اپنی کامل طاقت، اپنی مشیت اور قدرت کی تنفیذ سے آگاہ کرے گا، ان کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ یٰمَعْشَرَ الْ٘جِنِّ وَالْاِنْ٘سِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یعنی اے جنوں اور انسان کی جماعت! اگر تمھیں کوئی راستہ اور کوئی سوراخ ملتا ہے جہاں سے تم اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اس کی سلطنت سے نکل بھاگو ﴿ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰ٘نٍ تو تم نکل بھاگو لیکن تم قوت، طاقت اور کامل قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ قوت انھیں کہاں سے حاصل ہو،حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی اور موت کا، اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص کلام نہیں کر سکے گا اور مدھم سی آوازوں کے سوا تم کچھ نہیں سن سکو گے، اس مقام پر بادشاہ اور غلام، سردار اور رعایا، غنی اور محتاج سب برابر ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إذا جمعهم الله في موقف القيامة؛ أخبرهم بعجزهم وضَعْفهم وكمال سلطانِهِ ونفوذ مشيئتِهِ وقدرتِهِ، فقال معجِّزاً لهم: {يا معشر الجنِّ والإنسِ إنِ اسْتَطَعْتُم أن تَنفُذوا من أقطارِ السمواتِ والأرضِ}؛ أي: تجدون مسلكاً ومنفذاً تخرجون به عن ملك الله وسلطانه، {فانفُذوا لا تَنفُذونَ إلاَّ بسلطانٍ}؛ أي: لا تخرجون منه إلاَّ بقوَّةٍ وتسلُّطٍ منكم وكمال قدرةٍ، وأنَّى لهم ذلك وهم لا يملكون لأنفسهم نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً؛ ففي ذلك الموقف لا يتكلَّم أحدٌ إلاَّ بإذنه، ولا تسمعُ إلاَّ همساً، وفي ذلك الموقف يستوي الملوك والمماليك والرؤساء والمرؤوسون والأغنياء والفقراء.